لاہور ہائی کورٹ میں حال ہی میں ایک پندرہ سالہ لڑکی کی شادی کا معاملہ سامنے آیا۔ عدالت نے پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت اس شادی کو غیر قانونی قرار دیا، پولیس کو دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا اور بچی کے تحفظ کے لیے اسے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی تحویل میں دینے کی ہدایت کی۔
یہ معاملہ کئی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ پندرہ سالہ بچی کی شادی کیسے ممکن ہوئی؟ اس کی عمر کی تصدیق کس کی ذمے داری تھی؟ اور اس کے تحفظ کے لیے ہائی کورٹ کی مداخلت کیوں ضروری ہوئی؟
یہ سوالات ایسے وقت میں مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں جب پاکستان بچیوں کا عالمی دن منا رہا ہے اور ملک میں کم عمری کی شادیوں سے متعلق قانونی صورت حال تبدیل ہو رہی ہے۔
سندھ، اسلام آباد، بلوچستان اور پنجاب میں اب لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر اٹھارہ سال مقرر کرنے والے قوانین موجود ہیں۔ سندھ نے 2013 میں اس سلسلے میں پہل کی۔ اسلام آباد اور بلوچستان نے 2025 میں جبکہ پنجاب نے 2026 میں نئی قانون سازی کی۔
یہ پیش رفت بچوں کے حقوق سے متعلق پاکستان کی بین الاقوامی ذمے داریوں اور آئین میں مساوات اور قانونی تحفظ کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان قوانین سے بچیوں کی زندگیوں میں کوئی حقیقی تبدیلی آئے گی؟
یونیسیف کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 20 سے 24 سال کی عمر کی 18 فیصد خواتین کی شادی اٹھارہ سال سے پہلے ہوئی، جبکہ چار فیصد کی شادی پندرہ سال کی عمر سے بھی پہلے کر دی گئی تھی۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ برسوں کے گھریلو سرویز پر مبنی ہیں۔ جولائی 2026 میں جاری ہونے والی یونیسیف کی ایک تحقیق، ’’پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کے اسباب‘‘، کے مطابق غربت، سماجی روایات، صنفی عدم مساوات اور تعلیم تک محدود رسائی کم عمری کی شادیوں کے اہم عوامل ہیں۔
اس لیے محض شادی کی قانونی عمر بڑھا دینا کافی نہیں۔ ان حالات کو بھی تبدیل کرنا ہوگا جو خاندانوں کو کم عمر بچیوں کی شادی کے فیصلے کی طرف لے جاتے ہیں۔
چاروں قوانین میں بعض اہم پہلو ایسے ہیں جن سے دوسرے صوبے اور متعلقہ ادارے بھی سیکھ سکتے ہیں۔ سندھ نے شادی کی کم از کم عمر اٹھارہ سال مقرر کرکے ایک اہم مثال قائم کی۔ بلوچستان کے قانون میں نکاح پڑھانے اور رجسٹر کرنے والوں پر عمر کی تصدیق کی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔ اسلام آباد کے قانون میں شادی کے مقصد سے بچوں کی اسمگلنگ سے متعلق دفعات شامل ہیں، جبکہ پنجاب کے قانون میں بچے کے بہترین مفاد اور تحفظ کو اہمیت دی گئی ہے۔
لیکن قانون اسی وقت مؤثر ہوگا جب اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اگر نکاح سے پہلے عمر کی درست تصدیق نہ ہو، پیدائش کا اندراج موجود نہ ہو یا غیر قانونی شادی میں سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی نہ کی جائے تو اٹھارہ سال کی قانونی حد محض کاغذی تحفظ بن کر رہ جائے گی۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ کم عمر بچی کی بظاہر رضامندی کو شادی کے لیے آزادانہ اور باخبر رضامندی نہیں سمجھا جاسکتا۔ خاندانی دباؤ، معاشی مجبوری اور گھر کے اندر طاقت کے غیر مساوی تعلقات بچیوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بچیوں کی بات ضرور سنی جانی چاہیے، لیکن ان کے حقوق کے تحفظ کی ذمے داری صرف انہی پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
کم عمری کی شادیوں کی روک تھام بچیوں کے تحفظ کا ایک اہم حصہ ہے، مگر یہ مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں۔
نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کی رپورٹ ’’پاکستان میں بچوں کی صورت حال 2025‘‘ میں پیش کیے گئے پولیس اعداد و شمار کے مطابق، رپورٹ میں شامل جرائم کے متاثرین میں 65 فیصد لڑکیاں اور 35 فیصد لڑکے تھے۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ بچیوں کو کم عمری کی شادیوں کے علاوہ تشدد، جنسی استحصال اور دیگر سنگین خطرات سے بھی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک بچی کو اٹھارہ سال سے پہلے شادی سے بچا لینا کافی نہیں، اگر وہ تعلیم سے محروم ہو، تشدد یا جنسی ہراسانی کا سامنا کر رہی ہو یا مدد حاصل کرنے کا کوئی محفوظ راستہ نہ رکھتی ہو۔
بچیوں کا تحفظ تعلیم کے تسلسل، تشدد کی روک تھام، صحت سے متعلق عمر کے مطابق درست معلومات اور ضروری خدمات تک رسائی سے بھی جڑا ہوا ہے۔
اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں، محکمہ صحت، مقامی حکومتوں، پولیس، نکاح رجسٹرارز اور بچوں کے تحفظ کے اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ کسی بچی کے اسکول چھوڑنے، اس کی کم عمری میں شادی کی تیاری یا اس کے خلاف تشدد کی نشاندہی پر بروقت اور مؤثر کاروائی کرنا متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔
قوانین کی کامیابی کو صرف درج ہونے والے مقدمات یا سزاؤں کی تعداد سے نہیں جانچنا چاہیے۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کتنی کم عمری کی شادیاں روکی گئیں، کتنی بچیوں کو بروقت تحفظ ملا اور کتنی اپنی تعلیم جاری رکھنے کے قابل ہوئیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور بچیوں کے تحفظ سے متعلق فیصلوں میں خود نوعمر لڑکیوں کی رائے بھی شامل ہونی چاہیے۔ وہ اپنے مسائل، خاندانی دباؤ، تعلیمی رکاوٹوں اور مدد حاصل کرنے میں پیش آنے والی مشکلات کو بہتر انداز میں بیان کر سکتی ہیں۔
بچیوں کے عالمی دن پر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اٹھارہ سال تک شادی نہ ہونا ہی کامیابی نہیں۔ ان برسوں میں ہر بچی کو تعلیم حاصل کرنے، اپنی صلاحیتیں نکھارنے، تشدد سے محفوظ رہنے اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلوں میں شریک ہونے کے مواقع بھی ملنے چاہییں۔
چار قوانین نے کم عمری کی شادیوں کے خلاف ایک اہم قانونی بنیاد فراہم کی ہے۔ اب اصل امتحان قانون سازی کا نہیں، بلکہ اس وعدے کو پورا کرنے کا ہے کہ ہر بچی کو محفوظ بچپن، تعلیم اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے مواقع میسر ہوں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔