آنکھ کے پچھلے حصے میں صفائی کا نیا نظام دریافت

یہ نظام آنکھ کے پچھلے حصے سے فاضل مادوں کو جسم کے لمفیٹِک نظام تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے


ویب ڈیسک October 13, 2026

سائنس دانوں نے آنکھ کے پچھلے حصے میں فاضل مادوں کے اخراج کا ایک نیا نظام دریافت کیا ہے، جس سے گلوکوما اور بینائی متاثر کرنے والی دیگر سنگین بیماریوں کے علاج کے نئے راستے کھلنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے محققین نے آنکھ میں نکاسی کے ایک ایسے راستے کی نشاندہی کی ہے جس کے بارے میں پہلے معلوم نہیں تھا۔ یہ نظام آنکھ کے پچھلے حصے سے فاضل مادوں کو جسم کے لمفیٹِک نظام تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اس نظام کو پوسٹیریئر آکیولر لمفیٹک آؤٹ فلو (پی او ایل او) پاتھ وے کا نام دیا گیا ہے۔ لمفی نظام جسم میں فلوئیڈ کا توازن برقرار رکھنے، فاضل مادوں کو خارج کرنے اور مدافعتی نظام کی معاونت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

گلوکوما (عمر سے متعلق میکیولر ڈی جنریشن) اور بینائی مستقل طور پر ضائع ہونے کی کئی دیگر وجوہات کا تعلق آنکھ کے پچھلے حصے میں فلوئیڈ، میٹابولزم سے پیدا ہونے والے فاضل مادوں اور سوزش پیدا کرنے والے اجزا کے جمع ہونے سے ہے۔ تاہم، اب تک یہ واضح نہیں تھا کہ آنکھ کا یہ حساس حصہ ان مادوں کو کس طریقے سے خارج کرتا ہے۔

چوہوں پر کیے گئے تجربات میں سامنے آنے والی اس دریافت سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ آنکھ اپنے نازک بافتوں کی حفاظت کیسے کرتی ہے اور فاضل مادوں کے اخراج کا نظام متاثر ہونے سے کون سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

یو بی سی کے شعبہ امراضِ چشم و بصری علوم کی سربراہ اور پروفیسر ڈاکٹر نیرو گپتا کے مطابق ریٹینا جسم کے ان حصوں میں شامل ہے جہاں میٹابولزم کی سرگرمی بہت زیادہ ہوتی ہے اور مسلسل ایسے ضمنی مادے پیدا ہوتے رہتے ہیں جنہیں خارج کرنا ضروری ہے۔

ڈاکٹر نیرو گپتا نے کہا کہ یہ دریافت اس بات کی وضاحت میں مدد دیتی ہے کہ آنکھ فاضل مادوں کو کس طرح باہر نکالتی ہے اور اس سے آنکھوں کی مختلف بیماریوں کو سمجھنے اور ان کے علاج کے طریقوں میں اہم پیش رفت کی امید ہے۔

یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے نتائج چوہوں پر کیے گئے تجربات سے حاصل ہوئے ہیں۔ انسانوں میں اس نظام کے کردار اور اس دریافت کی بنیاد پر علاج کے نئے طریقوں کی افادیت جانچنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہوگی۔