کالے بچھوؤں کی فروخت سے پاکستانیوں کے کمائے گئے 24 ارب روپے بینکوں نے دبا لیے

متاثرہ افراد سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ پہنچ گئے، عدالت نے اسٹیٹ بینک سمیت دیگر سے جواب مانگ لیا


کورٹ رپورٹر October 13, 2026
میکسکو میں پائے جانے والے ایک بچھو کے زہر میں دو اہم مرکبات ملے ہیں جو ٹی بی اور اسٹیفلو کوکس بیکٹیریا کو تباہ کرسکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کالے بچھوؤں کے فروخت سے متعلق کیس میں اسٹیٹ بینک سمیت دیگر فریقین کو مہلت دیتے ہوئے ایک ماہ میں جواب داخل کرانے کا حکم دیدیا۔

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو کالے بچھوؤں کے فروخت سے متعلق محمد صدیق، رضی، ریاض احمد اور دیگر کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

درخواست گزاروں کے وکیل ساجد محبوب ایڈووکیٹ کی جانب سے موقف اختیار کیا کہ پاکستانیوں کی جانب سے 23 ارب روپے کے بچھو جرمن کمپنی کو فروخت کئے گئے، کمپنی نے 2014 معاہدے کے مطابق بارکلیز بینک کے ذریعے 24 ارب روپے پاکستانی بینکوں میں منتقل کئے جبکہ بینکوں کی جانب سے  تاحال رقم جاری نہیں کی جا رہی۔

درخواست گزاروں نے قانونی طریقے سے زرمبادلہ قومی خزانے کے حوالے کیا۔

درخواست گزاروں ​محمد صدیق، رضی اور ریاض احمد کی جانب سے نجی بینکوں کیخلاف کارروائی کی استدعا کی گئی ہے، ​اسٹیٹ بینک، وزارتِ خزانہ اور چار نجی بینکوں کو مقدمے میں فریق بنایا گیا  ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’’بلیک اسکارپینز‘‘ کی عالمی ترسیل کے بدلے قانونی بینکاری ذرائع سے رقم منتقل ہوئی، ​بینکس غیر ملکی ترسیلات کی وصولی، تصدیق اور رقم کی فراہمی میں ناکام رہے۔

درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ​ اسٹیٹ بینک کے سینئر افسر کے ذریعے معاملے کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے، ​تمام متعلقہ نجی اور سرکاری بینکوں کو تمام تر قانونی و الیکٹرانک ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت کی جائے۔

اسٹیٹ بینک سمیت متعدد بینکوں کی جانب سے جواب داخل کرانے کے لئے مہلت طلب کی گئی۔ عدالت نے فریقین کو مہلت دیتے ہوئے ایک ماہ میں جواب جمع کرنے کا حکم دیدیا۔