کہاں ہوتے ہیں ایسے لوگ !!

پہلے پہل بچوں کو بزرگوں کی محفلوں میں بے مقصد بیٹھنے سے منع کیا جاتا تھا


شیریں حیدر October 11, 2026
[email protected]

چند دن قبل علی الصبح سوتے میں گیٹ سے گھنٹی بجنے کی آواز آئی اور رک ہی نہ رہی تھی، انتہائی بیزاری سے فون سے انٹر کام آن کیا کہ دیکھوں کون ہے، ایک نوجوان باہر بارش میںکھڑا بھیگ رہا تھا۔ اسپیکر آن کر کے سوال کیا کہ وہ کون تھا اور اس وقت… اس کے اگلے فقرے نے مجھے یوں بستر سے نکالا جیسے میں نے قیامت آنے کی خبر سن لی ہو، خبر تھی ’’آپ کے گھر میں چھت والے گیزر میں آگ لگی ہوئی ہے!‘‘ میں بھاگی کہ ملازم کو بلاؤں جو کہ پہلے سے ہی اطلاع پا کر اوپر چھت کی طرف جا رہا تھا اور صاحب بھی اسی کے ساتھ تھے۔

قصہ مختصر، جب اس آگ سے نمٹ چکے تو کافی وقت گزر چکا تھا، یہ بھی اللہ کا شکر ہے کہ بارش ہو رہی تھی تو آگ زیادہ بھڑک نہیں سکی تھی۔ یاد آیا کہ اس نوجوان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا تو وہ وہاں تھا ہی نہیں۔ہر طرف جا کر اس کے بار ے میں پوچھا کہ وہ کون تھا؟ مگر نہ وہ ملا اور نہ ہی اس کا پتا۔ ایسے ہی جیسے قصے کہانیوں میں فرشتے بھیس بدل کر آتے ہیں اور پھر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔

اس روز بھی ناشتہ کر کے ابھی میزکے گرد ہی بیٹھے تھے کہ صاحب کے فون پر کال آئی اور ’’وعلیکم السلام، اللہ کا کرم، آپ سنائیں، اوکے، ماشااللہ، نہیں نہیں، کوئی مسئلہ نہیں، بالکل ٹھیک ہے، ہم تو ویسے بھی لاہور میں ہیں، آپ کریں جو بھی آپ کو کرنا ہے۔ جی جی ہم ضرور آئیں گے…‘‘ کال کے شروع سے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کام ہمارے گھر کے عقبی ہمسائیوں کے گھر سے تھی اور میں فوراً ڈر گئی کہ شاید پھر کسی نے خبر دینا ہے کہ کہیں اور آگ لگ گئی ہے۔

اس وقت تو ہم تھے بھی لاہور میں اور کوئی حل بھی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ ہماری غیرموجودگی میں گھر لاک ہوتا ہے۔ میں نے استفسار کیاکہ کس کی کال تھی تو صاحب نے بتایا کہ فلاں پڑوسی کی کال تھی اور وہ بتا رہے تھے کہ ان کے بیٹے کی شادی ہے جس پر ہم بھی مدعو تھے اور اسی سلسلے میں اس رات کو ان کے اپنے خاندان کی ایک چھوٹی سی تقریب تھی، جس میں ڈھولک اور موسیقی کا اہتمام تھا اور وہ سب محلے داروں کو بتا کر پیشگی معذرت بھی کر رہے تھے اور اس بات پر شرمندہ بھی کہ ان کی وجہ سے ان کے محلے دار اس رات ذرا ڈسٹرب ہوں گے، انھوں نے کہا تھا کہ ان کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ جلدازجلد اس تقریب کو نمٹائیں۔

’’ کو ن لوگ ہیں یہ جن کے بیچوں بیچ ہم آن بسے ہیں؟‘‘ میں نے صاحب سے سوال کیا۔ شہروں میں رہتے ہوئے اب ایسی محلہ داری کی تو بالکل عادت نہیں رہی ہے اور جس طرح کے علاقے میں ہم رہتے ہیں اس طرح کے علاقوں کے بارے میں تو کہتے ہیں کہ اڑوس پڑوس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی ہے۔ یہ کون لوگ ہیں جن میں سے ایک نوجوان جس نے شاید اپنے کمرے کی کھڑکی سے سویرے سویرے یہ منظر دیکھا ہو گا اور بھاگتا اور بھیگتا ہوا آیا کہ ہمیں خبردار کرے، وہ کروٹ بدل کر سوجاتا، پردے برابر کر کے سوچتا کہ اسے اس سے کیا تو جانے کتنا نقصان ہو جاتا۔

شہروں میں ہر روز شادیاں ہوتی ہیں، عام پارٹیوں میں بھی بے تحاشہ بلند آواز میں میوزک اور مستی ہوتی ہے۔ اڑوس پڑوس پر کیا بیتتی ہے، اس سے کسی کو کوئی غرض نہیں ہوتی تو ایسے میں کسی کا کال کر کے اہل محلہ کو مطلع کرنا اور اس کے لیے معذرت کرنا کسی کو بھی متوقع نہیں ہوتا ہے۔ کوئی نہ بتائے تو اہل محلہ صلواتیں سناتے اور ایسی ہلڑبازی پر جانے کیا کیا القاب دیتے ہیں مگر انھوں نے ہم سب کو مطلع کردیا تو یہ ایک ایسی اخلاقی قدر تھی کہ ہمیں دل سے اس کی قدرہوئی۔

چند دن پہلے ایک مال میں میں نے ایک جوڑا پسند کر کے اس کا ہینگر اٹھا لیا اور چلتے چلتے کوئی اور جوڑا پسند آگیا تو وہ اٹھا کر پہلے والا ہینگر واپس رکھا تو میرے عقب سے ایک خاتون نے آکر مجھ سے سوال کیا کہ کیا وہ اس ہینگر پر ٹنگا جوڑا دیکھ سکتی ہے… میںنے حیرت سے اسے دیکھا، مجھے اس کے سر پر کوئی سینگ نظر نہیں آئے۔

میں نے اثبات میں جواب دیا تو اس نے کہا کہ اسے وہ جوڑا چاہیے تھا مگر علم ہوا کہ وہ صرف وہی ایک اس ناپ کا جوڑا تھا جو میں نے اٹھا لیا تھا، اسے جب بعد میں وہ جوڑا کہیں اور لٹکا ہوا نظر آیا تو اس نے پھر بھی آکر مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا میں نے وہ جوڑا مسترد کر کے رکھا تھا یا تھک کر عارضی طور پر لٹکا دیا تھا۔ لوگ کسی کا طے شدہ رشتہ تڑوا کر اپنے گھرسے رشتہ دے دیتے ہیں تو ایک جوڑا کون سی بڑی چیز تھا۔ ایسی چھوٹی چھوٹی سی اخلاقی حرکتوں پر اب بہت حیرت ہوتی ہے کیونکہ اب ہمارے ہاں ان اقدار کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔

پہلے پہل بچوں کو بزرگوں کی محفلوں میں بے مقصد بیٹھنے سے منع کیا جاتا تھا کہ وہ خوامخواہ ہر بات میں اختلاف کرنے کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں اورگفتگو کے آداب بھول جاتے ہیں۔ (یوں بھی بچوں کو بڑوں کے احترام میں اپنی جگہ چھوڑنا ہوتی تھی اور یوں اگر کسی جگہ پر بڑے زیادہ ہوتے تھے تو بچوں کو یوں بھی وہاں جگہ نہیں ملتی تھی)۔ کسی کو سننا بہت ادب کی بات ہے مگر اب ہر کوئی اپنی کہنا چاہتا ہے۔

والدین کا یہ کہنا کہ فلاں بری بات ان کا بچہ اسکول سے سیکھ کر آ گیا ہے، بچوں کو اس وقت اسکول بھیجیں جب وہ اس عمر میں ہو کہ اسے ذرا سی اچھے اور برے کی تربیت آپ خود دے لیں۔ اٹھنے بیٹھنے کے، چلنے اور کھڑے ہونے کے، بولنے اور خاموشی کے، پہننے اوڑھنے کے بھی آدا ب ہیں۔

مانگنے، دینے، لینے، شکر اور شکریہ کے، احترام کرنے کے، بڑے چھوٹے سے کس طرح کا سلوک روا رکھا جائے، سچ بولنا، ایمانداری، وعدہ پورا کرنا، وقت کی پابندی… پہلے یہ سب کچھ گھروں میں سکھایا جاتا تھا اور پھر چوتھی پانچویں جماعت سے اخلاقیات کا مضمون نصاب میں شامل ہوتا تھا جو جانے کب، کس کے ہاتھوں اور کیوں غیرضروری سمجھ کر نصاب سے حذف کردیا گیا ہے اور اس کے حذف ہونے سے معاشرے میں سے اخلاقیات مفقود ہو گئی ہیں۔

جس طرح عصرحاضر میں چھوٹی چھوٹی عبادات کو قائم رکھنا بھی لوگوں کو مشکل لگنے لگا ہے، ماڈرن دور کے لوگ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو مذہب کے قریب اور اس پر عمل پیرا ہیں، کسی نوجوان کو کسی مجلس سے دلچسپی کے عناصر چھوڑ کر نماز کے لیے اٹھتا ہوا دیکھیں تو لوگوں کوحیرت ہوتی ہے۔

اسی طرح اخلاقیات کا خانہ بھی خالی ہو گیا ہے اور جب کوئی چھوٹی سے چھوٹی اخلاقی حرکت بھی کرے تو دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ آج کے بچوں کو معذرت، تشکر، عفو ودرگزر، حسن اخلاق، رواداری، تمیز، نرم دلی، صلہ رحمی، صداقت، امانت داری، ایفائے عہد وغیرہ کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہے جتنا کہ ان کی اسلامیات کی کتابوں کے بارے میں لکھا ہوتا ہے۔

ان بچوں کو سکھانے کے لیے اہم ہے کہ پہلے یہ سب کچھ ان کے والدین کو آتا ہو اور وہ اس پر عمل بھی کرتے ہوں۔ کاش یہ سب کچھ اتنا ہی خوبصورت ہو کہ وہ اقدار جن کی وجہ سے زندگیوں میں سکون تھا، پیسے اور وقت کے زیاں کی دوڑ نہیں تھی اور انسانوں، رشتوں اور دوست احباب کی اہمیت مال وزر اور نمود ونمائش سے زیادہ تھی۔