انسان عمر کے لحاظ سے کتنا ہی بڑا ہو جائے، طاقت کے اعتبار سے اُس کے زور بازو میں دم خم کتنا ہی بڑھ جائے، دولت اور قسمت کے معاملے میں کتنا ہی دھنی ہو جائے وہ اندر سے ہمیشہ معصوم بچہ ہی رہتا ہے جو محبت اور توجہ کا بھوکا ہوتا ہے۔
گروہِ انساں میں شامل کچھ کردار اپنے وجود کے زیر خانہ میں موجود ننھے بچے کو تھپکی دے کر سُلا دیتے ہیں اور دنیا کے سامنے خود کو فولاد جتنا سخت ظاہر کرتے ہیں، وہ اس عمل میں باخوبی کامیابی پاتے ہیں، لیکن یہاں زیادہ تعداد اُن کرداروں کی ہے جو اپنے چاہے جانے کی خواہش کا برملا اظہار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔
جب کوئی انسان اپنے اطراف میں موجود لوگوں کے لیے خاص نہیں ہوتا ہے تو وہ اپنی ذات کو خود کے لیے اہم بنا کر خود ہی سے محبت کرنے لگتا ہے۔ حب ذات یا خود سے محبت ایک مثبت عمل ہے مگر جب یہ حد سے تجاوز کر جائے تو اس کے منفی اثرات انسان کی شخصیت کا حلیہ بگاڑ دیتے ہیں۔
اس دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جس کو دنیاوی اونچ نیچ کا سامنا نہ ہو، انسانوں کی زندگیوں میں آنے والی آزمائشوں کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے لیکن یہاں سبھی اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بعض لوگ اپنے اوپر بیتی ستم ظریفوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہیں جب کہ کچھ کی ہمت سخت حالات میں اُن کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔
حب ذات کی زیادتی انسان کو جذباتی طور پر حساس بنا دیتی ہے اور حساس انسان کو چھوٹی، بڑی ہر بات ٹھیس پہنچاتی ہے۔ حساس انسان ہجوم میں بھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، ہمہ وقت اضطرابی کیفیت سے دوچار رہتا ہے، دنیا والوں کے لیے مطلوب ہوتے ہوئے بھی ’’میں اس دنیا کے لیے بے کار اور غیر مطلوب ہوں‘‘ کا اپنے جسم کے روم روم سے اظہار کرتا ہے۔
اپنے دامن میں خالق کی بہتیری نعمتیں سمیٹنے کے باوجود زمانے کے سامنے اپنی محرومیوں کا رونا ڈال کر خامخواہ خود اذیتی میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ اپنی زبان پر شکر کی ادائیگی کو حرام کر لیتا ہے اور خالق سے ہمیشہ شکوہ کرتا رہتا ہے۔
انسانوں کی ایک بڑی تعداد درحقیقت افسانوی و فلمی دنیا سے بہت متاثر ہے جہاں ایک ہیرو اور کئی سارے ولن ہوتے ہیں، وہ ہیرو کی مظلومیت کو اپنے اوپر اتنا حاوی کر لیتے ہیں کہ اُس کی ذات میں اپنے آپ کو نہ صرف دیکھنے بلکہ اُس کی تکلیفوں کو محسوس کرنے لگ جاتے ہیں۔ فلم و افسانہ تو کچھ وقت بعد ختم ہو جاتا ہے مگر اُس کا اثر ایک لمبے وقت تک اُن کی ذات پر چھایا رہتا ہے کیونکہ اُن کی نظر میں وہ اپنی کہانی کے دکھوں سے چُور ہیرو اور اردگرد والے، خوشیوں کو گرہن لگانیوالے تمام لوگ ولن۔
انسان کو اپنے عقلمند ہونے پر خوب ناز ہے جب کہ وہ نہایت بیوقوف ہے جسے اس دنیا میں موجود شاطر دماغ اُداسی و مایوسی کا چورن عرصہ دراز سے بیچ رہے ہیں اور وہ اُن کا مستقل خریدار بنا ہوا ہے۔ تکلیف یا درد جب انتہا کو پہنچ جائے تو وہ کرب و اذیت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور کرب و اذیت حساس انسان کے لیے افیم کا کام کرتی ہے۔
ایک بار کسی انسان کو اس کیفیت میں رہنے کی عادت پڑ جائے پھر اس سے جان چھڑوانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ جس طرح نشئی، نشے کے نقصانات سے واقفیت رکھتے ہوئے ان بند گلیوں کا راہی بنتا ہے بالکل ویسے ہی حساس انسان بھی جانتا ہے کہ مسلسل کرب و اذیت کی کیفیت میں ڈوبے رہنا اُس کی ذات سے وابستہ تمام صلاحیتوں کو زنگ لگا دے گا، لیکن اس کے باوجود وہ خود ساختہ اندھیروں سے نکل کر کھلی فضا میں سانس لینے کو کسی طور آمادہ نہیں ہوتا ہے۔
حزن و ملال کی اس حالت کو ’’خود ترسی‘‘ کہا جاتا ہے، یہ انسان کی ذہنی ارتقاء کے لیے نہایت مضر ہے۔ خود ترسی، انسان کے دماغ میں وسوسوں کو جگہ دیتی ہے، عموماً اس مرض کا شکار انسان اپنی ایک خیالی دنیا تشکیل دیتا ہے جس میں موجود سارے لوگ ظالم اور وہ واحد مظلوم ہوتا ہے اور جہاں ظلم کے پہاڑ اُس کے وجود کو لہو لہان کر رہے ہوتے ہیں۔
خود پر ترس کھانیوالے انسان کا وجود خیالی دنیا میں زخمی ہوا ہوتا ہے مگر حقیقی دنیا میں وہ اُن زخموں کی تکلیف میں تڑپ رہا ہوتا ہے۔ یہ بے مطلب تڑپ، گمان اور وسوسے انسان کے چہرے کی رونق چھین لیتے ہیں اور اُس کو شامِ خزاں کی تصویر بنا دیتے ہیں۔اس کے علاوہ بہت سارے ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقتاً اذیت ناک حالات سے گزر رہے ہوتے ہیں اور دنیا اُن کے لیے پھولوں کی سیج ثابت نہیں ہو رہی ہوتی ہے۔
دھوکہ، قدم قدم پر اُن کا مقدر بنتا ہے اور ہر اپنا سمجھے جانے والا اجنبی کا روپ دھار بیٹھتا ہے۔ دنیا والوں کی جانب سے دیے زخموں سے خون رس رہا ہوتا ہے مگر اُن کے زخموں پر ٹھنڈی پٹی رکھنے یا غموں کا مداوا کرنے کوئی آدم ذات آگے نہیں آتا ہے۔
وہ خود کو خود ہی گلے لگاتے ہیں، تسلی دیکر سمجھاتے ہیں، تنہائی میں روتے ہیں، چلاتے ہیں، پچھتاتے ہیں اور دل میں اپنی زندگی پر چھائی کالی گھٹا کے چھٹ جانے کی آرزو کرتے ہیں لیکن اپنا ٹوٹتا حوصلہ دنیا کو کبھی نہیں دکھاتے ہیں۔
زمانہ حال میں ہمارے اطراف میں موجود ہر دوسرا انسان دکھی دکھائی دیتا ہے، جن کی زندگیوں میں حقیقتاً مسائل موجود ہیں اُن کا پریشان نظر آنا سمجھ آتا ہے لیکن ہر کسی کا اپنے چہرے پر اُداسی لیے گھومنا اب محض فیشن بن گیا ہے۔ ہمارے مذہبِ اسلام میں مایوسی کو کفر کہا گیا ہے، خالق کی ذات پر بھروسہ انسان کی زندگی میں آنیوالے مشکل ترین لمحات کو آسانی سے گزارنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
جن افراد پر غموں کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں اُن کی برداشت کا ختم ہونا بنتا ہے لیکن یاد رکھیں جو ذاتِ الٰہی غم دیتی ہے اُس کا مداوا بھی وہی کرتی ہے۔ جب انسان کا امتحان لیا جاتا ہے تو کامیابی حاصل کرنے پر تحفے سے نوازا بھی جاتا ہے جب کہ بلاوجہ خود کو امتحانی صورتحال میں دکھلانا انسان کا صرف تماشا ہی بناتا ہے۔