خیبرپختونخوا میں وفاق نے کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا: وزیر اعلیٰ بلوچستان

خیبرپختونخوا میں معاملہ صرف امن و امان کا نہیں بلکہ حکومتی کردار ادا کرنے کا بھی ہے: سرفراز بگٹی


سردار حمید خان October 12, 2026
(فوٹو: فائل)

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں وفاقی اقدام آئین کے تحت اٹھایا گیا ہے، وفاق نے کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا، ہم اس عمل کی حمایت کرتے ہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حالات اور وہاں کی حکومتوں کے کردار کا کوئی موازنہ نہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی میں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئین بنانے والے اکابرین نے مستقبل کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین میں متعلقہ آرٹیکلز شامل کیے تھے۔ خیبرپختونخوا میں معاملہ صرف امن و امان کا نہیں بلکہ حکومتی کردار ادا کرنے کا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک جماعت نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف رعایتی پالیسی اپنائی ہے۔ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کے لیے دیے گئے فنڈز سے سوشل میڈیا ٹیم بنائی گئی جبکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو حکومتی معاونت، قانون سازی اور مؤثر بیانیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بننے والے ماحول میں وفاق پر حملہ آور ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں جبکہ بلوچستان میں حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن دہشت گردی کا نشانہ بنے اور شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایک جماعت کے خلاف دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ نہ کرے کہ کوئی حملہ ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہاں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے تو اس کی کیا بنیاد ہے؟ ان کے بقول، بلوچستان میں حکومت اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھتی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں حکومتی کردار پر سوالات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں محترمہ بے نظیر بھٹو، بشیر احمد بلور اور میاں افتخار حسین کے بیٹے سے متعلق دہشت گردی کے واقعات کے ذمہ داروں کو واپس بلانے کی باتیں کون کر رہا تھا؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی اداروں کی معاونت اور واضح حکومتی مؤقف بنیادی اہمیت رکھتے ہی۔

 انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات کا تقابلی جائزہ لیتے وقت دونوں صوبوں کی حکومتوں کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آئین کے تحت کیا گیا ہے اور اسے غیر آئینی قرار نہیں دیا جا سکتا۔