حوثی حملوں کے بعد متعدد ممالک کا شہریوں کو سعودی عرب کا سفر نہ کرنے کا مشورہ

یہ سفری انتباہات ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے متعدد حملوں کے بعد جاری کیے گئے ہیں


ویب ڈیسک October 12, 2026

یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر مسلسل حملوں کے بعد امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے سفر سے گریز کرنے یا سفری منصوبوں پر نظرثانی کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے پیر کو نئی سفری ہدایات جاری کیں، جس کے بعد ان ممالک کی فہرست مزید طویل ہوگئی جنہوں نے سعودی عرب میں سکیورٹی خطرات کے پیش نظر اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے۔

آسٹریلیا کے محکمہ خارجہ نے شہریوں کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے جانے سے گریز کرنے اور سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈوں کے سفر پر بھی نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا۔ نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ نے ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے اور نجران، جازان اور عسیر کے علاقوں کا سفر کسی بھی مقصد کے لیے نہ کرنے، جبکہ سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔

امریکی سفارت خانے نے اتوار کو ایران اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خطرے کے پیش نظر شہریوں کو سعودی عرب کے سفر پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا۔ کینیڈا نے بھی سعودی عرب کے کسی بھی علاقے کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی۔

جنوبی کوریا نے سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں کو ضروری کام نہ ہونے کی صورت میں ملک چھوڑنے اور وہاں جانے کا ارادہ رکھنے والوں کو سفر منسوخ کرنے کا مشورہ دیا۔ برطانیہ نے جدہ اور دمام سمیت متعدد مقامات اور مدینہ بین الاقوامی ہوائی اڈے کے علاوہ دیگر ہوائی اڈوں کے سفر سے، سوائے ضروری وجوہات کے، گریز کرنے کی ہدایت کی۔

یہ سفری انتباہات ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے متعدد حملوں کے بعد جاری کیے گئے ہیں۔

سعودی شہری ہوابازی کی جنرل اتھارٹی کے مطابق اتوار کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل، ہفتے کو اسی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں 13 افراد کی ہلاکت اور 300 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا۔

حوثیوں نے اتوار کے حملے سے پہلے سعودی ہوائی اڈوں پر ہونے والے چار حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، تاہم تازہ حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔

حملوں کے بعد ریاض کا شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور دمام کا شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند رہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں فضائی سفر متاثر ہوا۔ جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی پروازوں کا نظام متاثر ہوا۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اتوار کو جدہ ایئرپورٹ پر 150 سے زیادہ پروازیں منسوخ اور 374 تاخیر کا شکار ہوئیں۔