قومی ٹی20 ٹیم کے کپتان صاحبزادہ فرحان نے کہا ہے کہ سری لنکا کے خلاف سیریز کے منتخب 15 رکنی اسکواڈ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں جبکہ محمد رضوان اور بابراعظم کسی بھی وقت ٹیم میں واپسی کر سکتے ہیں۔
قومی ٹی20 ٹیم کے کپتان صاحبزادہ فرحان نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ پاکستان کی کپتانی کا موقع ملنا ان کے لیے اعزاز ہے، اپنی اور ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے پرامید ہوں، کبھی کپتان بننے کا نہیں سوچا تھا، بابر اعظم اور محمد رضوان کسی بھی وقت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کم بیک کرسکتے ہیں۔بطور کپتان انہیں اسکواڈ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔
راولپنڈی میں پری سیریزپریس کانفرنس کے دوران صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ کپتانی کے ساتھ اضافی دباؤ ضرور ہوتا ہے، تاہم وہ میدان میں قائدانہ کردار ادا کرنے اور اپنی کارکردگی سے مثال قائم کرنے کی کوشش کریں گے، ساتھی کھلاڑیوں کو مثبت پیغام دینے کے لیے کپتان کا انفرادی کارکردگی میں بہتر ہونا بھی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی خود کو قومی ٹیم کا کپتان بنتے نہیں سوچا تھا، تاہم ان کے والد ہمیشہ کہتے تھے کہ وہ ایک دن پاکستان کے کپتان بنیں گے، کپتان بننے کے بعد انہیں پختہ یقین ہوگیا کہ والدین کی دعاؤں میں بہت اثر ہوتا ہے۔
صاحبزادہ فرحان نے سابق کپتان سرفراز احمد کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی کپتانی سے بہت متاثر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بلاخوف و خطر بہتر کرکٹ کھیلنا ہوگی اور خواہش ہے کہ ٹاپ آرڈر جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تقاضوں اور مائنڈ سیٹ کے مطابق بیٹنگ کرے۔
بابراعظم اور محمد رضوان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دونوں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں اور وہ کسی بھی وقت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کم بیک کرسکتے ہیں اور موجودہ اسکواڈ پر بھی انہیں مکمل اعتماد ہے۔
اسکواڈ کے انتخاب سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کا کام ٹیم تشکیل دینا ہے، انہیں 15 ارکان پر مشتمل بہترین اسکواڈ دیا گیا ہے، تاہم بطور کپتان اس اسکواڈ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔
صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف سیریز کے بعد ٹی ٹوئنٹی میچز کی تعداد کم ہے، اس لیے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا اہم ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ مستقبل میں کپتانی ملنے یا نہ ملنے کے بارے میں نہیں سوچ رہے بلکہ ان کی توجہ موجودہ ذمہ داری پر ہے۔
قومی ٹیم کے کپتان نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلنے کے حوالے سے کہا کہ انہیں یہاں کھیل کر ہمیشہ بہت مزہ آتا ہے، کرکٹ کیریئر کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا اور کانٹوں پر چلنا آتا ہے، اس لیے وہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔