ہمارے فیصلے تمام عدالتوں کیلیے واجب التعمیل، آئینی عدالت

تعلیمی خود مختاری ،عدالتی نظرثانی ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے، طالبہ کے کیس میں ریمارکس


حسنات ملک October 12, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

ایک بار پھر وفاقی آئینی عدالت نے دہرایا ہے کہ اس کے فیصلے سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتوں کے لیے واجب التعمیل ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 189 کے پیش نظر یہ بات خاص ادارہ جاتی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ آرٹیکل اس عدالت کے فیصلے کو۔ اس حد تک کہ وہ قانون کے کسی سوال کا فیصلہ کرتا ہے یا قانون کے کسی اصول پر مبنی ہے یا اسے بیان کرتا ہے ۔

پاکستان کی تمام دیگر عدالتوں، بشمول سپریم کورٹ، کے لیے واجب التعمیل قرار دیتا ہے۔ اس طرح اس عدالت کے بیان کردہ قانون سے منسلک آئینی اختیار اپنے ساتھ اپنے جورسپروڈنس میں تسلسل اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ایک مساوی ادارہ جاتی ذمہ داری بھی لاتا ہے۔ 

لہٰذا اس عدالت کے سابق بنچ کا بیان کردہ قانون کا اصول عام طور پر بعد میں آنے والے کم یا برابر طاقت والے بنچ کو بھی فالو کرنا چاہیے۔

جہاں کسی سابق موقف کی درستی پر شک ہو اور اس پر دوبارہ غور کرنا ضروری سمجھا جائے، وہاں بھی صحیح طریقہ کار یہی ہے کہ اس شک کی وجوہات کو ریکارڈ کیا جائے اور اس عدالت کے معزز چیف جسٹس سے درخواست کی جائے کہ وہ اس معاملے پر بااختیار انداز میں دوبارہ غور کرنے کے لیے ایک بڑا بینچ تشکیل دیں۔

یہ بات جسٹس سید حسن اظہر رضوی کے تحریر کردہ 24 صفحات کے فیصلے میں کہی گئی جو ایک طالبہ کی طرف سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کر رہے تھے۔ اس طالبہ کی پی ایچ ڈی کے مقالے جمع کرانے کی مدت میں توسیع کی درخواست کو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی نے مسترد کر دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس کی درخواست خارج کر دی تھی۔ وفاقی آئینی عدالت کے ڈویژن بینچ نے کہا کہ اس بات سے کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا کہ آئینی عدالتیں عام طور پر تعلیمی فیصلے پر مبنی معاملات میں ضبط سے کام لیتی ہیں۔

تاہم یہ اصول فیصلے کی نوعیت سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ صرف اس ادارے کے کردار سے جو یہ فیصلہ کرتا ہے۔  حکم نامے میں کہا گیا کہ تعلیمی خود مختاری اور عدالتی نظرثانی ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔

اعلیٰ تعلیم کے حصول کے دوران، ایک خاتون کو مختلف مراحل پر اپنی تعلیمی پیش رفت کو شادی سے پیدا ہونے والے حالات، ازدواجی ذمہ داریوں کے نتیجے میں منتقلی، حمل یا صحت کے مسائل اور مادری و بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا پڑ سکتا ہے۔

جہاں ایسے حالات اس کی تعلیم کے تسلسل میں رکاوٹ بنتے ہیں، وہ متعلقہ قانونی یا پالیسی فریم ورک کے تحت دستیاب لچک کے دائرے میں لائق توجہ ہیں۔