کے پی ایمرجنسی؛ 3 ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز مستعفی، بیوروکریسی میں بڑے تبادلے، اسکول بند

پشاور میں ایک روز کے لیے سرکاری اور نجی اسکول ایک روز کے لیے بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا


احتشام بشیر October 11, 2026
فوٹو: فائل

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد 3 ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے اور بیوروکریسی میں بھی بڑے پیمانے پر تبادلے کیے گئے ہیں، پشاور میں سرکاری اور پرائیویٹ اسکول ایک روز کے لیے بند کردیے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز میں ایوب خان، عالم خان اور شاہ فیصل الیاس شامل ہیں اور استعفے میں مؤقف اپنایا کہ ایسے اقدامات جمہوری اداروں اور عوام کے آئینی مینڈیٹ کو مجروح کرتے ہیں۔

استعفے میں انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کو تباہ کرنے آئینی نظام پر عوام کے اعتماد کو خراب کرنے کا خطرہ ہے، آئین سب سے بڑا قانون ہے، تمام ریاستی ادارے اور عوامی عہدیدار آئین کے تحت کام کرنے کے پابند ہیں۔

مستعفی ایڈووکیٹ جنرلز نے کہا کہ جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کے بجائے تحفظ دینا اور مضبوط کیا جانا چاہیے۔

بیوروکریسی میں بڑے تبادلے

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد بیوروکریسی میں بڑے تبادلے کیے گئے ہیں اور 6 ڈویژن کے کمشنرز کو تبدیل اور چار ڈویژن کے کمشنرز کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے، اسپیشل سیکریٹری زراعت پرویز کو کمشنر کوہاٹ، کمشنر بنوں خالد محمود کو کشمنر پشاور تبدیل کردیا گیا ہے۔

اسی طرح تعیناتی کے منتظر احمد علی شاہ کو کمشنر مردان، ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نعیم اللہ کو کمشنر بنوں، اسپیشل سیکریٹری ہوم شاکر اللہ کو کمشنر ہزارہ، وفاقی جائنٹ سیکریٹری اقبال حسین کمشنر ملاکنڈ جبکہ کمشنر ریاض خان محسود، کشمنر مردان حبیب اللہ عارف کو او ایس ڈی بنادیا گیا۔

کمشنر ہزارہ شاہد اللہ، کمشنرملاکنڈ مسعود احمد اور کمشنر کوہاٹ معتصم بااللہ کو محکمہ انتظامیہ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پولیس میں بڑے تبادلے

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد پولیس میں بھی بڑے پیمانے پر تبادلے کیے گئے ہیں، ایڈیشنل آئی جیس فصیح الدین کو اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، آر پی او ہزارہ ناصر محمود ستی کو کمانڈنٹ ایف آر پی میں بھیج دیا گیا اور ڈی آئی جی لیگل برانچ ہمایون مسعود کو اسیٹبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور آر پی او ملاکنڈ سید فدا حسین کو ڈی آئی جی آپریشن کے طور تعینات کیا گیا ہے۔

کمانڈنٹ ایف آر پی جہانزیب نذیر کو آر پی او ہزارہ ریجن تبدیل کردیا گیا، آر پی او کوہاٹ عرفان طارق کو اسیٹبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، ڈی آئی جی آپریشن شاکر حسین داوڑ کو آر پی او کوہاٹ تبدیل کردیا گیا، تعیناتی کے منتظر زاہد نواز کو آر پی او ملاکنڈ تعینات کردیا گیا۔

ڈی پی او کرک عمران خان کو اسیٹبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے، ڈی پی او مانسہرہ محمد اظہر کو اے آئی جی سی پی او بھیج دیا گیا ہے، ایس ایس پی سی ٹی ڈی مردان محمد وقاص کو ڈی پی او مانسہرہ اور ایس پی انوسٹی گیشن محمد جمیل اختر ڈی پی او اپر سوات تعینات کردیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد ایس پی انوسٹیگیشن نیاز محمد ڈی پی او کرک، ڈی پی او اپر سوات مشتاق احمد ایس پی ایلیٹ فورس پشاور تعینات کیا گیا، اے آئی جی لاجسٹک محمد خالد ڈی پی او لوئر چترال، ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ کو سی سی پی او پشاور رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسی طرح  اے آئی جی سی پی او تیمور خان کو ڈی پی او ہری پور، ڈی پی او چترال لوئر ریشم جہانگیر کو اے آئی جی سی پی او پشاور تعینات کردیا گیا۔

پشاور میں سرکاری اور پرائیویٹ اسکول ایک روز کے لیے بند

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پشاور میں سرکاری اور پرائیویٹ اسکول بند کردیے گئے ہیں۔

پشاور کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ایک روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔