جب ہم تاریخ کے اس باب کو دیکھتے ہیں ، ذرا تصور کریں کہ ایک طرف تو دو ایسی عظیم الشان فوجیں ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے اور ان کے پاس اس دور کے جدید ترین ہتھیار ہیں۔ ان کے وسائل کا یہ عالم ہے کہ ان کے گھوڑوں کی آرائش بھی سونے اور چاندی سے کی گئی ہے۔
اور وہ اس بات سے بالکل بے خبر ہیں کہ ان کے غرور اور ان کی سلطنتوں کے زوال کی کہانی کسی شاہی محل میں نہیں بلکہ تپتے ہوئے ایک بنجر صحرا میں لکھی جا رہی ہے ۔ یہ انسانی تاریخ کا ایسا موڑ ہے جو ریاضی اور طاقت کے ہر روائیتی اصول کو توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ جب ہم تاریخ کے اس مخصوص باب کو مادی پیمانے پر مانپنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارے تمام تجزیے فیل ہو جاتے ہیں، کیونکہ ہم عام طور پر طاقت کا اندازہ فوجیوں کی تعداد، معیشت اور ہتھیاروں سے لگاتے ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ بالکل مختلف تھا، اور یہی وہ ناقابل فہم پہیلی ہے جسے ہم آج کے اس مطالعے میں سلجھانے کی کوشش کریں گے۔
ہمارے سامنے ڈاکٹر علی شریعتی کی ایک انتہائی بصیرت افروز تحریر موجود ہے جس کا عنوان ہے روشن خیال مفکرین کے نام ایک پیغام۔ یہ تحریر بنیادی طور پر سورہ روم کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتی ہے۔ اور آج کا اس علمی سفر کا مقصد واقعات کو دہرانا نہیں۔ بلکہ یہ کھوج لگانا ہے کہ آخر ساتویں صدی کے مکہ میں اس گھٹن زدہ اور بظاہر بے بس گروہ نے آخر ایسا کیا دریافت کر لیا تھا جس نے انھیں پوری دنیا کا نقشہ بدلنے کی طاقت دے دی۔ وہ میکنزم سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے اس لیڈر شپ کو سمجھنا ہو گا جس نے اس تحریک کی بنیاد رکھی یعنی پیغمبر ؐاسلام کی ذات طیبہ۔ ڈاکٹر شریعتی نے آپ ﷺ کی شخصیت کا انوکھا اور طاقتور خاکہ پیش کیا ہے۔
اگر ہم اس منظر نامے کو دیکھیں۔ جہاں مکہ کی گلیوں میں حضرت سمیہؓ اور حضرت یاسرؓ جیسے ابتدائی اور کمزور پیروکاروں پر ابوجہل کی طرف سے بدترین جسمانی تشدد کیا جا رہا تھا۔ بالکل ایک اذیت ناک منظر ، ایک طرف وہ ظالم ہیں جو اس تشدد سے ایک حیوانی خوشی محسوس کر رہے ہیں اور دوسری طرف اس عظیم انقلاب کا بانی صبر ، برداشت، ہمت اور جرات کا پیکر ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک رہنماء کے لیے اپنے ماننے والوں کو یوں بے بسی سے کٹتے دیکھنا اور ان کو صرف صبر کی تلقین کرنا کتنا مشکل ترین کام ہو گا۔ بظاہر تو یہ ایک بے بسی لگتی ہے۔ لیکن اگر ہم اس کی گہرائی میں جائیں اور دیکھیں تو ہمیں سمجھ آئے گا کہ یہ بے بسی نہیں تھی۔ پھر کیا تھا یہ۔ بلکہ یہ ایک انتہائی مضبوط اور نفسیاتی قلعے کی تعمیر تھی۔ جب پیغمبرؐ اسلام ان مظلوموں کے پاس جا کر کھڑے ہوتے اور ان کے درد کو محسوس کرتے تو ایک عجیب و غریب رشتہ جنم لے رہا ہوتا تھا۔ حضرت سمیہ اور حضرت یاسر جیسے اصحاب جو درد سے تڑپ رہے ہوتے تھے۔ وہ پیغمبرؐ اسلام کے چہرہ انور پر اپنے لیے وہ اذیت دیکھ کر اپنی تکلیف کو چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس حالت میں وہ مسکرانے کی کوشش کرتے کہ یہ محسوس نہ ہو کہ آپ کے پیروکار ٹوٹ رہے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک یکطرفہ ہمدردی نہیں تھی۔ بلکہ باہمی حفاظتی حصار بن رہا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو سہارا دے رہے تھے۔ یہ کسی مادی لالچ یا دنیاوی طاقت کا رشتہ تھا ہی نہیں۔ یہ خالص نظریاتی اور جذباتی بندھن تھا جو آگ اور خون سے گزر کر فولاد بن رہا تھا۔ یہ وہ بنیاد تھی جہاں پیروکار اپنے نظریے کے لیے جان دے رہے تھے۔ یہ وہ طاقت ہے جو کسی بھی تلوار اور لشکر سے زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ جسمانی تشدد اور اس میں ثابت قدم رہنا ۔ یہاں سے کہانی ایک اور رخ لیتی ہے۔ ایک ایسی اذیت کی طرف جو انسان کے دماغ اور روح کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ یعنی نفسیاتی دبائو اور ٹوٹ جانے کا المیہ۔ حضرت عمار ؓ کی کہانی ہم سنتے آئے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر شریعتی نے اس کی جو عکاسی کی ہے وہ سچ میں انسان کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے۔