آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے امریکی جنگی جہازوں کو ڈبو دیں گے، ایرانی بحریہ کی دھمکی

ایرانی کمانڈر کے بیان میں کسی مخصوص امریکی جہاز پر حملے کے وقت یا منصوبے کی تفصیلات نہیں دی گئیں


ویب ڈیسک October 14, 2026

تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز کے قریب آئے تو انہیں ڈبو دیا جائے گا۔ ایرانی حکام نے اس اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول کے معاملے میں امریکا کو براہِ راست چیلنج بھی کیا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ریئر ایڈمرل علی عظمایی نے منگل کو ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی فورسز امریکی جنگی جہازوں کی آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب آمد کا انتظار کر رہی ہیں تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے۔

علی عظمایی نے کہا کہ ایرانی فورسز اس ممکنہ مقابلے کے لیے الٹی گنتی کر رہی ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکی جنگی جہاز اس آبی گزرگاہ کے قریب آنے کی ہمت نہیں کر رہے، کیونکہ وہاں انہیں خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

ایرانی کمانڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ 13 ارب ڈالر مالیت کا ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے تقریباً 700 کلومیٹر دور چلا گیا ہے۔ تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں اس دعوے کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔

علی عظمایی نے امریکا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند، تو اسے عملی طور پر وہاں آکر دیکھنا چاہیے کہ کنٹرول کس کے پاس ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں فوجی کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں کو متاثر کرسکتی ہے۔

ایرانی بحریہ کی تازہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول اور بحری سرگرمیوں کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔ تاہم ایرانی کمانڈر کے بیان میں کسی مخصوص امریکی جہاز پر حملے کے وقت یا منصوبے کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔