چین میں کینسر کی تشخیص کے بعد اپنی تمام جمع پونجی انٹارکٹیکا کے سفر پر خرچ کرنے والی 67 سالہ خاتون کی رسولی کا حجم کم ہوگیا۔
جنوب مغربی چین کے صوبے یون نان کے دارالحکومت کنمنگ سے تعلق رکھنے والی وانگ ینگ جنگلی حیات کی شوقیہ فوٹوگرافر ہیں جو اب تک پرندوں کی 1200 سے زائد اقسام کی تصاویر بنا چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 2013 میں ریٹائرمنٹ کی تیاری کے دوران وانگ ینگ میں تھائیرائیڈ کینسر کی ایک قسم کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر آپریشن کروانے کا مشورہ دیا۔ تاہم، وہ اس تشخیص سے شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوئیں اور انہوں نے آپریشن کے بجائے انٹارکٹیکا جانے کا فیصلہ کیا۔
وانگ ینگ کا کہنا تھا کہ اگر انہیں مرنا ہی ہے تو وہ کسی دور دراز مقام پر مرنا چاہتی ہیں، وہ کسی صورت آپریشن نہیں کروانا چاہتی تھیں۔
پرندوں کی فوٹوگرافی کا کئی دہائیوں سے شوق رکھنے والی وانگ پینگوئنز کی تصاویر بنانے کے لیے ایک ماہ کے سفر پر انٹارکٹیکا روانہ ہوئیں۔ اس سفر پر ڈیڑھ لاکھ چینی یوآن، یعنی تقریباً 22 ہزار امریکی ڈالر خرچ ہوئے، جو ان کی جمع پونجی سے زیادہ تھے۔ ایسے میں ان کی والدہ نے اضافی اخراجات پورے کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کی۔
وانگ ینگ کے مطابق انٹارکٹیکا میں ان کی سب سے بڑی خواہش ایک ایسی ماں پینگوئن کی تصویر بنانا تھی جو اپنے بچے کو خوراک کھلا رہی ہو۔
جب دیگر سیاح برف سے ڈھکی اس سرزمین سے واپس جا رہے تھے تو وانگ سخت موسمی حالات کے باوجود طویل وقت تک باہر موجود رہیں۔ وہاں درجہ حرارت منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، تیز ہوائیں چل رہی تھیں اور شدید برف باری ہو رہی تھی۔
بالآخر، انہوں نے وہ لمحہ اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا جب ایک ماں پینگوئن مچھلی کا شکار کرکے واپس آئی اور اپنے بچے کو خوراک کھلانے لگی۔
وانگ کے مطابق انہوں نے اس قیمتی لمحے کی تصاویر بنائیں۔ وہ بہت خوش تھیں اور جب انہوں نے دونوں پینگوئنز کو ایک ساتھ چلتے اور اپنے گھر کی تلاش کرتے دیکھا تو ان کا دل بھر آیا۔
انٹارکٹیکا سے واپسی کے بعد وانگ طبی معائنے کے لیے اسپتال گئیں۔ یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں کہ ایک ماہ قبل ہونے والے معائنے کے مقابلے میں ان کی رسولی کا حجم کم ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ فی الحال آپریشن کی ضرورت نہیں لیکن انہیں اپنی صحت کی مسلسل نگرانی جاری رکھنی چاہیے۔
وانگ کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے ان کے اندر امید دوبارہ زندہ کردی اور جینے کے لیے انہیں نئی قوت فراہم کی۔
اس کے بعد سے انہوں نے اپنا وقت اور پیسہ پرندوں کی فوٹوگرافی کے لیے وقف کردیا ہے۔ وہ 30 سے زائد ممالک کا سفر کر چکی ہیں اور جدید فوٹوگرافی آلات خریدنے پر اپنی پوری پنشن خرچ کر چکی ہیں۔
وانگ کا ارادہ ہے کہ وہ اس سال اور اگلے سال امریکا، پیرو اور افریقا کے کئی ممالک کا سفر کریں گی۔
وانگ کا کہنا تھا کہ بہت سی جگہوں کا سفر کرنے اور مختلف چیزیں دیکھنے کے بعد انہوں نے زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرنا سیکھ لیا ہے۔ اب وہ بعض معاملات پر زیادہ پریشان نہیں ہوتیں۔
وانگ کی کہانی نے چین کے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ یہ واقعہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ جسمانی صحت کا تعلق انسان کے مزاج سے ہے۔ خوشگوار موڈ اور اچھی نیند قوتِ مدافعت کو بہتر بنا سکتے ہیں، جس سے رسولی کے خلیات تباہ ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ تھائیرائیڈ کینسر عام طور پر زیادہ تیزی سے نہیں پھیلتا اور اس میں زندہ رہنے کی شرح بھی بلند ہے۔ تاہم، اتنے کم وقت میں ان کی صحت میں بہتری دیکھنا بہرحال خوش آئند ہے۔