زرعی پیداوار کی ویلیو ایڈیشن

زرعی اشیا کی اچھی قیمت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب بینک میں زرعی پراسسنگ کی سہولیات میسر ہوں



ہر ماہ کے تجارتی اعداد و شمار اور ان کی تفصیلات شائع کی جاتی ہیں۔ پی بی ایس کی ایڈوانس ٹریڈ ریلیز میں ہر ایک مد کے اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں، اگر زرعی پیداوار کی برآمد پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان ہر ماہ خام زرعی پیداوار کی برآمد سے کروڑوں ڈالر کما لیتا ہے، اگر پاکستان مکئی فروخت کرتا ہے تو صرف مکئی بیچنا کافی نہیں ہے بلکہ اب اس طرف توجہ دی جائے کہ مکئی سے بننے والی صنعتی مصنوعات، خوراک اور فیڈ کی عالمی مارکیٹ کیوں نہ حاصل کی جائے۔

کسان صرف چاول، کپاس، تمباکو، مکئی اور دیگر زرعی پیداوار فروخت کرکے اور ایکسپورٹر ان کو خام مال کے طور پر عالمی منڈی میں برآمد کرکے کروڑوں ڈالر کما لیتا ہے۔ اب ان زرعی پیداوار کو مصنوعات کی شکل میں ڈھال کر اربوں ڈالر کما سکتا ہے، ہم نے زرعی مسائل کا حل سبسڈی میں نکال لیا ہے۔ کسان کے اصل مسائل حل کرنا ہوں گے، کیونکہ کسان کو ضرورت ہے معیاری بیج کی اور مارکیٹ میں غیر معیاری بلکہ ناقص بیج کی فروخت کی جا رہی ہے، اسے جدید زرعی ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہے جب کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کا حصول اس کے لیے خواب بنا کر رکھ دیا گیا۔ اسے سستی اور قابل اعتماد توانائی کی ضرورت ہے جب کہ اسے مہنگی بجلی فروخت کی جا رہی ہے۔ سولر توانائی پر بھی ٹیکس عائد کرکے اسے مہنگا کر دیا گیا ہے۔ کسان پیداوار کو اونے پونے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

حکومت کولڈ اسٹوریج بنائے اور اسے بغیر نفع کمانے کے اصول پر کسانوں کو کرائے پر دے تاکہ وہ اپنی مکئی، چنے اور پیاز آلو حتیٰ کہ ٹماٹر، آم، کینو اور دیگر بہت سی سبزیاں، زرعی پیداوار اور پھل وغیرہ اسٹور کر کے اس کے صحیح دام حاصل کر سکے۔ اس طرح کے مافیاز کے کارندوں نے کسانوں کو ہر سال فصل آنے پر لوٹ کھسوٹ کا پروگرام انتہائی کامیابی سے جاری رکھا ہوا ہے۔ اصل یہ نظام ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے۔ کسان گندم پیدا کرتا ہے اور خوفزدہ رہتا ہے کہ بارش نہ ہو جائے گندم خراب نہ ہو جائے۔ مارکیٹ میں کم از کم اتنی قیمت تو ملے کہ معمولی منافع حاصل ہو جائے اس کے سارے خواب اس وقت چکنا چور ہو جاتے ہیں جب قیمتوں کو مافیاز کے کارندے کنٹرول کر لیتے ہیں، پھر پانی کا انتظام بروقت درد سر بنتا رہتا ہے۔

بعض علاقوں میں دیکھا گیا ہے کہ پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال علاقے کے بڑے زمیندار، سردار، وڈیرے کر لیتے ہیں اور مستحق کسانوں کو نہری پانی کم سے کم دستیاب ہوتا ہے۔ خاص طور پر ’’ٹیل‘‘ پر جو نہریں پہنچتی ہیں ان میں پانی انتہائی کم ہو چکا ہوتا ہے۔ مجھے بہت سے علاقوں کے بارے میں معلومات ہیں کہ 20 سال قبل وہ لوگ جس طرح سے پانی کی کمی کا شکار تھے آج بھی اسی طرح کی صورتحال موجود ہے۔ حکومتوں کو کچھ تو خوف خدا کرنا چاہے۔ 80 برس سے کسان انھی مشکلات سے دوچار ہے۔ کوئی حکومت اس پر توجہ نہیں دیتی۔

زرعی اشیا کی اچھی قیمت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب بینک میں زرعی پراسسنگ کی سہولیات میسر ہوں۔ زمیندار ان سے واقف ہو اور اس کے استعمال کو جانتا ہو، اگر زرعی فصلوں کو مختلف مراحل سے گزار کر اس کی ویلیو بڑھا لی جاتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کی جاتی ہے تو زرعی خام مال کی نسبت اس کی زیادہ قیمت حاصل ہوتی ہے۔ حکومت ایسا زمیندار تعلیمی ،علمی اور فنی تعلیم کا آغاز کرے جس سے کسانوں کو معلوم ہو کہ صرف آلو ہی نہیں فروخت کر دیتا ہے، گزشتہ فروری کی بات ہے جب بسنت کے سلسلے میں اس جانب توجہ ہی نہیں دی گئی اور آلو کے پیدا کار رل کر رہ گئے، آلو 10 روپے کلو فروخت ہونے لگے، اس کی قیمت میں شدید کمی کے باعث چونکہ غلہ منڈی تک آلو لے جا کر جیب سے ادا کرنا پڑتا ۔ سستا آلو بیچ کر کسی قسم کا مالی فائدہ بالکل نہیں حاصل ہو رہا تھا۔

ایسی صورت میں کئی کسانوں نے آلو کو زمین میں ہی دبا کر اسے کھاد کی شکل دے ڈالی، اگر زمیندار کا رخ اس جانب موڑا جائے اسے فنی تعلیم دی جاتی کہ آلو سے چپس، فروزن فوڈ، اسٹارچ اور دیگر مصنوعات بھی بن سکتی ہیں تو اس سے فائدہ ہی فائدہ ہوتا۔ اسی طرح چاول کی صرف برآمد ہی کافی نہیں ہے بلکہ چاول کی پیکنگ، برانڈنگ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات بھی عالمی منڈی میں فروخت کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح چاول کی برآمد سے محض چند ارب ڈالر کا زرمبادلہ کے بجائے 10 سے 12 ارب ڈالر کما سکتے ہیں۔ اس طرح سے پاکستان کی حکومت اس جانب توجہ دے اور ترجیح یہ ہوکہ کسی نہ کسی طریقے سے کسانوں کو مالی فائدہ پہنچانا ہے۔ اسے آلو پیدا کرکے اونے پونے فروخت کرکے ایک طرف نہیں بیٹھ جانا ہے بلکہ اسے صنعتی پراسس میں شامل کریں تاکہ اب اس کا آلو مختلف صنعتی مراحل سے گزرے، اسے مختلف مصنوعات میں ڈھال کر اس کی قدر بڑھائی جائے اور اس عمل میں کسان بھی اپنے طور پر شامل ہو تاکہ اسے مالی فوائد حاصل ہوں۔

یہی ویلیو ایڈیشن پاکستان کی دیہی معیشت کو بدل سکتی ہے، لیکن ہماری ترجیحات میں یہ شامل نہیں ہے۔ کروڑوں کسانوں کی حالت ابھی تک ویسی ہی ہے جیساکہ قیام پاکستان کے وقت تھی۔ کسانوں کے نوجوان بیٹے اب اپنی زمینیں فروخت کرکے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر یورپ اور دیگر ملکوں کی طرف جا رہے ہیں، کیونکہ ان کی زمین، ان کی زراعت ان کی پیداوار اور پھر جس طرح سے وہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں، دور نہ جائیں گزشتہ سال مئی جون میں گندم کی سرکاری خرید میں انتہائی کمی اور گندم ریٹ صحیح نہ ملنے پر کسانوں کا ایک بڑا طبقہ شدید نالاں تھا اور موقع سے صحیح فائدہ ’’مافیاز‘‘ نے اٹھایا۔ زمینداروں کسانوں کے درمیان مختلف افواہیں پھیلا کر انتہائی سستے داموں گندم خرید لی جاتی تھی۔ زراعت سے متعلق مختلف اقدامات کے اعلانات ابھی تک ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔ اول ترین ترجیح کو اگر طے کر لیں گے تو کسانوں کی حالت میں بہتری لائی جا سکتی ہے وہ یہ کہ جو کچھ بھی ہو جائے اب کسانوں کو مالی فوائد پہنچانا ہوں گے۔