خوش فہمی

عوام کو خواب غفلت سے بیدار ہونا ہوگا اور حکمرانوں سے وابستہ اپنی خوش فہمیوں کو ایک طرف رکھنا ہوگا



خوش فہمی کا بنیادی مطلب کسی معاملے یا بات میں اپنی خواہش یا مرضی کے مطابق نتیجہ اخذ کرنا اور ہر چیز کو اپنے حق میں یا اپنی پسند کے انداز میں دیکھنا ہے۔ قیامِ پاکستان سے آج تک عوام ایک بڑی خوش فہمی کا شکار ہیں۔ انھوں نے اشرافیہ اور حکمران طبقے سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔

درحقیقت عام آدمی کی معاشی خوشحالی کی نفی روز اوّل سے ہی اشرافیہ کے طرز حکمرانی کا حصہ رہی ہے۔ عوام وڈیروں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے شکنجے میں جکڑے رہے، جب کہ حکمرانوں نے عام آدمی کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔

ایک طرف اشرافیہ کی نہ ختم ہونے والی عیاشیاں ہیں تو دوسری طرف عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پریشان ہے۔ موجودہ ہوں یا سابقہ حکمران، سب نے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود اور خوشحالی کا استحصال کیا ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ عوام کا کوئی پرسان حال دکھائی نہیں دیتا اور ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

عوام کو خواب غفلت سے بیدار ہونا ہوگا اور حکمرانوں سے وابستہ اپنی خوش فہمیوں کو ایک طرف رکھنا ہوگا۔ یہ محض خوش فہمی نہیں بلکہ ایک ایسی غلط فہمی ہے، جس کا شکار آج پوری خلقت دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں بے چینی کا عنصر نمایاں ہے، صنعتی کلچر کو بھی اشرافیہ نے برباد کر کے رکھ دیا ہے۔

جو ملیں، کارخانے اور فیکٹریاں کروڑوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی تھیں، آج ان میں سے بہت سی بربادی کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ اشرافیہ کے منہ کو عیاشی، کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کا خون لگ چکا ہے، اگر اسے فوری طور پر نہ روکا گیا تو ملک کو ایک سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وطن عزیز کی معاشی آزادی خطرے میں ہے۔ ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں ہماری فی کس آمدنی بہت کم ہے، جس میں زندگی کا پہیہ چلانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ ہماری معاشی ٹیم کا جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان میں بڑے بڑے ارسطو اور افلاطون ملک کا معاشی نظام چلا رہے ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث ہم تیزی سے اقوامِ عالم میں اپنی قدر و منزلت کھو رہے ہیں۔

واضح معاشی روڈ میپ نہ ہونے کی وجہ سے ہم معاشی میدان میں اپنے ہمسایہ ممالک سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ معاشی محاذ پر ہم مسلسل ناکامیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

عوام ہر خبر سے باخبر ہیں، مگر بدقسمتی سے اجتماعی جدوجہد کے لیے کوئی تیار دکھائی نہیں دیتا۔ انقلاب کا لاوا دلوں میں موجود ہے۔ ہم ایک دوسرے سے بات کر کے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں، مگر عملی طور پر کوئی جدوجہد یا تحریک چلانے کے لیے تیار نہیں۔

پاکستان کو آج معاشی آزادی کی ایک موثر تحریک کی سخت ضرورت ہے۔ اس کے بغیر ہم ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکیں گے، لہٰذا عوام کو چاہیے کہ باہمی اختلافات، عقیدے، نظریے، قومیت اور فرقہ واریت کو ایک طرف رکھتے ہوئے وطن عزیز کی خاطر مشترکہ جدوجہد کا آغاز کریں اور اشرافیہ سے اپنی معاشی آزادی حاصل کریں۔ معاشی آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دے گا، اس کے لیے جدوجہد بھی کرنا ہوگی اور قربانی بھی دینا پڑے گی۔

آج وقت آ گیا ہے کہ ہم پاکستان کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کے لیے اپنا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ آنے والے دن مزید سخت اور کٹھن ہو سکتے ہیں، اس لیے ملکی اور بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سوچ سمجھ کر اپنی جدوجہد کا راستہ متعین کرنا ہوگا۔

ایسی تحریک کی ضرورت ہے جو پاکستان کی سالمیت کے لیے کسی خطرے کا باعث نہ بنے۔ ہمیں بیرونی اور اندرونی دشمنوں کا سامنا ہے اور ہماری افواج ملک کی سالمیت و حفاظت کی خاطر مختلف محاذوں پر دشمنوں کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں اپنی پاک افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، نہ کہ دشمن کے اشاروں پر زہر اگلنا چاہیے۔

ریاست کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اشرافیہ کو لگام دے اور انھیں واضح رہنمائی فراہم کرے کہ عوام کو کچھ تو ڈلیور کیا جائے۔ کرپشن اور لوٹ مار کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، مگر ہماری اشرافیہ نے بظاہر تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔ حبیب جالب صاحب نے عوام کی مفلسی اور حالت زار پر بہت خوبصورت اشعار کہے تھے۔

مفلس جو اگر تن کی قبا بیچ رہا ہے

واعظ بھی تو ممبر پہ دعا بیچ رہا ہے

دونوں کو ہے درپیش سوال اپنے شکم کا

ایک اپنی خودی، ایک خدا بیچ رہا ہے

یقین جانیے، آج پاکستان حقیقتاً ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ غریب اپنے جسم کی بھوک مٹانے کے لیے نہ جانے کیا کچھ کرنے پر مجبور ہے، جب کہ اشرافیہ کو اس کی ذرا بھر بھی فکر نہیں۔ آخر عوام جائیں تو کہاں جائیں؟ کیا ایک عام آدمی اور وہ بھی پاکستانی ہونا آج جرم بن گیا ہے؟ اسے کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ ایسا ناروا سلوک کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟ عوام سے جینے کا حق کیوں چھینا جا رہا ہے؟ وہ کون سی قوتیں ہیں جو عوام کی خوشحالی نہیں چاہتیں؟ وہ کون سی قوتیں ہیں جو نہیں چاہتیں کہ عوام کو اچھا روزگار، بہتر صحت اور معیاری تعلیم میسر ہو؟ کیا اس کے پیچھے بھی کوئی منظم سازش کارفرما ہے؟ کیا کسی خاص منصوبے کے تحت عوام پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں؟ ان سوالات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک عام آدمی پر اتنا زیادہ بوجھ نہ ڈالیں اور اسے اس حد تک تنگ نہ کریں کہ وہ تنگ آ کر ایوان اقتدار کا گھیراؤ کرلیں اور اس کا غصہ مجموعی قوم کا غصہ بن جائے۔ اس صورت میں ہر طرف تباہی ہوگی، حالات سب کے ہاتھوں سے نکل جائیں گے اور ملک میں انارکی پھیل جائے گی، جو سب کچھ بہا کر لے جائے گی۔ ہر چیز کی ایک حد اور ایک وقت مقرر ہوتا ہے، مگر اشرافیہ نے تمام حدیں پار کر لی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے لیے پاکستان صرف کمائی کی ایک دکان بن کر رہ گیا ہے۔

پاک پروردگار پاکستان کو محب وطن اور عوام دوست حکمران نصیب فرمائے، جو سچے دل سے پاکستان کی خدمت کریں۔ ہمیں پُرامید رہنا چاہیے۔ حبیب جالب صاحب نے بھی کیا خوب کہا ہے۔

میرے ہاتھ میں قلم ہے، میرے ذہن میں اجالا

مجھے کیا دبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا

مجھے فکر ِ امن عالم، تجھے اپنی ذات کا غم

میں طلوع ہو رہا ہوں، تو غروب ہونے والا