کراچی:
ایم کیو ایم پاکستان نے کے پی کے میں گورنر راج نافذ کرنے کی حمایت کردی، فاروق ستار نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی گورنر راج کے خلاف ہے تو صدر مملکت کے فیصلے پر اپنا مؤقف واضح کرے۔
یہ بات فاروق ستار نے بہادرآباد مرکز پر پریس کانفرنس میں کہی۔ ان کے ساتھ انیس احمد قائم خانی، سابق میئر وسیم اختر اور دیگر موجود تھے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ آج پالیسی ساز سطح پر وفاقی حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا جو اہم فیصلہ کیا ہے، ہمارے دونوں وفاقی وزرا اس کابینہ اجلاس میں موجود تھے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم اس قومی فیصلے کی حامی اور شریک ہے کیونکہ پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا خطرہ انتہا پسندی اور دہشتگردی سے ہے، جبکہ ماضی میں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کو کھلی چھوٹ دینے کی وجہ سے کے پی میں حالات خراب ہوئے اور افواجِ پاکستان کو مجبورا سخت فیصلے کرنا پڑے، لہذا ہم ہمیشہ قومی سلامتی کے لیے ریاست اور عسکری اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
انہوں نے پیپلز پارٹی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی گورنر راج نہیں چاہتی تو صدرِ مملکت کے جاری کردہ احکامات پر اپنا موقف واضح کرے کیونکہ ہر فیصلے کے اثرات کراچی پر آتے ہیں اور سندھ میں موجود دہشتگردوں کے سلیپر سیلز کا فوری قلع قمع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ صدر مملکت نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی یہ وزیراعظم کا نہیں بلکہ صدر مملکت کا نوٹیفکیشن ہے، پیپلز پارٹی گورنر راج کے خلاف ہے تو صدر مملکت کے فیصلے پر اپنا مؤقف واضح کرے، پیپلز پارٹی اپنے وزیراعلیٰ کو سمجھائے کہ آئینی معاملات پر واضح مؤقف اختیار کریں ایسا نہ ہو کہ کل سندھ میں بھی ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کی ضرورت پڑ جائے، سندھ میں بھی ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، اگر پیپلز پارٹی گورنر راج نہیں چاہتی تو اپنے فیصلے اور مؤقف میں وضاحت لائے۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صدر مملکت نے نوٹیفکیشن پر دستخط کیے، ضرورت پڑنے پر آرٹیکل 233 کے تحت بھی اقدام کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کو مقدم رکھنا ہوگا، دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی اور 26 کروڑ عوام کے حقوق، امن اور سلامتی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔