لاہور:
پاکستان ریلویز تمام تر اقدامات کے باوجود مسافروں کو بروقت اور محفوظ طریقے سے منزل مقصود تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا، ٹرینوں کے بڑھتے ہوئے حادثات نے مسافروں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ سفر کرنا مجبوری ہے، ایسے میں وہ کیا کریں؟ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی سخت ہدایات کے باوجود ٹرینوں کے حادثات کا سلسلہ نہ رک سکا، جبکہ ریلوے حکام کی جانب سے سب اچھا ہونے کی رپورٹس کے باوجود ایک کے بعد ایک حادثہ پیش آنے سے ریلوے کے حفاظتی انتظامات اور ٹریک کی دیکھ بھال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ریلوے ذرائع کے مطابق یکم جنوری سے اب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کو مختلف نوعیت کے 55 سے زائد حادثات پیش آ چکے ہیں۔ ان حادثات میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ متعدد مسافر زخمی ہوئے، جبکہ ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔
ذرائع کے مطابق یوسف والا کول ٹرین بھی متعدد بار حادثات کا شکار ہو چکی ہے۔ 27 اگست کو خان پور کے قریب مال گاڑی کی 10 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، جبکہ اسی روز راول ایکسپریس کا انجن اور دو بوگیاں کالا گجراں کے قریب پٹڑی سے اتر گئیں۔
اسی طرح، 27 ستمبر کو یوسف والا کول ٹرین خیرپور کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔ 9 ستمبر کو کوٹری یارڈ میں کوئلے سے لدی مال گاڑی کی تین بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، جبکہ 2 ستمبر کو خیر میل کی پاور وین سنجانی کے قریب پٹڑی سے اتر گئی۔ 6 ستمبر کو کول ٹرین کی سات بوگیاں پٹڑی سے اترنے کا واقعہ بھی پیش آیا۔
کوئٹہ میں 24مئی کو شٹل ٹرین کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا، جس سے تین بوگیوں کو نقصان پہنچا، جبکہ رحمان بابا ایکسپریس کو بھی ملتان ڈویژن میں ایک بڑے حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔
ریلوے ذرائع کے مطابق مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے زیادہ تر حادثات سکھر، کراچی اور ملتان ڈویژنوں میں پیش آئے۔ ان حادثات کی تحقیقات بھی کی گئیں، تاہم انکوائری رپورٹس پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث حفاظتی اقدامات کی افادیت پر سوالات برقرار ہیں۔
اس حوالے سے ترجمان پاکستان ریلویز نے بتایا کہ ملک بھر میں 24 گھنٹے کے دوران تین ہزار سے زائد ٹرین آپریشنز جاری رہتے ہیں، اس تناسب سے حادثات کی تعداد بہت کم ہے۔
ترجمان کے مطابق ریلوے انتظامیہ حادثات نہیں چاہتی اور حفاظتی انتظامات مزید بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے سیفٹی کا نیا ڈائریکٹوریٹ قائم کیا گیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر معائنے کیے جا رہے ہیں، نئی بوگیاں شامل کی جا رہی ہیں اور ریلوے ٹریک کی بہتری و اپ گریڈیشن کا عمل بھی جاری ہے۔