اقوام متحدہ نے یمن میں حوثی گروپ کی جانب سے زیرحراست اپنے ایک اہلکار کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حراست میں موجود دیگر اقوام متحدہ اور انسانی امداد سے وابستہ کارکنوں کو بھی فوری طور پر رہا کیا جائے۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ زیرحراست اہلکاروں کی فوری اور محفوظ رہائی کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس متعدد مرتبہ تمام زیرحراست اقوام متحدہ اور انسانی امدادی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
عالمی ادارے کے مطابق رہا ہونے والا اہلکار ورلڈ فوڈ پروگرام سے وابستہ تھا۔ ڈبلیو ایف پی نے بھی اہلکار کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ مل گیا ہے۔
ڈبلیو ایف پی نے اہلکار کی حراست کو ’’من مانی حراست‘‘ قرار دیا اور اس کی رہائی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں اب بھی متعدد انسانی امدادی کارکن حوثیوں کی تحویل میں ہیں اور ان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ انسانی امدادی کارکنوں کی گرفتاری سے یمن میں پہلے ہی سنگین انسانی بحران سے متاثرہ لاکھوں افراد تک امداد پہنچانے کی کوششیں متاثر ہورہی ہیں۔ عالمی ادارہ حوثی حکام پر زور دے رہا ہے کہ زیرحراست تمام امدادی کارکنوں کو بلا تاخیر رہا کیا جائے۔
یمن میں حوثیوں اور حکومت کے درمیان جاری تنازع کے باعث ملک میں انسانی امداد کی ضرورت بدستور شدید ہے، جبکہ امدادی اداروں کو اپنے عملے کی سلامتی اور امدادی سرگرمیوں کے تسلسل کے حوالے سے مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔