بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی سادگی اور ہمارے کروفر

ہماری حکومت کے پاس پانچ سال ہیں ۔ ہم اِن پانچ برسوں میں 25کروڑ نئے درخت اُگانا چاہتے ہیں


تنویر قیصر شاہد October 12, 2026
[email protected]

’’ ہمسایوں کے ساتھ ہمارے جو بھی چند ایک تنازعات ہیں، ہم کسی جھگڑے کے بغیر اِنہیں حل کرنا چاہتے ہیں ۔ ہماری حکومت کے پاس پانچ سال ہیں ۔ ہم اِن پانچ برسوں میں 25کروڑ نئے درخت اُگانا چاہتے ہیں ۔ شجر کاری کی اِس عظیم مہم میں ہمیں اپنے عوام کے تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ مَیں خود استشنا لُوں گا نہ کسی کو دُوں گا۔ سرکاری ذمے دار جو کرے گا، اُسی نسبت سے بھگتے گا بھی ۔ ‘‘ یہ الفاظ بنگلہ دیش کے منتخب وزیر اعظم ، جناب طارق رحمن، کے ہیں ۔ اُن کی والدہ مرحومہ بھی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں اور اُن کے والد صاحب بنگلہ دیش کے ملٹری چیف ایگزیکٹو رہے ۔

مطلب یہ ہے کہ اُنہیں اقتدار کی باندی گھر میں مدتوں میسر رہی ، مگر اُن کا دماغ غیر متوازن ہُوا نہ بگڑا ۔ جناب طارق رحمن ایک عشرے سے زائد برطانیہ میں ، خود ساختہ، جلاوطنی میں رہے ۔ یہ جلاوطنی (سابق وزیر اعظم بنگلہ دیش) حسینہ واجد کی منتقم مزاجی کا نتیجہ تھی ۔ مگر خود وزیر اعظم منتخب ہو کر طارق رحمن صاحب انتقام کی لایعنی آگ میں جل نہیں رہے ۔ آج اگر حسینہ واجد بھارت میں مفرور کی زندگی گزار رہی ہیں تو یہ اُن کا اپنا انتخاب ہے ۔ شیخ حسینہ واجد کو بنگلہ دیشی عدالتوں نے جو سخت سزائیں سنائی ہیں ، یہ اُن کے کرموں کا پھل ہے ۔ جناب طارق رحمن کا اِس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔

طارق رحمن صاحب نے مذکورہ بالا الفاظ ڈھاکہ میں ادا کیے ہیں ۔ پچھلے دنوں بنگلہ دیشی دارالحکومت میںThe Bay of Bengal Conversation کے زیر عنوان ایک سہ روزہ کانفرنس (3تا5اکتوبر2026ء) ہُوئی ہے ۔ پانچ سال قبل معروف بنگلہ دیشی دانشور ، ظل الرحمن ، نے اِس تھنک ٹینک کی بنیاد رکھی ۔ اِس بار اِس کا پانچواں عالمی اجلاس ہُوا ۔ اِس کا افتتاح جناب طارق رحمن نے کیا ۔ تین سوسے زائد بین الاقوامی مندوبین نے اِس میں شرکت کی ۔ پاکستان سے بھی چند ایک دانشوروں کو ڈھاکہ مدعو کیا گیا تھا ۔مثال کے طور پر اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک CRSکے سربراہ اور کئی عالمی شہرت یافتہ کتابوں کے مصنف، امتیاز گل صاحب ۔ امتیاز صاحب نے ڈھاکہ سے ہمیں بتایا ہے کہ ’’جب بنگلہ دیشی وزیر اعظم ، طارق رحمن صاحب ، کانفرنس کا افتتاح کرنے تشریف لائے تو اُن کی آمد پر نہ بگل بجے ، نہ ہوٹروں اور سائرنوں کی آوازیں گونجیں ۔ طارق رحمن صاحب سادہ سی کاٹن کی پینٹ شرٹ میں ملبوس ہال میں آئے ۔ اُنہوں نے خود ہی اپنی تقریر کے کاغذات سنبھال رکھے تھے ۔ اُن کے خطاب کے دوران سیکورٹی تو موجود تھی ، لیکن پورے ہال میں کسی بندوق بردار کی دہشت موجود نہیں تھی ۔ ‘‘

ہمارے حکمرانوں کو بھی طارق رحمن صاحب کی سادگی سے سبق سیکھنا چاہیے ۔ ہمارے حکمران تقریر کرنے ڈائس پر آئیں تو وہ تقریری کاغذات خود اُٹھانے کا تکلّف گوارا نہیں کرتے ۔ کوئی اسسٹنٹ اُن کے سامنے کاغذات رکھتا ہے ۔ ہمارے حکمران جب باہر نکلتے ہیں ، اُن کا درجنوں گاڑیوں پر مشتمل قافلہ قابلِ دید( افسوسناک) ہوتا ہے ۔ غربت و عسرت زدہ پاکستانی عوام اپنے حکمرانوں کے یہ ششکے اور کرّوفر دیکھتے ہیں اور دل تھام کررہ جاتے ہیں ۔ حکمرانوں کے اسراف نے عوام کی محتاجیاں میں اضافہ کیا ہے ۔ آج پاکستان خطّے میں غربت کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے ۔

اِس کا تازہ اعتراف ’’ورلڈ بینک‘‘ کی تازہ رپورٹ نے بھی کیا ہے ۔ اِس رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی ایشیا ، ایران ، افغانستان اور شمالی افریقہ میں کُل جتنے بھی انتہائی غریب پائے جاتے ہیں ، اِن کا نصف پاکستان میں رہتا ہے ۔ ورلڈ بینک نے بتایا ہے کہ آج غربت کا مارا ہر پاکستانی بمشکل 3ڈالر روزانہ(840روپے) کما رہا ہے ۔ کیا اِس معمولی سی مالی یافت سے کسی غریب کا اپنے خاندان سمیت پیٹ بھر سکتا ہے ؟ اِس رپورٹ نے ہمارے جملہ حکمرانوں کو شرمندہ کیا ہے ، مگر وہ نادم ہونے کی بجائے بیان دے رہے ہیں : ’’ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ گمراہ کن ہے ۔‘‘

ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ دراصل حکومت کی معاشی اور اقتصادی پالیسیوں پر عدم اعتماد بھی ہے ۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ حکمرانوں نے عوام کو مایوسی اور نا اُمیدی کی مہلک دلدل میں دھکیل دیا ہے ۔ مگر حکمرانوں کے اپنے طور اطوار اور اسراف میں ذرا سی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آ رہی ۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب نیویار ک میں UNGAسے خطاب کرنے جاتے ہیں تو پندرہ دن لگاتے ہیں ۔ نیویارک آتے جاتے لندن میں رکتے ہیں اور مقصد ؟ کوئی نہیں جانتا ۔ جبکہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم UNGAسے خطاب کرنے گئے ہیں تو عام پرواز سے گئے ۔ نیویارک میں رہائش پذیر اپنی ہمشیرہ محترمہ کے گھر جانے سے اس لیے انکار کر دیا کہ’’ مَیں سرکار کے خرچے پر امریکہ آیا ہُوں ، اس لیے نجی ملاقاتیں نہیں کر سکتا ، اپنے خرچے پر آؤں گا تو ضرور ملنے آؤں گا۔‘‘ اِسی کفائتی رویئے کے سبب آج بنگلہ دیش کے قومی خزانے میں ڈالرز پاکستان سے زیادہ ہیں ۔ اور یہ ڈالرز قرض کے نہیں ، اُن کی اپنی کمائی کے ہیں ۔

جبکہ ہمارے ہاں حکمرانوں کے انداز و اطوار ایسے ہیں جیسے یہ مقروض ملک نہیں بلکہ دوسروں کو قرض دینے والا انتہائی دولتمند ملک ہے ۔ جبکہ ہمیں اپنی اوقات کا بخوبی علم ہے ۔ ہمارے حکمران لگژری جیٹ خرید رہے ہیں تاکہ شاندار طیارے میں سوار ہو کر غیر ملکی دَوروں پر جا سکیں ۔ کوئی استفسار کرے کہ آیا پاکستان ایسے مفلس ملک کے حکمرانوں کو ایسے لگژری طیارے خریدنا زیب دیتا ہے ؟ تو جواباً کہا جاتا ہے :’’ ہاں بھئی خریدا ہے جہاز ‘‘ اور یہ کہ ’’ اسی لگژری جہاز پر بار بار غیر ملکی دَوروں پر جائیں گے ۔ اور کیا رکشے پر جائیں ؟۔‘‘ پاکستانیوں کی غربت پر دُنیا پریشان ہے کہ یہ کس طرح زندگی بِتا رہے ہیں اور ہمارے عیش پرست حکمرانوں اور مراعات یافتہ سرکاری اشرافیہ کی سہل زندگیوں پر بھی دُنیا انگشت بدنداں ہے ۔

کیا یہ ہمارے حکمرانوں کی بے حسی نہیں؟آٹے کی قیمت میں بے پناہ اضافہ ہو کر روٹی نا قابلِ رسائی ہو چکی ہے ۔ گیس ، بجلی اور توانائی کے نرخ عوام کی کمر توڑ رہے ہیں ۔ پٹرول 400روپے فی لٹر کو چھُو رہا ہے ۔ ایسے میں ہم سب عسرت زدہ پاکستانیوں کو شاعر غالب کا وہ شعر یاد آتا ہے جس میں موصوف نے بہت سال قبل کہا تھا کہ ’’ہاں قرض کی پیتا ہُوں ، مگر اُمید ہے کہ کبھی تو ہماری فاقہ مستی رنگ لائے گی ۔‘‘ مطلب جیب میں پیسہ ایک نہیں مگر عیاشی اور مستی کے لیے قرض کی پینی ہے ۔ تُف ہے ایسے رویئے پر ! حیرت ہے عوام غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں لڑھک رہے ہیں اور ہمارے مسرف حکمرانوں کی پرسش کرنیوالا کوئی نہیں۔

پچھلے دنوں کینیڈا میں صوبہ اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈوگ فورڈ (Doug Ford) نے ایک سیکنڈ ہینڈ پرائیویٹ جیٹ طیارہ خریدا تو اِس پر شدید عوامی ردِعمل سامنا آیا۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے معافی مانگی اور اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔اونٹاریو حکومت نے کینیڈین کمپنی کا تیار کردہBombardier Challenger 650 نامی ایک 10 سال پرانا سیکنڈ ہینڈ لگژری طیارہ خریدا تھا۔اس طیارے کی قیمت تقریباً 21 ملین امریکی ڈالرزتھی۔ جیسے ہی اس خریداری کی خبر پبلک ہوئی، اپوزیشن جماعتوں اور کینیڈین ٹیکس دہندگان کی تنظیموں نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے اسے عوام کے پیسے کا ضیاع اور ایک ایسے وقت میں جب کینیڈین عوام مالی مشکلات کا شکار ہیں، حکمرانوں کی عیاشی قرار دیا،چنانچہ وزیر اعلیٰ ڈوگ فورڈ نے پہلے یہ مؤقف اپنایا کہ اونٹاریو ایک بہت بڑا صوبہ ہے اور انھیں کینیڈا کے دُور دراز شمالی علاقوں کے دَوروں پر جانا پڑتا ہے، اسلیے اِس جہاز کی اشد ضرورت تھی لیکن عوامی دباؤ بڑھنے پر انھوں نے عوام سے معافی مانگی، چنانچہ عوامی اور سیاسی دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے ڈوگ فورڈ نے کو یہ سیکنڈ ہینڈ طیارہ فروخت کرنا پڑا ۔ اِس کے برعکس اربوں کا لگژری جہاز خریدنے پر ہمارے حکمرانوں کا عوام کے سامنے کیا رویہ ہے، یہ کہنے کی شائد ضرورت نہیں ۔ ساری داستان اور ادا فرمائے گئے سب الفاظ سب کے سامنے موجود ہیں ۔ کس کس بات کا ماتم کیا جائے ؟مقدور ہو توساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں!!