وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) امیگریشن کراچی نے کارروائی کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے شبہے میں متحدہ عرب امارات جانے والی خاتون مسافر کو آف لوڈ کردیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق خاتون مسافر ایمان پاکستانی پاسپورٹ اور متحدہ عرب امارات کے ویزے پر سفر کر رہی تھی، تاہم امیگریشن کلیئرنس کے دوران اس کے سفر کے مقصد اور دیگر معاملات پر شکوک پیدا ہونے پر اسے مزید جانچ پڑتال کے لیے روک لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ تفصیلی انٹرویو کے دوران خاتون کے بیان سے مبینہ طور پر اس کے سفر کا تعلق جنسی استحصال سے سامنے آیا۔
خاتون نے ایف آئی اے حکام کو بتایا کہ اس سے قبل بھی دبئی میں مقیم حیدر نامی شخص نے اسے متحدہ عرب امارات بھیجا تھا، جہاں اس کے لیے رہائش اور ایک کلب میں ڈانسر کے طور پر کام کا انتظام کیا گیا تھا، خاتون کے مطابق مذکورہ شخص اس کی آمدن کا 50 فیصد وصول کرتا تھا جبکہ موجودہ سفر کے انتظامات بھی اسی شخص نے کیے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق خاتون کے موبائل فون سے ملنے والی معلومات میں مبینہ ایجنٹ کی جانب سے ایئرپورٹ پر اس کی نگرانی اور رہنمائی کے لیے دیگر افراد کو متحرک کرنے کے شواہد بھی ملے تاہم خاتون کی نشان دہی پر متعلقہ افراد موقع پر موجود نہیں ملے۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ شخص اسے دبئی جانے اور مبینہ جسم فروشی پر مجبور کرنے کے لیے دھمکیاں دے رہا تھا جبکہ انکار کی صورت میں اسے اور اس کی والدہ کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
ایف آئی اے نے خاتون کو آف لوڈ کرکے مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کردیا ہے، ایف آئی اے کے مطابق معاملے میں مبینہ سہولت کاروں اور دیگر ملوث عناصر کے کردار کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔