کیمسٹری کا نوبیل انعام فرانس اور جاپان کے سائنس دانوں نے جیت لیا

کیگن اور سوائی کو ایسیمیٹرک آرگینک سنتھیسس میں نان لائنئر ایفیکٹس اور آٹوکیٹالیسس کی دریافت پر اس اعزاز سے نوازا گیا


ویب ڈیسک October 07, 2026
(تصویر: نوبیل پرائز ویب سائٹ)

سال 2026 کا نوبیل انعام برائے شعبہ کیمسٹری فرانس کے سائنس دان ہنری بی۔ کیگن اور جاپان کے کینسو سوائی نے جیت لیا ہے۔

بدھ کے روز رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز کے اعلان کے مطابق دونوں سائنس دانوں کو مالیکیولز کی پراسرار آئینہ نما ساختوں کو سمجھنے اور کیمیائی تعاملات میں مطلوبہ ساخت پیدا کرنے کے طریقے دریافت کرنے پر یہ اعزاز دیا گیا۔ یہ دریافت بے شمار ادویات بنانے میں مددگار ثابت ہوئی اور جدید طِب میں انقلابی تبدیلی لے کر آئی۔

بہت سے مالیکیولز ایسی دو شکلوں میں موجود ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے آئینہ دار تو ہوتے ہیں لیکن مکمل طور پر ایک جیسے نہیں ہوتے۔ انہیں انسانی دائیں اور بائیں ہاتھ کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کیمیائی مالیکیول کی یہ دونوں شکلیں مختلف خصوصیات رکھ سکتی ہیں۔

مثال کے طور پر کاروون (Carvone) کے ایک آئینہ نما مالیکیول سے پودینے جیسی خوشبو آتی ہے جبکہ دوسری شکل میں زیرہ جیسی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق زندگی بھی مالیکیولز کی ان مخصوص شکلوں کو ترجیح دیتی ہے۔ انسانی جسم میں موجود پروٹینز زیادہ تر بائیں ساخت رکھنے والے بنیادی اجزا سے بنتے ہیں، جبکہ ڈی این اے دائیں سمت میں مڑا ہوا ہوتا ہے۔

یہ دریافت طب کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوئی ہے کیونکہ ایک ہی مالیکیول کی مختلف آئینہ نما شکلیں جسم میں مختلف انداز سے ردِعمل دے سکتی ہیں۔ ادویات تیار کرتے وقت سائنس دان اس مخصوص شکل کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں جو بیماری کے علاج میں مؤثر ہو۔

ہینری کیگن اور کینسو سوائی نے ایسے طریقے دریافت کیے جن کے ذریعے کیمیائی تعاملات کو اس انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے کہ مطلوبہ آئینہ نما مالیکیول زیادہ مقدار میں تیار ہو۔

نوبیل کمیٹی کے رکن پیٹر سومفائی نے ان تحقیقات کو نامیاتی کیمسٹری کے انتہائی دلچسپ تجربات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں سائنس دانوں کی دریافتوں نے مالیکیولر چیرالٹی کے بارے میں سائنسی سمجھ کو تبدیل کر دیا ہے۔

یہ تحقیق جدید ادویات کی تیاری اور فارماسیوٹیکل سائنس کی ترقی میں اہم بنیاد فراہم کرنے والی دریافتوں میں شمار ہوتی ہے۔