سیاست اہم یا دہشت گردی

وفاقی حکومت کے قریب بھی اس وقت ملک میں جاری رہنے والی دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ ہے


[email protected]

صدر مملکت آصف زرداری نے شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی پرسیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کااظہار کیا ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تشکیل دیا گیا نیشنل ایکشن پلان محض ایک عام انتظامی حکمت عملی نہیں بلکہ یہ پاکستان کی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہی نہیں بلکہ پاکستان کے آئین، ملکی سلامتی اور قرآن و سنت سے بھی جڑاہوا ہے۔ وفاقی وزیروں نے الزام لگایا ہے کہ حالیہ مذاکرات دہشت گردی پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی عدم دلچسپی پر ناکام ہوئے کیونکہ پی ٹی آئی کے نزدیک دہشت گردی اہم نہیں اور آج تک پی ٹی آئی نے دہشت گردی کی مذمت نہیںکی۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ دہشت گردوں کو سپورٹ کرنا وزیر اعلیٰ کے پی کی پالیسی رہی ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان میں دہشت گردی کرانے والے افغانستان کے ساتھ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں طالبان کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اور افغانستان سے پیدا ہونے والی پاکستان میں دہشت گردی کے نتیجے میں چار ہزارسات سو افراد شہید ہو چکے ہیں اور افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان جنھیں افغان حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے وہ کے پی میں ہی دہشت گردی کر رہے ہیں جس سے سب سے زیادہ نقصان بھی کے پی میں ہو رہا ہے اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور کے پی پولیس زیادہ نشانہ بن رہی ہے۔

کے پی میں عام لوگ بھی ہلاک ہو رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ کے پی الٹا الزام حکومت پاکستان پر مسلسل لگاتے آ رہے ہیں مگر طالبان کے خلاف وہ زبان سے ایک لفظ نہیں بولتے اور اپنے صوبے میں دہشت گردی کا ذمے دار وہ افغان حکومت کی بجائے ریاست پاکستان پر لگاتے ہیں کہ ان کی پالیسی ہی غلط ہے۔ انھیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی سب سے زیادہ جانی قربانی یاد نہیں رہی جو وہ سالوں سے کے پی کے عوام کی حفاظت کے لیے دے رہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے پی کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ دنوں کے پی پولیس کا جو سب سے بڑا جانی نقصان ہوا تھا مگر وزیر اعلیٰ کے پی سیاست میں مصروف رہے اور پولیس کے شہدا کے جنازوں میں جانے کی انھیں فرصت نہیں ملی تھی۔ کے پی حکومت پر الزام ہے کہ وہ دیگر صوبوں کی طرح نیشنل ایکشن پلان پر عمل کر رہی اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف ریاست کی پالیسی کے مطابق چل رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی یہ بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ حالات قابو سے باہر ہو گئے ہیں جنھیں دوبارہ آباد کیا وہ بھی بے قابو ہو گئے ہیں۔ سابقہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت میں ریاست کے منع کرنے کے باوجود پاکستانی طالبان کو واپس لا کر کے پی میں آباد کیا تھا اور ان کی طالبان سے محبت ڈھکی چھپی نہیں اور اسی لیے انھیں طالبان خان بھی کہا گیا اور ان کے سابق وزیر اعلیٰ گنڈاپور اور موجودہ وزیر اعلیٰ چاہتے تھے کہ کے پی حکومت خود افغانستان سے رابطہ رکھے اور مذاکرات کرے جو ملکی خارجہ پالیسی کے خلاف تھا اور حکومت پاکستان نے دونوں کو اس غیر آئینی اقدام سے روکا تھا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، راجہ ناصر عباس نے حال ہی میں مولانا فضل الرحمن سے مجوزہ اپوزیشن کی اے پی سی کے لیے ملاقات کی جس میں خود مولانا نے سیاست کی بجائے دہشت گردی کو ترجیح دی کہ دہشت گردی زیادہ اہم ہے جس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشاورت ہونی چاہیے مگر وہاں موجود پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اپوزیشن کی اے پی سی کے لیے مولانا فضل الرحمن کی سیاسی حمایت حاصل کرنے پر توجہ دی مگر دہشت گردی کے خلاف مولانا کے موقف کی تائید نہیں کی کیونکہ ان کے قریب کے پی کو سب سے زیادہ درپیش دہشت گردی نہیں بلکہ عمران خان کے لیے آئین کی یہ لڑائی ہے اور اس سیاسی لڑائی کو جیتنا پی ٹی آئی کی اولین ترجیح ہے۔

حکومت پاکستان کی طرف سے مسلسل سابق وزیر اعظم عمران خان پر پاکستانی طالبان دہشت گردوں کی حمایت اور سرپرستی کا الزام لگایا جاتا رہا اور اب وفاقی وزرا یہ الزام لگا رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کے پی کی ملک دشمن پالیسی کی وجہ سے دہشت گردوں کے خلاف ریاستی کارروائی میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

حکومت پاکستان اور وزیر اعلیٰ کے پی ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کے قریب کے پی اور بلوچستان دہشت گردی کی آگ میں جل رہے ہیں۔ مولانا کا کہنا درست ہے کہ دہشت گردی پر سیاست کی بجائے قومی سطح پر مشاورت ہونی چاہیے کیونکہ یہ سب سے اہم مسئلہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن، گورنر کے پی فیصل کنڈی اور سابق وزیر اعلیٰ گنڈا پور کے آبائی ضلع ڈی آئی خان میں دہشت گردی عروج پر ہے جہاں سے وزیر اعلیٰ کے پی نے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کیا جہاں انھوں نے دہشت گردی کو ترجیح نہیں دی اور اپنے بانی کے عشق میں لانگ مارچ کو ترجیح دی کیونکہ ان کی سیاست کا محور اپنے صوبے میں جاری دہشت گردی نہیں بلکہ اپنے بانی کے سیاسی مفادات ہیں۔

وفاقی حکومت کے قریب بھی اس وقت ملک میں جاری رہنے والی دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ ہے جس میں قیمتی جانیں مسلسل ضایع ہو رہی ہیں جس کی وجہ قومی ایکشن پلان پر مکمل عمل نہ ہونا اور صوبہ کے پی کا وفاق سے عدم تعاون ہے جبکہ دہشت گردی کے شکار دوسرے صوبے بلوچستان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف ریاست سے مکمل تعاون کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت کے نزدیک دہشت گردی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا خاتمہ ضروری ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کے پی دہشت گردی سے زیادہ اہم لانگ مارچ اور محمود اچکزئی کے نزدیک بھی اپنے صوبے بلوچستان میں جاری دہشت گردی سے زیادہ بانی سے ملاقات زیادہ ضروری ہے جو کرانے پر ہی حکومت سے مذاکرات ممکن ہو سکیں گے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں جبکہ حکومتی وزرا مذاکرات کی ناکامی حکومت کے پی کے وزیر اعلیٰ کے گلے ڈال چکے ہیں اور الزامات در الزامات سے کے پی میں دہشت گردی نہیں رک رہی اور سیاست اہم بنی ہوئی ہے۔ موجودہ صورت حال میں پی ٹی آئی اور اس کے حامی دونوں اپوزیشن لیڈر ہوش مندی کا مظاہرہ کریں اور سیاست کو نہیں کے پی اور بلوچستان میں مسلسل جاری دہشت گردی سے متعلق مولانا فضل الرحمن کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں۔اس وقت ملک میں امن کی اشد ضرورت ہے۔