بھارت میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج اب شادی کی تقریبات تک بھی پہنچ گیا ہے۔ حیدرآباد دکن میں ایک شادی کے استقبالیے کے دوران باراتیوں نے روایتی دف اور مرّفا بینڈ کی تھاپ پر احتجاج کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں پر نظرِ ثانی کے عمل کو روکنے اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ غیر معمولی مظاہرہ شادی کی تقریب کے دوران کیا گیا، جہاں شرکا نے روایتی موسیقی کے ساتھ نعرے بلند کیے۔ اس احتجاج کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ویڈیو میں سماجی کارکن طلحہ صلاح کو بھی مظاہرین کی قیادت کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
احتجاج میں شریک افراد نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی، جسے ایس آئی آر کہا جاتا ہے، پر اعتراض کرتے ہوئے اس عمل کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی دہرایا۔
بھارت میں ان دنوں اپوزیشن جماعتوں اور نوجوانوں کی قیادت میں کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے انتخابی عمل سے متعلق اعتراضات پر احتجاج جاری ہے۔ نئی دہلی میں جنتر منتر سمیت مختلف مقامات پر مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ اب ان احتجاجی سرگرمیوں کی بازگشت دوسرے شہروں میں بھی سنائی دے رہی ہے۔
حیدرآباد کی شادی میں ہونے والا مظاہرہ اس حوالے سے غیر معمولی رہا کہ باراتیوں نے خوشی کی تقریب کے دوران روایتی بینڈ کے ساتھ انتخابی مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یہ منظر سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔