کے پی میں ایمر جنسی لگانے کی بازگشت ہے۔ مجھے نہیں معلوم جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوںگے ایمر جنسی لگ چکی ہوگی یا نہیں۔ بہر حال یہ کہا جا رہا ہے کہ اصل اختلاف دہشت گردی کے خلاف پالیسی کے حوالے سے ہے۔ورنہ کسی بھی لانگ مارچ سے نہ آج تک حکومت گئی ہے نہ ہی آج حکومت کو لانگ مارچ سے کوئی خطرہ ہے۔
اصل اختلاف دہشت گردی پر ہے۔ میں نے دونوں طرف سے اختلاف سمجھنے کی کافی کوشش کی ہے۔ تحریک انصاف کہتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی بند کمروں میں نہ بنائی جائے۔ جب کہ دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ ہمارے تحریک انصاف کی کے پی حکومت سے دہشت گردی کے حوالے سے چند بنیادی سوال ہیں جن کا وہ جواب دینے کے بجائے بات کو کنفیوژ کر رہے ہیں۔ یہ سادہ بات ہے کوئی پیچید معاملہ نہیں ہے۔
وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ آج تحریک انصاف سے سخت سوال پوچھنے شروع کیے تو ان کی طرف سے ایک ہی راگ الآپا جا رہا ہے، وہ یہ کہ ’’ہمیں دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے نہیں دی گئی۔‘‘ تحریک انصاف سے چند بنیادی سوالات ہیں جن کا اگر وہ جواب دے دیں تو یہ بات مانی جا سکتی ہے کہ واقعی ان کے ساتھ ریاست یک طرفہ زیادتی کر رہی ہے اور تحریک انصاف سچی ہے۔ وہ سوال یہ ہیں:
گزشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا میں آپ کی حکومت رہی، وفاق میں بھی آپ اقتدار میں رہے۔ آپ کو دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے سے کس نے روکا؟ نیشنل ایکشن پلان پر عمل سے کون سے پالیسی روک رہی ہے؟ اپیکس کمیٹی میٹنگز بلانے سے کونسی پالیسی روک رہی ہے؟
دہشت گرد کو دہشت گرد کہنا، افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کی مذمت کرنا، کالعدم ٹی ٹی پی کی کھل کر مذمت کرنا اور انھیں دہشت گرد کہنا، پاکستان فوج اور عوام پر حملوں کے خلاف کھل کر افواج کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے آپ کو کس پالیسی کی ضرورت ہے؟
حالیہ دنوں میں افغانستان کی جانب سے کوہاٹ کے علاقے میں ڈرون حملے کیے گئے۔ آپ کی صوبائی حکومت نے ان حملوں کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کی؟ کونسی پالیسی آپ کو روکتی رہی؟ کوہاٹ کے پی میں ہے۔ کیاآپ کو افغانستان کی مذمت نہیں کرنی چاہیے تھی؟
افغان سرزمین سے پاکستان کی سرحدی چوکیوں اور فوجی جوانوں پر فائرنگ ہوتی ہے، دراندازی ہوتی ہے اور دہشت گردوں کی براہِ راست یا بالواسطہ معاونت کی جاتی ہے۔ آپ نے آج تک کتنی مرتبہ افغان رجیم کا نام لے کر ان سرحدی خلاف ورزیوں پر احتجاج یا مذمت کی؟ اس کے لیے کس ’’پالیسی‘‘ کی ضرورت ہے؟
آپ کے اپنے صوبے میں دہشت گردی کے لیے معاون غیرقانونی معیشت جیسا کہ بھتہ خوری، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ 13 سال میں آپ نے کون سے عملی اقدامات کیے اور اگر کیے تو وہ بتائیں؟خود کش حملوں میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔ جن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ کس کی ملکیت ہیں؟ کس نے بیچی ہیں؟ تحریک انصاف کی کے پی حکومت نے صوبائی سطح پر اس پر ایک پالیسی بنانی ہے۔ یہ صوبائی معاملہ ہے۔ اس میں کونسی پالیسی کی ضرورت ہے۔
دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیادوں پر اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی کے پی حکومت نے ان فورسز سے کتنی دفعہ ان کی پوسٹوں پر جا کر ان سے اظہار یکجہتی کیا؟اور تو اور خیبر پختونخوا کے عوام جو خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں، تحریک انصاف کی کے پی حکومت نے کتنی دفعہ جا کر ان یتیموں کے سر پردست شفقت رکھا؟
دہشت گردی کے خلاف ریاست پاکستان کے بیانیے کو تحریک انصاف کی کے پی حکومت مختلف ہتھکنڈوں اور طریقوں سے کنفیوز کیوں کرتی ہے۔ خوارج کو خوارج کیوں نہیں کہتے اور ان خوارج کا نام لے کر ان کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ اس کے لیے کونسی پالیسی چاہیے؟
اپنے ہی صوبے میں لاء اینڈ آرڈر اور گورننس کو بہتر کرنے کے لیے ہر صوبہ اپنی پولیس اور متعلقہ اداروں کی استعداد کار کو بڑھاتا ہے۔ ڈیٹا اور حقائق بتاتے ہیں کے آپ نے تیرا سالوں میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے؟ سابقہ فاٹا کے اضلاع میں پولیس اسٹیشنز قائم کرنے میں کیا رکاوٹ ہے۔ صوبے میں معاشی پہیے اور معشیت، ڈویلپمنٹ، بزنس دوست ماحول کے فروغ کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جس سے صوبے کے جوانوں کو نہ صرف روزگار ملتا بلکہ انکا رحجان بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے موذی مرض سے دور جاتا؟
اس بات میں کوئی شک نہیں کے آج اگر تحریک انصاف کی کے پی حکومت کا ان سنجیدہ سوالوں کی بنیاد پر آڈٹ کیا جائے تو ان کے پاس کسی بھی سوال کا ٹھوس جواب نہیں ہے، صرف کھوکھلے نعرے، بہتان تراشی، بے بنیاد الزامات اور شکایتیں ہیں جو اپنی ناکامی چھپانے کے لیے آپ ہر جگہ تھوپ دیتے ہیں۔ اِسی لیے اب ان کھوکھلی باتوں سے مزید کام نہیں چل سکتا کیونکہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے صوبے میں عملی اقدامات کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ اس ضمن میں کچھ حقائق دیکھنا ضروری ہیں۔ .صوبے کا گزشتہ دو سال کا ڈیٹا: تقریباً 6,200 دہشت گردی کے واقعات، 1,200 شہادتیں اور افغان شہریوں کی جانب سے 37 خودکش حملے کیے گئے۔ صرف رواں سال 14 خودکش حملے ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے ۔
خیبر پختونخوا پولیس کی مجموعی نفری تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار ہے، جس میں سے 13 ہزار وی آئی پی پروٹوکول پر تعینات ہیں۔ جب کہ پولیس کی 17 ہزار اسامیاں آج بھی خالی ہیں۔ ایسے صوبے میں جہاں دہشت گردی میں پولیس اہم ترین رول ادا کر رہی ہے۔ وہاں پولیس پر ہی سب سے کم توجہ دی گئی ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں CTD کا نظام تقریباً غیر فعال ہے۔ پورے CTD کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں اور اس کی مجموعی نفری صرف 3,300 کے قریب ہے۔ صرف 25 مستقل ہیں جب کہ باقی کنٹریکٹ ملازمین ہیں۔ پولیس ایکٹ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر کے پولیس کی استعداد کار کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ سوال یہ بھی ہے کہ سی ٹی ڈی کو کیا غیر فعال اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنا ہی نہیں چاہتے۔
پولیس نے دہشت گردوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس چوکیوں کی تعمیرِ نو اور انھیں مضبوط بنانے کے لیے 42 ارب روپے مانگے، لیکن خیبر پختونخوا حکومت نے صرف 1.2 ارب روپے جاری کیے۔ رقم جاری نہ ہونے کی وجہ سے روزانہ لوگ جانیں گنوا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوہاٹ اور پشاور میں ہونے والے ڈرون حملے اور پاکستانی سیکیورٹی پوسٹوں پر TTA کے حملے حقیقت نہیں ہیں؟ جب دہشت گرد خود ڈرون استعمال کر رہے ہیں تو فوج اپنے دفاع کے لیے ڈرون کیوں استعمال نہیں کر سکتی؟
کیا تحریک انصاف کے ذمے داران نے کبھی خود فوجی چوکیوں کا دورہ کیا ہے؟کیا انھوں نے کبھی شہداء کے خاندانوں سے ملاقات کی ہے؟ ضم شدہ اضلاع میں کتنی عدالتیں اور پولیس تھانے مکمل طور پر فعال ہیں؟ کتنے ججز اور پولیس اہلکار وہاں اپنی ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں؟ آپ نے دہشت گردی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کتنے اپیکس کمیٹی اجلاس منعقد کیے ہیں؟ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپ کی اپنی پالیسی کیا ہے؟