مصنوعی ذہانت، فوائد اور خطرات

اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار انسانوں کی سوچنے،سمجھنے،تحقیق کرنے،تخلیقی صلاحیت میں نکھار اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو گہنا سکتا ہے


عبد الحمید October 09, 2026

جولائی2026میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹوں میں کہا گیا کہ چین کے ایک بحری جہاز میں ایٹمی دھماکے کے لیے مواد اور مشینری موجود ہے۔بحری جہاز چین کی طرف رواں دواں تھا۔AIکی تیار کردہ یہ رپورٹ ملتے ہی امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایک ہائی لیول ہنگامی اجلاس ہوا۔فیصلہ ہوا کہ چین کے اس بحری جہاز پر امریکی لڑاکا و بمبار طیاروں کی چھتری تلے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اتر کر قبضہ کیا جائے اور اس جہاز کو ہرگز ہرگز ایران نہ پہنچنے دیا جائے۔

حملہ شروع ہونے سے ذرا پہلے ایک فوجی افسر نے مشورہ دیا کہ یہ انٹیلی جنس رپورٹ مصنوعی ذہانت کی بنائی ہوئی ہے،کیا ہی اچھا ہو کہ حملہ کرنے سے پہلے اسے دوسرے ذرائع سے چیک کروا لیا جائے۔جب دوسرے ذرائع سے چیک کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ AIکی تیار کردہ یہ رپورٹ محض مفروضوں پر مبنی ہے جب کہ اصل میں چین کے جہاز کے اوپر کوئی ایٹمی مواد موجود نہیں ۔ممکنہ فوجی ایکشن فوری طور پر روک دیا گیا ورنہ خلیج کے علاقے میں امریکا اور چین دو بڑی طاقتور قوتیں متحارب ہو جاتیں۔جس افسر نے AIکی رپورٹ کو دوسرے ذرائع سے تصدیق کروانے کا مشورہ دیا تھا۔

اس نے بعد میں کہا کہ اس سے پہلے عراق میں AI کی تیار کردہ ایک رپورٹ پر عمل درآمد کرتے ہوئے چند عراقیوں کو Mistaken identityکی وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا اور جب میتوں کا معائنہ ہوا تو پتہ چلا کہ AI نے غلط رپورٹ بنائی تھی۔یاد رہے کہ امریکا و اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے پہلے دن جہاں سپریم لیڈر خامنہ ای اور ان کے متعدد اہلِ خانہ اور ساتھی شہید ہوئے وہیںAIکی تیارکردہ ایک اور رپورٹ کی بنیاد پر جنوبی ایران میں میناب کے علاقے میں ایک گرلز اسکول کو اسلحہ ڈپو سمجھتے ہوئے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم165 معصوم بچیاں شہید ہوئیں۔

AIکی استعدادِ کار طبعی طور پر انسانی استعدادِ کار سے کئی گنا زیادہ ہے۔یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو کمپیوٹر اور مشینوں کو حاصل شدہ معلومات اور مہیا کردہ ڈیٹا کو بہت سرعت سے پراسس کرکے فیصلے اور تجاویز پیش کر دیتی ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ AIکی استعداد کار حیران کن ہے۔اس کی ترقی کی رفتار بھی بہت ہی تیز ہے،لیکن ماہرین کی رائے میں اس کے ساتھ ہی اس سے پیدا ہونے والے خطرات بھی ان گنت ہیں۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی تیز ترین ترقی انسانیت کے لئئے فوائد سے کہیں زیادہ خطرات کا موجب بن سکتی ہے۔ان خطرات میں سے سب سے پہلے روزگار کا خاتمہ یا اس میں بہت حد تک کمی اور بے روزگاری میں ممکنہ اضافہ ہے۔

AIبہت سے کام انسانوں کے مقابلے میں بہت سرعت اور قدرے کم لاگت میں انجام دے سکتی ہے جس سے بعض شعبوں میں بے روزگاری بڑھ سکتی ہے ان میں موجودہ Labour intensiveڈیپارٹمنٹس خصوصی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔AIبہت سے ایسے کام جیسے پڑھنے،سمجھنے،تراجم کرنے، اور کسٹم کیئر کو آٹو میٹ کر سکتی ہے۔اس سے یہ شدید خطرہ ہے کہ ان شعبوں سے وابستہ ملازمتیں ختم کرکے AIکے حوالے کر دی جائیں۔اگر ایسا ہوا تو بے روزگاری میں بہت اضافہ ہوگا۔

ایڈوانسڈ اے آئی کو کمپیوٹنگ اور ڈیٹا analysis کے لیے بہت خطیر رقم یعنی فنڈز اور غیر معمولی ریسورسز درکار ہوتے ہیں۔فنڈز اور ری سورسز کی اس حد تک فراہمی بہت ہی امیرافراد اور بہت بڑی کمپنیوں کے ہی بس میں ہو سکتی ہے۔اس لیے بہت سے عام کمپیوٹر ماہرین وہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے جو اہلِ ثروت افراد اور کمپنیاں حاصل کر سکتی ہیں۔اس سے امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھ جاتا ہے ۔AIکلوننگ کے عمل کے ذریعے جعلی تصاویر،ویڈیوز،آوازیں اور خبریں بنا سکتی ہے۔اس طرح بنائی گئی اشیاء ہو بہو اصل لگتی ہیں اور ہر خاص و عام کے لیے ان کی اصلیت جانچنا تقریباً ناممکن ہے۔حقیقت کچھ ہوتی ہے اور تصویر و آواز کو کلون کر کے اصلی کی جگہ پیش کر دیا جاتا ہے۔

اس سے کئی گمبھیر مسائل پیدا ہوتے ہیں اور معاشرہ پراگندہ ہو سکتا ہے۔کسی بھی شخص کے چہرے اور آواز کو مصنوعی طور پر تبدیل کر کے جعلی مواد تیار کیا جا سکتا ہے،جس سے افراد اور معاشرے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔کسی بھی شخص کی ذاتی زندگی میں ہزاروں ایسی باتیں پنہاں ہوتی ہیں جو اگر منظرِ عام پر آ جائیں تو اس شخص کی شخصیت لوگوں کے سامنے مسخ ہو کر رہ جائے۔اس سے گھر کے اندر کی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے اور ذاتی زندگی میں آزادی بھی چھن جاتی ہے۔انسان کی پرائیویسی کو درپیش یہ بہت بڑا چیلنج ہے جس کا مداوا ازبس ضروری ہے۔

اے آئی کا غلط استعمال مجرموں کو سائبر جرائم پر اُکسا سکتا ہے۔مجرم اے آئی کو بنکنگ فراڈ اور دیگر آن لائن جرائم کو زیادہ مہلک اور موئثر بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔اے آئی کو ایسے ہتھیاروں میں استعمال کیا جا سکتا ہے جو انسانی مداخلت کے بغیر اہداف کی شناخت کر کے ان پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ چین کے جہاز اور میناب گرلز اسکول پر حملہ اے آئی کے غلط طور پر شناخت کردہ اہداف کا نتیجہ تھے۔مستقبل میں بہت سے طاقتور اے آئی نظام ایسے خطرناک فیصلے کرسکتے ہیں جنھیں انسانوں کے لیے سمجھنا مشکل ہو،ایسے میں نہ جانے کیا ہو،کوئی نہیں جانتا۔اگر اے آئی کو متعصبانہ یا نامکمل ڈیٹا مہیا کیا جائے تو اس کے فیصلوں میں بھی تعصب پیدا ہو سکتا ہے۔

اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار انسانوں کی سوچنے،سمجھنے،تحقیق کرنے،تخلیقی صلاحیت میں نکھار اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو گہنا سکتا ہے۔طلباء اے آئی سے کام اورAssignmentsکروا سکتے ہیں جس سے ان کی محنت کرنے کی عادت اور تحقیقی صلاحیت میں بہت کمی آ سکتی ہے۔انسان اے آئی کے ساتھ کام کرتے کرتے اسی کے ہو کر رہ سکتے اور جذباتی طور پر وابستہ ہو سکتے ہیں۔اس سے انسانوں کے درمیان باہمی میل جول،تعلقات اور سماجی رابطے متاثر ہو سکتے ہیں۔اگرAI کے کسی فیصلے سے بہت زیادہ نقصان ہو جائے تو یہ طے کرنا مشکل ہوگا کہ ذمے داریAI بنانے والے،استعمال کرنے والے یا ادارے میں سے کس پر عائد ہوتی ہے۔مصنوعی ذہانت کو بڑے پیمانے پر نگرانی،پروپیگنڈا اور عوامی رائے پر اثر انداز ہونے اور معلوماتی جنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

موسیقی،ادب،فن،ِ صحافت اور دیگر تخلیقی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے تخلیق کاروں کے معاشی اور پیشہ ورانہ مواقع بہت کم ہو سکتے ہیں۔اگر مستقبل میں اے آئی انسانی صلاحیتوں سے بہت آگے نکل جائے اور اس کے مقاصد انسانی مفادات سے ہم آہنگ نہ ہوں تو اسے قابو میں رکھنا ایک بڑا عالمی چیلنج ہو گا۔اسی لیے مصنوعی ذہانت کی بے لگام تیزی سے ترقی کے خلاف اس کے اندر کے حلقے سے آوازیں اُٹھنی شروع ہو گئی ہیں۔

بل گیٹس نے ابھی چند دن پہلے کہا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کی یونہی ترقی جاری رہی تو ایک ارب لوگ اس کی وجہ سے جان سے جا سکتے ہیں۔ گوگل میںمصنوعی ذہانت کے شعبے کے بانی جیفری ہنٹن اس شعبے سے الگ ہو گئے ہیں اور انھوں نے انسانیت کو اسی خطرے سے بہت تفصیل سے آگاہ کیا ہے۔اسی شعبے کے ایک اور بانیYushua Bengio نے بھی واشگاف الفاظ میں اس کی تیز ترین ترقی سے پیدا ہونے والے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔ایلن مسک بھی بے لگام ترقی کے مخالف ہیں لیکن صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یہ ترقی اسی طرح اور اسی رفتار سے جاری رہے اور امریکا کی پوری دنیا پر برتری قائم رہے۔