عوام کا دکھڑا

عالمی بینک کے مطابق جبوتی، پاکستان، شام اور یمن میں روزانہ تین ڈالر کی آمدن کی بنیاد پر ناپی جانے والی غربت کی شرح 20 فیصد یا اس سے زیادہ ہے


ایم جے گوہر October 12, 2026

آئی ایم ایف (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ) کا قیام دسمبر 1945 میں وجود میں آیا جس کا مقصد ادارے کے رکن ممالک کے معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے مالی و تکنیکی مدد فراہم کرنا ہے۔ اس کے تقریباً 190 کے قریب رکن ممالک ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

آئی ایم ایف پر بڑی طاقتوں کا مکمل کنٹرول ہے۔ اسی باعث اس کے اکثر فیصلوں پر انھی ممالک کا اثر و رسوخ نظر آتا ہے، اگرچہ آئی ایم ایف تمام رکن ممالک کو قرضے فراہم کرتا ہے ،تاہم ان قرضوں کے پہلو بہ پہلو یہ ادارہ اپنی کڑی شرائط بھی عائد کرتا ہے۔ مبصرین و تجزیہ نگاروں کا موقف ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط بسا اوقات مقروض ممالک کے معاشی حالات بہتر بنانے کی بجائے ان میں بگاڑ اور کمزوریاں پیدا کر دیتی ہیں جس کے منفی اثرات معیشت کے ساتھ ساتھ عوام الناس پر بھی پڑتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ڈھانچے کو بدلنے اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف کے قرض دار ممالک میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے اور قرض کی مجموعی رقم 10.97 ارب امریکی ڈالر ہے۔ اس پر مستزاد آئی ایم ایف کے قرض کا بوجھ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب 21 کروڑ ڈالر قرض کا تازہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ آئی ایم ایف اعلامیے کے مطابق پٹرول پر دی جانے والی سبسڈی اسکیم کو فوری ختم کرنے اور تعلیم و صحت پر اخراجات بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، واجبات کی وصولی اور نقصانات کو کم کرنے، سرکاری اداروں میں شفافیت لانے، ٹیکس نظام آسان کرنے سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی مالیاتی حالات میں سختی اور تجارت میں رکاوٹیں پاکستان کی معیشت کے لیے بدستور خطرہ ہیں۔ ادارے نے معاشی استحکام کے تحفظ کے لیے مضبوط معاشی پالیسیوں پر عمل درآمد کو ناگزیر قرار دیا ہے۔یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہے کہ پاکستان سیاسی و معاشی استحکام کے حوالے سے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی عدم استحکام کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے۔

ایک سے زائد مرتبہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے باوجود حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی ختم کرنے اور افہام و تفہیم سے آگے بڑھنے کا کوئی فارمولا طے نہیں پا سکا۔ کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے معاملات بہتر بنانے کے بجائے  لانگ مارچ شروع کر دیا تو دوسری جانب وفاقی حکومت نے کے پی کے میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کے بارے میں اعلان کر دیا جس سے سیاسی ماحول دو آتشہ ہوتا نظر آ رہا تھا۔ اب تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کیے۔ صدرِ مملکت نے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کی سمری پر دستخط کیے۔

 ادھر حکومت نے ایک مرتبہ پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے اور نیپرا نے بھی بجلی کے نرخوں میں ایک روپیہ 11 پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی کے سیلاب کا ایک اور ریلا غریبوں کی بستیاں اجاڑ دے گا۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت اب پٹرول پر دی جانے والی سبسڈی بھی ختم کر دے گی، گویا غریب و مفلوک الحال لوگوں کو جو تھوڑا بہت ریلیف مل رہا ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک کے کروڑوں غریب لوگ خط افلاس سے مسلسل نیچے جا رہے ہیں۔ ان کی قوت خرید بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

گھریلو اخراجات کا بار گراں اٹھانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔چند روز قبل عالمی بینک کی جانب سے جاری کی گئی مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (میناپ) سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم کمانے والے افراد میں سے تقریباً نصف (48 فیصد) پاکستان میں رہتے ہیں، جبکہ باقی افراد زیادہ تر افغانستان، شام، یمن اور افریقہ کے دیگر ممالک میں مقیم ہیں۔رپورٹ میں پاکستان کے لیے موجودہ مالی سال کے دوران معاشی شرحِ نمو 3.8 فیصد، مالیاتی خسارہ 3.5 فیصد اور مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

عالمی بینک کے مطابق جبوتی، پاکستان، شام اور یمن میں روزانہ تین ڈالر کی آمدن کی بنیاد پر ناپی جانے والی غربت کی شرح 20 فیصد یا اس سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں ایک بڑی آبادی روزانہ تین ڈالر، یعنی تقریباً 830 پاکستانی روپے یا اس سے کم آمدن پر گزارا کرتی ہے۔رپورٹ میں غذائی عدم تحفظ کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق غزہ اور یمن میں غذائی عدم تحفظ کی صورتحال خاص طور پر سنگین ہے جبکہ افغانستان، جبوتی، لبنان اور پاکستان میں بھی اس حوالے سے نمایاں دباؤ موجود ہے۔

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ 2026ء کے اختتام تک معمول سے زیادہ شدید ایل نینو موسمیاتی صورتحال خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے اثرات خاص طور پر غریب طبقے پر پڑیں گے۔ پاکستان مون سون کے نظام میں ممکنہ تبدیلیوں کے باعث اس خطرے سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔

 اخباری اطلاع کے مطابق سندھ، کے پی کے اور پنجاب میں آٹے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت مہنگائی کم کرنے اور سنگل ڈیجٹ میں لانے کے دعوے کرتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے مہنگائی کی شرح 11 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ آئی ایم ایف نے تعلیم اور صحت فنڈ میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا ملک ان دونوں شعبوں میں زوال پذیر ہے۔ پانچ کروڑ سے زائد بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ صحت کا برا حال ہے، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق 2026 میں ہیضے، اسہال، ملیریا، فلو جیسی بیماریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام اپنا دکھڑا کسے سنائیں؟ حکومت کے کانوں پر تو جوں تک نہیں رینگتی۔