اﷲ تعالیٰ پر توکل یعنی بھروسا کرنا انبیاء کرام علیہم السلام کے طریقے کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کا حکم بھی ہے ۔ قرآن و حدیث میں توکل علیٰ اﷲ کا بار بار حکم دیا گیا ہے ۔
صرف قرآن کریم میں کئی مرتبہ مومنوں کو صرف اﷲ تعالیٰ پر توکل کرنے کی تاکید کی گئی ہے ، یعنی حکم خداوندی ہے کہ اﷲ پر ایمان لانے والوں کو صرف اﷲ ہی کی ذات پر بھروسا کرنا چاہیے ۔ لفظ توکل کا معنی ’’کسی معاملہ میں کسی ذات پر اعتماد کرنا‘‘ ہے ۔ یعنی اپنی عاجزی کا اظہار اور دوسرے پر اعتماد اور بھروسا کرنا توکل کہلاتا ہے ۔ اس یقین کے ساتھ اسباب اختیار کرنا کہ دنیوی و اخروی تمام معاملات میں نفع و نقصان کا مالک صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ ہے ، اس کے حکم کے بغیر کوئی پتا درخت سے نہیں گر سکتا، ہر چھوٹی بڑی چیز اپنے وجود اور بقاء کے لیے اﷲ کی محتاج ہے ، غرض یہ کہ خالق کائنات پر مکمل اعتماد کرکے دنیاوی اسباب اختیار کرنا توکل علیٰ اﷲ ہے ۔
اگر کوئی شخص بیمار ہوجائے تو اسے مرض سے شفایابی کے لیے دوا کا استعمال تو کرنا ہے ، لیکن اس یقین کے ساتھ کہ جب تک اﷲ تعالیٰ شفا نہیں دے گا، دوا اثر نہیں کرسکتی۔ یعنی دنیاوی اسباب کو اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں، بلکہ اﷲ تعالیٰ کا نظام یہی ہے کہ بندہ دنیاوی اسباب اختیار کرکے کام کی انجام دہی کے لیے اﷲ تعالیٰ کی ذات پر پورا بھروسا کرے ، یعنی یہ یقین رکھے کہ جب تک حکم خداوندی نہیں ہوگا، اسباب اختیار کرنے کے باوجود شفاء نہیں مل سکتی۔
حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:
ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا:
کیا اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں یا بغیر باندھے ؟
آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’باندھو اور اﷲ پر بھروسا کرو۔‘‘
حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل یمن بغیر سازوسامان کے حج کرنے کے لیے آتے اور کہتے کہ ہم اﷲ پر توکل کرتے ہیں، لیکن جب مکہ مکرمہ پہنچتے تو لوگوں سے سوال کرنا شروع کردیتے ، چناں چہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن کی سورۃ البقرۃ میں یہ آیت نازل فرمائی، مفہوم:
’’حج کے سفر میں زاد راہ ساتھ لے جایا کرو۔‘‘ (صحیح بخاری )
جو بھی اسباب مہیا ہوں، انھیں اس یقین کے ساتھ اختیار کرنا چاہیے کہ کرنے والی ذات صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ کی ہے ۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے جب اپنی طویل بیماری کے بعد اﷲ تعالیٰ سے شفایابی کے لیے دعا فرمائی تو اﷲ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے پیر کو زمین پر ماریں۔ اب غور کرنے کی بات ہے کہ کیا ایک شخص کا زمین پر پیر مارنا، اس کی بیسیوں سال کی بیماری کی شفایابی کا علاج ہے ؟ نہیں! لیکن انھوں نے اﷲ کے حکم سے یہ کم زور سبب اختیار کیا، جس کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کے زمین پر پیر مارنے سے پانی کا ایسا چشمہ جاری کردیا، جس سے غسل کرنے پر حضرت ایوب علیہ السلام کی بیسیوں سال کی بدن کی متعدد بیماریاں ختم ہوگئیں۔
حضرت ایوب علیہ السلام کے اس واقعہ کی تفصیلات کے لیے سورۃ الانبیاء اور سورۂ ص کی تفسیر کا مطالعہ کریں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے اس واقعہ سے ہمیں متعدد سبق ملے ، دو اہم سبق یہ ہیں کہ اﷲ تعالیٰ اپنے ارادہ سے بھی حضرت ایوب علیہ السلام کو شفا دے سکتے تھے ، مگر دنیا کے دار الاسباب ہونے کی وجہ سے حضرت ایوب علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ کچھ حرکت کریں، یعنی کم از کم اپنے پیر کو زمین پر ماریں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ جو بھی اسباب مہیا ہوں، ان کو اس یقین کے ساتھ اختیار کرنا چاہیے کہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت اور حکم سے کم زور اسباب کے باوجود کسی بڑی سے بڑی چیز کا بھی وجود ہوسکتا ہے ۔
حضرت مریم علیہا السلام نے جب اﷲ کے حکم سے بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جنا تو ان کے لیے حکم خداوندی ہوا کہ کھجور کے تنے کو ہلائیں، یعنی حرکت دیں، اس سے جب پکی ہوئی تازہ کھجوریں جھڑیں تو ان کو کھائیں۔ اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت سے حضرت مریم علیہا السلام کو بغیر کسی سبب کے بھی کھجور کھلا سکتے تھے ، لیکن دنیا کے دار الاسباب ہونے کی وجہ سے حکم ہوا کہ کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، چناں چہ حضرت مریم علیہا السلام نے حکم خداوندی کی تعمیل میں کھجور کے تنے کو حرکت دی۔ کھجور کا تنا اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ چند طاقت ور مرد بھی اسے آسانی سے نہیں ہلا سکتے ، لیکن صنف نازک نے اس کم زور سبب کو اختیار کیا تو اﷲ تعالیٰ نے اپنے حکم سے سوکھے ہوئے کھجور کے درخت سے حضرت مریم علیہا السلام کے لیے تازہ کھجوریں یعنی غذا کا انتظام کردیا۔
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ جو بھی اسباب مہیا ہوں، اﷲ پر توکل کرکے انھیں اختیار کرنا چاہیے ۔ اسباب تو ہمیں اختیار کرنے چاہییں، لیکن ہمارا بھروسا اﷲ کی ذات پر ہونا چاہیے کہ وہ اسباب کے بغیر بھی چیز کو وجود میں لاسکتا ہے اور اسباب کی موجودی کے باوجود اس کے حکم کے بغیر کوئی بھی چیز وجود میں نہیں آسکتی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلتی ہوئی آگ میں ڈالا گیا، جلانے کے سارے اسباب موجود تھے ، مگر حکم خداوندی ہوا کہ آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے سلامتی بن جائے تو آگ نے انھیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچایا، بلکہ وہ آگ جو دوسروں کو جلا دیتی ہے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی کا سبب بن گئی۔ اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر طاقت کے ساتھ تیز چھری چلائی گئی، مگر چھری بھی کاٹنے میں اﷲ کے حکم کی محتاج ہوتی ہے ، اﷲ نے اس چھری کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن کو نہ کاٹنے کا حکم دے دیا تھا، لہٰذا کاٹنے کے اسباب کی موجودی کے باوجود چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن نہیں کاٹ سکی۔ اسباب و ذرائع و وسائل کا استعمال کرنا منشائے شریعت اور حکم الٰہی ہے ۔ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم نے اسباب و وسائل کو اختیار بھی فرمایا اور اس کا حکم بھی دیا، خواہ لڑائی ہو یا کاروبار، ہر کام میں حسب استطاعت اسباب کا اختیار کرنا ضروری ہے ، لہٰذا جائز و حلال طریقے پر اسباب و وسائل کو اختیار کرنا اور پھر اﷲ کی ذات اعلیٰ صفات پر کامل یقین کرنا توکل علیٰ اﷲ کی روح ہے ۔