’’بھائی! ہم تو بہت پریشان ہیں ان لوگوں سے نجانے کیسے لوگ ہیں؟ اتنی ساری خواتین… مرد کوئی نظر نہیں آتا، اتنی اتنی دیر تک سوتے رہتے ہیں۔ دودھ والا نیچے گیٹ بجاتا رہتا، تھک ہار کر چلا جاتا ہے۔‘‘
ان کے انداز میں پراسراریت بہت سارے الزامات پنہاں تھے جو لفظوں میں تو نہیں پر ان کے ظاہری تکلم سے کھل رہے تھے۔
’’اچھا تو یہ بات ہے۔‘‘
سمجھنے والا بھی اسی انداز میں جیساکہ معنوں معنوں میں کہا گیا تھا سمجھ گیا اور یوں ایک بڑا الزام کا ٹھپہ لگ گیا۔ اس میں کتنی حقیقت ،کتنی سچائی اور الزام تراشی تھی لیکن اس کو جانچنے، پرکھنے یہاں تک کہ سوچنے سمجھنے کا بھی تکلف نہ کیا گیا۔ ایسا پہلی بار ہی نہیں ہوا بلکہ ہمارے ارد گرد سالہا سال اور صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے لیکن زبان کے چٹخارے۔
زبان شیطان کا موثر ہتھیار ہے جسے جب چاہے جس طرح چاہے چلا دیا جاتا ہے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ہماری زبان سے ادا کردہ چند جملے کسی کی زندگی پر کسی قدر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، یہ جس طرح خیر کے میدان میں دوڑ سکتی ہے، اسی طرح شر کے میدان میں اسے شکست دینا، مات دینا آسان نہیں۔
ہمارے مذہب نے جہاں زندگی کے بہت سے معاملات میں آسانی فراہم کی ہے، وہیں زبان کے استعمال کے مسئلے کو بھی بہت خوبی سے بیان کیا ہے۔ بہت سی احادیث نبوی میں زبان سے متعلق سختی سے بیان فرمایا گیا ہے۔ زبان کو قابو میں رکھنا، خاموشی اختیار کرنے میں کیا راز پنہاں ہے، ہمیں زبان چلاتے ہوئے ضرور سوچنا چاہیے کہ زبان جنت کے راستے وا کرتی ہے تو دوزخ کی آگ بھی گرم کر سکتی ہے۔ بلاوجہ کی بک بک اور ادھر اُدھر کی برائیاں کرنے سے بہتر ہے کہ زبان کو خاموش رکھا جائے۔
ہمارے سوشل میڈیا پر زبان کے بلاوجہ استعمال کے اس وقت شرارے نکلتے رہتے ہیں جو کسی بھی انسان کی زندگی کو بھسم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ چاہے وہ حکومت کا کوئی ادارہ ہو کوئی نجی ادارہ ہو یا سماجی شخصیت اور فن کار۔ اس نئے شر کی آگ سے محفوظ نہیں ہیں۔
’’آپ جانتے ہیں کہ ہمارے علاقے میں کل کیا ہوا… ہماری طرف کا پُل گر گیا۔‘‘
’’کیا واقعی، لیکن اخبار میں تو اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں آیا۔‘‘
’’ہاں کسی اخبار میں یا ٹی وی چینلز کی کسی نیوز میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا، پتہ نہیں کیوں لیکن ایسا ہو گیا۔ البتہ سوشل میڈیا پر ہی اس کا ذرا ذکر تھا، پتہ نہیں لوگ اسے نظرانداز کیوں کر رہے ہیں؟‘‘
’’کیسے ہوا یہ سب؟‘‘
’’کہا جا رہا ہے کہ اس کے نیچے سے لوگ، نشئی ہی ہوں گے لوہا سریا نکال کر لے گئے تو ظاہر ہے کہ یہی ہونا تھا۔‘‘
کراچی شہر کے ایک مشہور و معروف علاقے گلشن اقبال کی اتنی بڑی خبر اور کہیں خبر نہیں ابھری لیکن کچھ سوشل میڈیا میں اس بات کی تشہیر کی گئی۔
’’آج کل سوشل میڈیا بہت تیزی سے کام کرتا ہے۔ منٹوں میں خبر ادھر کی ادھر ہو جاتی ہے۔ اب کچھ بھی چھپایا نہیں جا سکتا۔
لوگوں کی رائے اپنی اپنی کہ زبان اپنی اپنی۔ لیکن خبر کا تعلق بھی تصدیق سے ہونا چاہیے کہ زبان اپنی اپنی۔ بہت سی خبریں جو بظاہر جوش و خروش لیے ہوتی ہیں لیکن اس کے اندر کی کہانی بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سب کے ہاتھوں میں اپنے اپنے شیطانی ہرکارے موجود ہوتے ہیں اور اس میں اپنی دلچسپی یا سوشل میڈیا کا پیٹ بھرنے کی خاطر سب جمع کر لیا جاتا ہے اب اس کا استعمال کرکے اپنے نمبرز تو بڑھا دیے گئے لیکن جس خبر کو گرم کیا گیا اس کی صداقت کا کیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے عرض کی گئی کہ کوئی ایسا عمل بتلائیں جس سے جنت حاصل ہو۔ فرمایا کبھی بولنا مت۔ کہا گیا کہ یہ تو ممکن ہی نہیں۔ انھوں نے پھر فرمایا، اگر بولنا ہی ضروری ہے تو خیر کے علاوہ کچھ مت بولنا۔
ہمارے بہت سے ایسے ادارے جن کے بارے میں بڑے انتظامات کرکے اسٹیج سجا کر تعریفی کلمات کے ڈھیر لگا دیے جاتے ہیں سب مسکرا کر ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر تصاویر بنواتے ہیں لوگوں میں تعریفی اسناد کچھ چابیاں، کچھ تحائف اور رقوم بانٹتے نظر آتے ہیں گو حقیقت سے سب ہی واقف ہوتے ہیں پر اس بڑے دوزخ سے پیٹ کو بھرنے کے لیے اتنا دکھاوا اور خرچہ کیا جاتا ہے۔
چند اینٹیں ہزار کی رکھ کر لاکھوں کا اسٹیج سجا کر خسارے کا سودا کیا جاتا ہے پر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس کا کلام زیادہ ہوتا ہے اس کی لغزش بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے، اس کے گناہ بھی اتنے زیادہ ہوتے ہیں اب چاہے یہ حرکت نریندر مودی کرے، ٹرمپ کرے یا نیتن یاہو ان کے لیے تو ایک الگ ہی معیار قائم ہے پھر بھی دوغلے پن کی ایک عمدہ مثال تو سامنے نظر ہی آتی ہے کہ بس زبان کی اجازت۔
ہمارے یہاں سوشل میڈیا کو ایک جدید ہتھیار سمجھ کر اس پر بھی الزامات تو عائد کیے جاتے ہیں لیکن ہمارے اپنے اندر بھی ایک سوشل میڈیا متحرک رہتا ہے جو ہر دم اپنے ارد گرد کے بارے میں شور اٹھاتا رہتا ہے اور ہم جانتے ہوئے بھی اس کی بتائی ہوئی کہانی پر چل پڑتے ہیں۔
ہر کہانی کے حقائق سچے بھی ہو سکتے ہیں اور جھوٹے بھی لیکن جو پوائنٹس ہمیں کشش کرتے ہیں ہم خودبخود اس کی جانب بڑھتے ہیں کہ زبان کا کارنامہ۔ جو خیر سے زیادہ مکھن بازی، جھوٹ، ملمع کاری اور لگائی بجھائی کی چٹپٹی تہوں سے سجا بنا ہوتا ہے کہ اس کا بھی ایک الگ ہی مزہ ہے پھر اسٹیج کسی بھی شعبہ ہائے زندگی یا ہماری زندگی کے ارد گرد کے کرداروں سے متعلق ہو کہ تجسس اور اسرار کے ساتھ اپنی زبان کے مسالے سے کیا مواد بنتا ہے۔ واہ… ہمارے ساتھ کہیں نہیں جاتے کیونکہ یہ کہتے ہیں کہ ابو آپ گالیاں بہت دیتے ہیں، بتائیے کہتے ہیں کہ چاچو کے ساتھ جاؤں گا۔‘‘
ایک موٹر مکینک کی شکایت اپنے بیٹے سے متعلق محبت آمیز تھی لیکن اس میں ایک بڑی صداقت پوشیدہ ہے کہ سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں، وہ ہمارا پرانا جاننے والا مکینک ہے اس نے اپنے بھائی کے بیٹے کو لے کر پالا ہے بچے کا رجحان دیکھتے اسے قرآن حفظ کروایا جو اس نے دل سے کیا ابھی اس کی عمر کم ہے، دنیا کی چالاکیوں سے ناواقف ہے لیکن اس سے برداشت نہیں ہوتا، اپنے باپ کو مرمت کے لیے کھڑی گاڑیوں کا پٹرول نکالنا، معمولی نقص کو زائد بتا کر زیادہ پیسے وصول کرنا، بلاوجہ میں لوگوں سے فضول ہانکنا، ادھر ادھر برائیاں کرنا، بھڑکانا اکسانا، وہ حیران ہوتا ہے کہ اس نے ایسا اپنی تعلیم جو اس نے سیکھی اور سمجھی ہے اس میں کہیں نہیں ہے پھر اس کا باپ ایسا کیوں کرتا ہے؟
ہماری عوام بھی اسی معصوم بچے کی مانند ابھی تک حیران ہے۔ اٹھہتر، انہتر سال گزر گئے ہیں اور عوام کی حیرانگی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔