اردوان نے ترکی کے صدر کا حلف اٹھا لیا

صدارتی حلف اٹھاتے ہی اردوان نے سبکدوش ہونے والے وزیر خارجہ احمد اوگلو کو قائمقام وزیر اعظم متعین کر دیا ہے ...


Editorial August 30, 2014
صدارتی حلف اٹھاتے ہی اردوان نے سبکدوش ہونے والے وزیر خارجہ احمد اوگلو کو قائمقام وزیر اعظم متعین کر دیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی

برادر ملک ترکی کے ہردلعزیز لیڈر رجب طیب اردوان نے جمعرات کو ترکی کے صدر کا حلف اٹھا لیا اور یوں ترکی کے سب سے زیادہ طاقتور لیڈر ہونے کی حیثیت کو ثابت کر دیا۔ حلف برداری کی تقریب پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئی۔ اپنے حلف نامے کی تحریر پڑھتے ہوئے انھوں نے ترکی کی آزادی اور یکجہتی کے امین ترک آئین کی اتباع اور اس کے مکمل تحفظ کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ اس ضمن میں مصطفی کمال اتاترک کے اصولوں پر کار بند رہا جائے گا جو کہ جدید سیکولر ریاست کے بابائے قوم ہیں۔

طیب اردوان نے کہا جمہوریہ ترکی کے صدر مملکت کی حیثیت سے میں عظیم ترک قوم کے روبرو اپنی عزت و آبرو اور ساکھ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں وطن کے وجود اور اس کی آزادی کا ہر ممکن تحفظ کروں گا۔ حلف برداری کے بعد جب اردوان اتاترک کی یاد گار پر پھولوں کی چادر چڑھانے گئے تو ترکی کی مسلح فوج نے انھیں سلامی دی۔ صدارتی حلف اٹھاتے ہی اردوان نے سبکدوش ہونے والے وزیر خارجہ احمد اوگلو کو قائمقام وزیر اعظم متعین کر دیا ہے جس کا اعلان سرکاری گزٹ میں کر دیا گیا ہے۔

صدر اردوان نے وزیراعظم اوگلو کو ہدایت کی ہے کہ وہ کابینہ کا جائزہ لیں اور نئی حکومت کی تشکیل کا اہتمام کریں، جس کا اعلان اگلے ہی روز کر دیا گیا۔ دریں اثناء اپوزیشن ''سی ایچ پی'' پارٹی کے ارکان صدر کی حلف برداری کی تقریب سے چند لمحے پیشتر اسمبلی سے واک آئوٹ کر گئے جب کہ پارٹی کے لیڈر کمال اوگلو نے سرے سے ہی حلف برداری کی تقریب کا بائیکاٹ کر دیا۔ ان کا الزام تھا کہ اردوان نے صدارتی حلف اٹھانے کے باوجود اپنا وزیر اعظم کا عہدہ نہ چھوڑ کر آئین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔ اپوزیشن جماعت کا نے کہا ہے کہ اب انھیں ایک فرد کی آمرانہ شخصی حکمرانی کے امکان پر تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

واضح رہے رجب طیب اردوان دس سال سے زیادہ عرصہ تک ملک کے وزیراعظم رہے ہیں اور اب وہ ترکی کے پہلے صدارتی انتخاب میں پاپولر ووٹ سے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ اردوان کے دور حکومت میں ملک کی معیشت تین گنا بڑھ گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے تناظر میں اردوان کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بھی بنایا جاتا ہے۔ اپوزیشن کو خطرہ ہے کہ ملک کا صدارتی نظام ایک ہی شخص کے ہاتھ میں بہت زیادہ اختیارات اور طاقت مرکوز کر دے گا اور حد سے زیادہ طاقت شخصیات کو کرپٹ کر دیتی ہے اور وہ تکبر کا شکار بھی ہو جاتی ہیں۔

یہاں یہ بات بھی خاص طور پر تذکرے کے قابل ہے کہ صدر پاکستان ممنون حسین بھی صدر اردوان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے بطور خاص مدعو کیے گئے تھے۔ انقرہ ایئر پورٹ پر صدر پاکستان کا استقبال ترکی و پاکستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین اور دیگر اعلیٰ مناصب پر فائز افسران نے کیا۔ جناب ممنون حسین کا کہنا تھا کہ انھیں ترکی میں آنا ایسا ہی لگا جیسے کوئی اپنے گھر میں آتا ہے۔ صدر پاکستان نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کے دورۂ ترکی سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں ملکوں میں باہمی تعاون کو فروغ ملے گا۔