فرانس میں اسکولوں کے خراب حالات پر لاکھوں افراد کا احتجاج، تقریباً 500 گرفتار

فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق منگل کو ملک بھر میں تقریباً 2 لاکھ 56 ہزار افراد نے احتجاج میں شرکت کی


ویب ڈیسک October 07, 2026

پیرس: فرانس میں سرکاری ہائی اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں، سہولیات کی کمی اور اساتذہ کی قلت کے خلاف جاری طلبہ احتجاج منگل کو پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہوگیا، جس کے بعد ملک بھر میں تقریباً 500 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

فرانس میں یہ احتجاج ستمبر کے آخر میں شروع ہوا تھا، جب 15 سے 17 سال کی عمر کے طلبہ نے سیکڑوں ہائی اسکولوں کے داخلی راستے بند کرکے بہتر تعلیمی سہولیات کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں والدین، اساتذہ اور یونین کارکن بھی احتجاجی تحریک میں شامل ہوگئے۔

فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق منگل کو ملک بھر میں تقریباً 2 لاکھ 56 ہزار افراد نے احتجاج میں شرکت کی، جبکہ یونینوں نے مظاہرین کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار تک بتائی ہے۔ مظاہروں کے دوران پولیس اور احتجاجی افراد کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق منگل کو کم از کم 488 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ سکیورٹی فورسز کے 43 اہلکار زخمی ہوئے۔ احتجاج کی صورتحال کے باعث صدر ایمانوئل میکرون نے ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں اعلیٰ حکام اور وزرا سے صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع تھا۔

طلبہ، یونینوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے پولیس پر طاقت کے غیر متناسب استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔ پیر کو ایک نوجوان اس وقت اپنا ہاتھ کھو بیٹھا جب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک اسٹن گرینیڈ استعمال کیا۔

ایک اور واقعے میں پیرس کے شمال مغربی علاقے میں ایک 14 سالہ طالب علم کے چہرے پر آنسو گیس کا گرینیڈ انتہائی قریب سے لگا، جس کے نتیجے میں اس کے کئی دانت ٹوٹ گئے۔ اس واقعے پر ایک پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے فردِ جرم کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی فرانس میں ہونے والے احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے ملک میں پیدا ہونے والی بے چینی کو ’’بڑے پیمانے پر نقل مکانی‘‘ اور اسلام سے جوڑا۔ ٹرمپ کا یہ بیان ان کی عالمی سطح پر دائیں بازو کے بیانیے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

فرانس میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین بہتر تعلیمی ماحول، اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اساتذہ کی کمی دور کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کو اب احتجاج کے ساتھ ساتھ پولیس کارروائی پر اٹھنے والے سوالات کا بھی سامنا ہے۔