کینیڈا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ، مصنفہ اور مترجم این کارسن نے 2026 کا نوبیل انعام برائے ادب اپنے نام کرلیا۔
سوئیڈش اکیڈمی نے جمعرات کو انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ این کارسن کی تخلیقات نے کلاسیکی ادب کے ساتھ تخلیقی مکالمے کے ذریعے عصری ادب کے لیے نئی صورتیں متعارف کرائی ہیں۔
انہیں جدید ادب میں منفرد اسلوب اور کلاسیکی ادبی روایت کو نئے انداز میں پیش کرنے پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ ان کے کام میں شاعری، نثر، مکالمے اور ترجمے کو اس انداز میں یکجا کیا جاتا ہے کہ روایتی ادبی اصناف کی حدود دھندلا جاتی ہیں۔
76 سالہ این کارسن 1950 میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پیدا ہوئیں۔ وہ قدیم یونانی ادب کی ماہر ہیں اور کلاسیکی متون کے تراجم کے ساتھ اپنی تخلیقی تحریروں کے لیے بھی پہچانی جاتی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات میں شاعری، ادبی تنقید، ڈرامائی تحریریں اور شعری ناول شامل ہیں۔
ان کی نمایاں تصانیف میں 1998 میں شائع ہونے والی کتاب ’آٹو بائیوگرافی آف ریڈ‘ شامل ہے جس میں قدیم یونانی داستانوں کو نئے ادبی انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کا 2019 کا تخلیقی اسٹیج ڈراما ’نورمہ جین بیکر آف ٹرائے‘ بھی خاصا معروف ہے.
جس میں ٹرائے کی ہیلن کی داستان کو معروف امریکی اداکارہ مارلن منرو کی زندگی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
نوبیل انعام کے اعلان کے وقت کارسن آئس لینڈ میں تھیں۔ سوئیڈش اکیڈمی کی سیکریٹری انگرڈ کارل برگ کے مطابق انہیں جب انعام کی اطلاع دی گئی تو وہ حیران رہ گئیں۔
اس اعزاز کے تحت انہیں ایک کروڑ 20 لاکھ سوئیڈش کرونا یعنی تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر دیے جائیں گے۔ کارسن کی کامیابی کے ساتھ وہ ان نامور ادیبوں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہیں جنہوں نے عالمی ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔