لاہور:
محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب نے ائیرکوالٹی مانیٹرز کی تعداد بڑھانے سمیت صوبے میں دریاؤں، نہروں، ڈرینز اور دیگر سطحی آبی ذخائر میں پانی کے معیار کی مسلسل نگرانی کے لیے 15 جدید واٹر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز قائم کر دیئے ہیں، جہاں سے پانی کے معیار کا ڈیٹا ہر گھنٹے مرکزی کنٹرول روم کو ارسال کیا جا رہا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق واٹر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز کا منصوبہ ابتدائی طور پر تقریباً 60 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں منصوبے پر نظرثانی کی گئی اور نومبر 2024 میں اس کی مجموعی لاگت 2 ارب 97 کروڑ 27 لاکھ 20 ہزار روپے مقرر کی گئی۔
منصوبے کے تحت پنجاب کے اہم دریاؤں، نہری نظام، آلودہ پانی کے نکاس کے لیے استعمال ہونے والے ڈرینز اور دیگر اہم سطحی آبی ذخائر میں پانی کے معیار کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ منصوبے کے لیے دریائے راوی، چناب، جہلم اور ستلج سمیت اہم آبی نظام کو ترجیح دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق مانیٹرنگ اسٹیشنز میں پانی کے مختلف معیار جانچنے والے آلات، پانی کے بہاؤ کی پیمائش، ڈیٹا محفوظ کرنے کے نظام اور مرکزی ڈیٹا حاصل کرنے کے نظام کو شامل کیا گیا ہے۔ اسٹیشنز سے حاصل ہونے والا ڈیٹا محکمہ تحفظ ماحولیات کے مرکزی کنٹرول روم تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے پانی کے معیار میں تبدیلیوں اور آلودگی کی صورتحال کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی۔
ڈائریکٹر ادارہ تحفظ ماحولیات پنجاب عبداللہ نئیرشیخ کے مطابق منصوبے کا بنیادی مقصد دریاؤں اور دیگر سطحی آبی ذخائر میں آلودگی کی صورتحال کی مسلسل نگرانی، آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کے لیے بروقت معلومات فراہم کرنا ہے۔
منصوبہ عالمی بینک کے تعاون سے پنجاب گرین ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت شروع کیا گیا تھا۔ اس کے تحت 15 مانیٹرنگ اسٹیشنز کو مئی 2025 تک فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا تاہم منصوبے میں تاخیر کے باعث بعد میں اس پر نظرثانی کی گئی۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر آبی امور سہیل احمد نقوی نے تحفظ ماحولیات کے ادارے کی جانب سے دریاؤں اور مختلف مقامات پر واٹر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم لگانے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ جدید سسٹمز پہلے سے کام کر رہے ہیں، جن کے سینسرز کے ذریعے پانی کے معیار اور آلودگی کی صورتحال کا بروقت علم ہو جاتا ہے۔ اس سے فیصلہ سازوں اور منصوبہ سازوں کو صنعتی و دیگر ضائع شدہ پانی (ویسٹ) کو ٹریٹ کرنے اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے فعال پالیسیاں بنانے میں مدد ملتی ہے۔
سہیل احمد نقوی نے تجویز دی کہ حکومت اس سسٹم کے تحت اکٹھا ہونے والے تمام ڈیٹا تک عوام کو بھی براہِ راست رسائی فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سموگ اور ہوا کے معیار کا لیول عام کیا جاتا ہے، اسی طرح مختلف مقامات جیسے تریموں ہیڈ، بی آر بی ڈی کینال، اور لاہور کے داخل و خارجی پوائنٹس پر پانی کے معیار، اس میں موجود ہیوی میٹلز، آرگینک ویسٹ اور بارشوں کے بعد آنے والی تبدیلیوں کا ڈیٹا بھی عوامی سطح پر جاری کیا جانا چاہیے۔ اگر حکومت اس پیشرفت کو شفافیت کے ساتھ آگے بڑھائے تو یہ پانی کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے ایک نہایت تحسین آمیز قدم ثابت ہوگا۔
پنجاب یونیورسٹی کے سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ریسرچ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد یاسین کے مطابق دریاؤں، ڈرینوں اور نہروں میں پانی کے داخل ہونے اور خارج ہونے کے مقامات پر واٹر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب سے پانی کے معیار میں ہونے والی تبدیلیوں کی مسلسل نگرانی ممکن ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے یہ معلوم کیا جاسکے گا کہ کسی مقام پر پانی میں آلودگی کس سطح پر موجود ہے اور مختلف مقامات سے گزرنے کے دوران اس کے معیار میں کیا تبدیلی آئی۔ اس سے آلودگی کے ذرائع کی بروقت نشاندہی، صنعتی یا سیوریج کے آلودہ پانی کے اخراج کی نگرانی اور پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات میں مدد مل سکتی ہے۔
ڈائریکٹرانوائرمنٹل مانیٹرنگ سسٹم (ای ایم سی ) نوراحمد نے بتایا کہ اب تک دریائے راوی پر سائفن کے مقام پر، ہڈیارہ ڈرین کے ڈاؤن سٹریم اور تمام ہیڈورکس پر 15 مانیٹرنگ اسٹیشنز نصب کیے جا چکے ہیں اور اس سے حاصل ہونیوالے ڈیٹا کو چیک کیا جارہا ہے۔ مانیٹرنگ سسٹم چونکہ بیرون ملک سے امپورٹ کیے گئے ہیں تو سسٹم کو ہمارے مقامی دریاؤں، ڈرینوں اور ہیڈورکس کے ساتھ ہم آہنگ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تھرڈ پارٹی ڈیکلیئریشن کے بعد ڈیٹا مرکزی ڈیش بورڈ پرجاری ہونا شروع ہوجائیگا۔