فلمی دنیا کے مبصرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ فلمیں صرف پردۂ سیمیں پر نہیں بنتیں، کچھ فلمیں لوگوں کے دلوں میں بھی بنتی ہیں اور کچھ اداکار صرف کردار ادا نہیں کرتے بلکہ لوگوں کی یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ فلم ختم ہوجاتی ہے، پردہ گر جاتا ہے، روشنیاں جل جاتی ہیں، لوگ سینما سے باہر نکل آتے ہیں، مگر کچھ چہرے وہیں رہ جاتے ہیں؛ دل میں، ذہن میں یا شاید یادوں میں۔
برصغیر میں فلمی صنعت کی تاریخ بھی کچھ ایسی ہی یادوں سے عبارت ہے۔ خاموش فلموں کے دور سے شروع ہونے والا سفر جب بولتی فلموں تک پہنچا تو برصغیر کے لوگوں کو ایک نئی دنیا مل گئی۔ پردۂ سیمیں پر کہانیاں تھیں، موسیقی تھی، محبت تھی، جدائی تھی، خوشی تھی، غم تھا اور سب سے بڑھ کر انسان تھے۔ فلم صرف تفریح نہیں رہی بلکہ آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے، ہماری سوچ اور ہمارے اجتماعی جذبات کا آئینہ بنتی چلی گئی۔
اس کے بعد وہ دور آیا جب دلیپ کمار، راج کپور اور دیو آنند جیسے فنکاروں نے اداکاری کو نئی شناخت دی۔ دلیپ کمار نے درد کو زبان دی، راج کپور نے عام آدمی کے خواب کو پردۂ سیمیں پر اتارا اور دیو آنند نے رومانس کو ایک نئی دلکشی عطا کی۔ بعد میں امیتابھ بچن آئے تو ایک پورے عہد کا غصہ ان کی آواز بن گیا۔ وقت گزرتا رہا اور سینما بھی بدلتا رہا۔
بھارتی سنیما اور تھیٹر کی تاریخ میں کچھ اداکار ایسے ہوتے ہیں جو صرف پردے پر نظر آتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پردے کو اپنے جذبات کی حدت سے روشن کر دیتے ہیں۔ نانا پاٹیکر ایک ایسا ہی نام تھا۔ وہ محض ایک فنکار نہیں بلکہ اداکاری کے ایک منفرد، بے باک اور یادگار انداز کا نام تھے۔ 8 اکتوبر 2026 کو گوا سے ان کے اچانک انتقال کی خبر آئی تو برصغیر کے کروڑوں مداح سوگوار ہوگئے۔ پچھتر برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے دنیا چھوڑ جانے والے اس فنکار نے اپنے پیچھے اداکاری کا ایسا معیار چھوڑا ہے جس تک پہنچنا آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشکل چیلنج رہے گا۔
کہتے ہیں کہ زندگی کے آخری لمحات میں کہے گئے بعض الفاظ، انسان کے جانے کے بعد ایک نئی معنویت اختیار کرلیتے ہیں۔ نانا پاٹیکر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اپنی وفات سے چند روز پہلے گوا میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے اپنے مخصوص فلسفیانہ انداز میں کہا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ وہ اگلے دن وہاں موجود ہوں گے یا نہیں، کیونکہ ہر شخص کو ایک دن دنیا سے جانا ہے۔ ان کے یہ الفاظ اب ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں ایک الگ کیفیت کے ساتھ گونج رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، وہ 8 اکتوبر کی صبح گوا میں اپنے گھر پر دل کا دورہ پڑنے کے بعد انتقال کر گئے۔ یوں زندگی اور موت کے بارے میں بات کرنے والا ایک فنکار خود زندگی کے اس سفر سے رخصت ہوگیا جسے اس نے اپنے فن سے کئی دہائیوں تک یادگار بنایا۔
نانا پاٹیکر کا فلمی سفر روایتی بالی ووڈ ہیروز جیسا چمکدار نہیں تھا۔ ان کی زندگی کے ابتدائی حالات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کم عمری ہی میں کام کرنا شروع کردیا تھا اور زندگی کے کئی مشکل مراحل سے گزرے۔ ان کی جدوجہد کے بارے میں مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں، جن میں کم عمری میں معمولی معاوضے پر کام کرنے اور سخت حالات میں زندگی گزارنے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ ان تمام مشکلات کی تفصیلات سے قطع نظر، یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ان کا فلمی سفر آسان نہیں تھا۔ شاید زندگی کی تلخیوں اور حقیقی تجربات نے ہی ان کی اداکاری میں وہ کھردرا پن اور سچائی پیدا کی جس نے انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کردیا۔
نانا پاٹیکر کو دیکھتے ہوئے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ یہ شخص اداکاری نہیں کر رہا، ہمارے سامنے کوئی حقیقی انسان موجود ہے۔ ایک ایسا انسان جو غصہ بھی کرتا ہے، ٹوٹتا بھی ہے، لڑتا بھی ہے، محبت بھی کرتا ہے، شکست بھی کھاتا ہے اور کبھی کبھی اپنی خاموشی میں وہ سب کچھ کہہ دیتا ہے جو کئی صفحات کے مکالمے بھی نہیں کہہ سکتے۔
کچھ اداکار کردار ادا کرتے ہیں، نانا پاٹیکر کردار میں اتر جاتے ہیں۔ ان کی آواز میں ایک عجیب سی کھردری کیفیت تھی، لیکن یہی کھردرا پن ان کی پہچان بن گیا۔ وہ جب غصے میں بولتے تھے تو صرف غصہ سنائی نہیں دیتا تھا، اس غصے کے پیچھے چھپی ہوئی بے بسی بھی محسوس ہوتی تھی۔ وہ جب کسی کردار کی تکلیف بیان کرتے تھے تو ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ ہمیں کسی اور کی کہانی سنا رہے ہیں، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ہمارے اپنے معاشرے کے کسی زخم پر ہاتھ رکھ رہے ہوں۔ شاید یہی ایک بڑے اداکار اور اچھے اداکار میں فرق ہوتا ہے۔ اچھا اداکار ہمیں کردار دکھاتا ہے، بڑا اداکار ہمیں کردار کے اندر موجود انسان دکھاتا ہے۔
فلم ’کرانتی ویر‘ میں ان کی بے باک اداکاری نے انہیں بہترین اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ دلوایا۔ ’پرندہ‘ میں ان کا کردار بھی ان کی فنی صلاحیتوں کا ایک اہم حوالہ بنا، جس پر انہیں فلم فیئر کا بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا۔ ’تیرنگا‘ میں ان کا انداز بھی شائقین کے ذہنوں میں نقش رہا۔ ان فلموں میں ان کا غصہ، ان کی بے باکی اور ناانصافی کے خلاف ان کا بپھرا ہوا انداز محض اداکاری نہیں محسوس ہوتا تھا بلکہ معاشرے کے اندر جمع ہونے والی بے چینی کی آواز بن جاتا تھا۔
مراٹھی شاہکار ’نٹسمرات‘ میں ایک زوال پذیر تھیٹر آرٹسٹ کے دکھ کو جس خوب صورتی سے انہوں نے پردے پر جیا، وہ ان کی فنی زندگی کے یادگار ترین کاموں میں شمار ہوتا ہے۔ فلم ’خاموشی: دی میوزیکل‘ میں گونگے اور بہرے باپ کے کردار میں ان کی اداکاری اس بات کی دلیل تھی کہ جذبات کی ترجمانی کے لیے ہمیشہ الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی ایک نگاہ، ایک اشارہ اور ایک خاموشی بھی طویل مکالمے سے زیادہ اثر پیدا کرسکتی ہے۔
فلم ’راج نیتی‘ میں ماما کا کردار ہو یا ’ویلکم‘ میں ادے شیٹی کا مزاحیہ روپ، نانا پاٹیکر نے بارہا ثابت کیا کہ وہ کسی ایک قسم کے کردار کے اسیر نہیں تھے۔ وہ سنجیدگی میں بھی کمال دکھاتے تھے اور مزاح میں بھی۔ ان کے چہرے کے تاثرات، مکالمے ادا کرنے کا انداز اور غیر متوقع ردعمل معمولی سے منظر کو بھی یادگار بنا دیتے تھے۔
جس طرح ’شعلے‘ میں گبر سنگھ کا مکالمہ ’’کتنے آدمی تھے؟‘‘ زبان زدِ عام ہوا، اسی طرح فلم ’یشونت‘ میں نانا پاٹیکر کا مشہور مکالمہ ’’سالا ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے‘‘ بھی عوامی یادداشت کا حصہ بن گیا۔ یہ مکالمے محض فلمی جملے نہیں رہے بلکہ روزمرہ گفتگو اور عوامی ثقافت میں اپنی جگہ بنا گئے۔
کہتے ہیں کہ ایک موقع پر شاہ رخ خان نے نانا پاٹیکر سے اپنی پہلی ملاقات کا واقعہ بیان کیا تھا۔ روایت کے مطابق، جب شاہ رخ خان اپنے بال سنوار رہے تھے تو نانا پاٹیکر نے انہیں یہ کہہ کر متوجہ کیا کہ ہیرو کی طرح بال بنانے کے بجائے اداکار بننے پر توجہ دو۔ اس واقعے کی اصل تفصیلات سے قطع نظر، اس میں ایک ایسا پیغام ضرور پوشیدہ ہے جو نانا پاٹیکر کی فنی شناخت سے مطابقت رکھتا ہے: اداکاری کا اصل کمال ظاہری چمک دمک میں نہیں، کردار کی سچائی میں ہوتا ہے۔
اداکاری سے ہٹ کر نانا پاٹیکر کی زندگی کا ایک اور پہلو بھی قابلِ ذکر ہے۔ ان کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ فلمی چکاچوند اور نمود و نمائش سے نسبتاً دور رہنے کو ترجیح دیتے تھے اور سماجی خدمت میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ مہاراشٹر کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کی مشکلات نے انہیں بھی متوجہ کیا۔ انہوں نے اداکار مکرند انسپورتے کے ساتھ مل کر ’نام فاؤنڈیشن‘کے قیام میں کردار ادا کیا، جس نے کسانوں اور دیہی آبادی کی مدد کے لیے کام کیا۔
کسانوں کی مشکلات، قرضوں کے بوجھ اور خودکشیوں کے واقعات نے اس خطے کو طویل عرصے سے متاثر کر رکھا تھا۔ ایسے میں کسی معروف فنکار کا فلمی دنیا سے نکل کر ان مسائل کی طرف توجہ دینا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ شہرت کی اصل قدر بھی تب سامنے آتی ہے جب اسے دوسروں کے کام آنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ نانا پاٹیکر کے بارے میں بیان کی جانے والی فلاحی سرگرمیوں کی تفصیلات اپنی جگہ، لیکن ان کی شخصیت کا یہ پہلو ان کے فن کے انسانی پہلو کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
ایک ہی شخص کبھی ہمیں رلاتا ہے، کبھی ہنساتا ہے، کبھی غصہ دلاتا ہے اور کبھی ہمیں اپنے ہی معاشرے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ مگر شاید نانا پاٹیکر کی اصل خوبی فلم ختم ہونے کے بعد سامنے آتی ہے۔ کیمرہ بند ہوجاتا ہے، کردار ختم ہوجاتا ہے، فلم کا آخری منظر گزر جاتا ہے، مگر سوال باقی رہ جاتا ہے۔
کیا ہم نے اس کردار کو صرف دیکھا تھا یا اس میں اپنے معاشرے کا کوئی چہرہ بھی پہچانا تھا؟ ایک فنکار کی کامیابی شاید یہی ہے کہ وہ ہمیں دوسروں کو دیکھتے دیکھتے خود کو دیکھنے پر مجبور کردے۔ اگر ایک فنکار معاشرے کے دکھ کو محسوس کرتا ہے تو اس کا فن بھی محض تفریح نہیں رہتا، وہ ایک احساس بن جاتا ہے۔
برصغیر کے سینما نے ہمیں بہت سے عظیم فنکار دیے۔ کچھ اپنی خوب صورتی کے باعث یاد رہے، کچھ اپنی آواز کے باعث، کچھ اپنی مقبولیت کے باعث اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اس لیے یاد رہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں انسان کے مختلف روپ دکھائے۔
نانا پاٹیکر کا شمار شاید آخری قسم کے فنکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ہمیں صرف وہ انسان نہیں دکھایا جو پردۂ سیمیں پر نظر آتا ہے، بلکہ اس کے پیچھے چھپا ہوا انسان بھی دکھایا؛ خوف زدہ، زخمی، غصے میں، محبت میں، شکست خوردہ اور پھر بھی زندگی سے لڑتا ہوا۔ شاید اسی لیے نانا پاٹیکر کو دیکھتے ہوئے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم سینما میں بیٹھ کر کسی اداکار کو نہیں دیکھ رہے ہوتے، ہم اپنے اردگرد کے کسی انسان کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ وہ انسان جو شاید ہماری گلی میں رہتا ہے، ہمارے ساتھ سفر کرتا ہے، ہمارے دفتر میں بیٹھتا ہے یا کبھی کبھی تو ہمارے اپنے اندر موجود ہوتا ہے۔
فلمیں وقت کے ساتھ پرانی ہوجاتی ہیں۔ پوسٹر اتر جاتے ہیں، سینما بدل جاتے ہیں، نئی نسلیں نئے ہیرو تلاش کرلیتی ہیں۔ مگر اصل فنکار وقت کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ صرف پردے پر نہیں رہتا بلکہ لوگوں کی یادوں اور احساسات میں زندہ رہتا ہے۔
نانا پاٹیکر بھی شاید اسی لیے صرف ایک اداکار نہیں تھے۔ وہ ایک ایسی آواز تھے جو بہت کچھ کہہ کر بھی خاموش ہوجاتی تھی۔ وہ ایک ایسا چہرہ تھے جس پر کردار ختم ہونے کے بعد بھی کہانیاں باقی رہتی تھیں۔ وہ ایسے فنکار تھے جنہیں دیکھ کر کبھی کبھی یقین ہوجاتا ہے کہ اداکاری اگر سچائی کے قریب پہنچ جائے تو فن نہیں رہتی، زندگی بن جاتی ہے۔
نانا پاٹیکر کے لیے شاید اس سے بڑا خراجِ تحسین اور کیا ہوگا کہ ہم ان کی فلم دیکھ کر صرف یہ نہ کہیں کہ ’’کیا زبردست اداکاری تھی!‘‘ بلکہ فلم ختم ہونے کے بعد کچھ دیر خاموش رہیں اور سوچیں: ’’یہ شخص اداکاری کر رہا تھا یا ہمیں زندگی دکھا رہا تھا؟‘‘
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔