خواتین کی صحت کا خیال رکھنا ان کی ذاتی زندگی کے ساتھ پورے خاندان کی فلاح کے لیے بھی اہم ہے۔ چاہے کوئی خاتون ملازمت کرتی ہو یا گھر سنبھالتی ہو، غذائیت، جسمانی سرگرمی اور ذہنی سکون کو نظرانداز کرنے سے مختلف صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق چند عام بیماریوں اور علامات پر بروقت توجہ دے کر پیچیدگیوں کے خطرات کم کیے جاسکتے ہیں۔
خون کی کمی
خواتین، بالخصوص نوعمر لڑکیوں میں خون کی کمی ایک عام مسئلہ ہے۔ جسم میں آئرن کی کمی اس کی اہم وجوہات میں شامل ہے، جس سے تھکاوٹ، کمزوری اور روزمرہ سرگرمیوں میں دشواری ہوسکتی ہے۔
مرغی کا گوشت، پھلیاں، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں اور خشک میوہ جات آئرن کے حصول میں مدد دے سکتے ہیں۔ وٹامن سی سے بھرپور پھل آئرن کے جذب کو بہتر بناتے ہیں، جبکہ فولیٹ کے لیے سبزیاں، اناج، انڈے، مونگ پھلی اور بیج مفید غذائی ذرائع ہیں۔ مسلسل کمزوری یا خون کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر طبی معائنہ ضروری ہے۔
غذا کے اوقات اور اس کے معیار کا بھی صحت سے تعلق ہے۔ بے قاعدہ کھانے اور ضروری غذائی اجزا کی کمی سے توانائی اور وزن متاثر ہوسکتے ہیں۔ پھل، سبزیاں اور فائبر سے بھرپور اناج متوازن غذا کا حصہ ہیں اور آنتوں کی صحت برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جلد کی صحت کے لیے بھی مناسب غذائیت اہم ہے، تاہم جلد کے مسائل کو صرف کھانے کے اوقات سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔
کیلشیم کی کمی اور کمزور ہڈیاں
ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کیلشیم، وٹامن ڈی اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی اہم ہیں۔ دودھ، دہی اور پنیر کیلشیم کے اچھے ذرائع ہیں، جبکہ مناسب پروٹین اور فاسفورس بھی ہڈیوں کی صحت میں کردار ادا کرتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ، بالخصوص سنِ یاس کے بعد، ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے صرف درد کو عمر کا معمول سمجھنے کے بجائے ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
وزن میں اضافہ
وزن میں غیر ضروری اضافہ بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اضافی وزن ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ وزن کو متوازن رکھنے کے لیے باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور متنوع غذا مفید ہیں۔ مرغی، انڈے، دودھ اور دہی، دالیں اور پھلیاں پروٹین فراہم کرتی ہیں اور متوازن خوراک کا حصہ بن سکتی ہیں۔
دل کی صحت اور بلڈ پریشر
دل کی صحت کے حوالے سے بھی خواتین کو محتاط رہنا چاہیے۔ سنِ یاس کے دوران جسم میں ہونے والی تبدیلیاں خون میں چکنائی اور قلبی امراض کے خطرات کو متاثر کرسکتی ہیں۔ ہفتے بھر میں باقاعدہ جسمانی سرگرمی، فائبر سے بھرپور خوراک اور سیر شدہ چکنائی کی مقدار محدود رکھنا دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی جانچ بھی خطرات کی بروقت شناخت میں مدد دیتی ہے۔
ڈپریشن اور ذہنی صحت
جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ ڈپریشن اور اضطراب خواتین سمیت ہر عمر کے افراد کو متاثر کرسکتے ہیں۔ متوازن غذا، مناسب نیند، ورزش اور سماجی تعاون مجموعی صحت کے لیے مددگار ہیں، لیکن مسلسل اداسی، بے چینی یا روزمرہ زندگی میں مشکلات کی صورت میں پیشہ ورانہ مدد لینا ضروری ہے۔
خواتین کے لیے بنیادی پیغام یہی ہے کہ اپنی صحت کو خاندان کی ذمہ داریوں کے پیچھے نظرانداز نہ کریں۔ بروقت معائنہ، متوازن غذا اور صحت مند معمولات کئی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔