تصور کیجیے ایک گھر ہے، گھر کے باہر ایک بوڑھا باپ کرسی پر بیٹھا محلے کے لوگوں کو گزرتا ہوا دیکھتا ہے، گزرنے والا جب کوئی نوجوان ہو تو اسے اپنا بیٹا یاد آ جاتا ہے ، جو پردیس کاٹ رہا ہے۔ دور سے جب کوئی نوجوان کندھے پر بیگ لٹکائے آتا نظر آتا ہے تو اس کی آنکھیں چمک جاتی ہوں گی کہ شاید میرا بیٹا پردیس سے واپس آ گیا ہے۔ باپ کی آنکھیں اپنے نوجوان بیٹے کو تلاش کر رہی ہوتی ہیں، جب بیٹا پردیس گیا تو شروع کے دنوں میں فون پر روز بات ہوتی۔
وہ دلاسے دیتا، ابا جان حالات بہتر ہوتے ہی آپ دونوں کو اپنے پاس بلا لوں گا۔ پھر فون کالز ہفتہ وار آنے لگیں اور پھر ہر مہینے پیسے جب وہ بھیج دیتا تو اطلاع اور حال احوال کے لیے فون کر لیتا۔ اس طرح دن گزرتے رہے، اس کی بھیجی ہوئی رقم سے ہر ماہ بجلی کا بل ادا ہو جاتا، گھر کا راشن بھی آ جاتا، سالوں گزر گئے۔ بہنوں کی شادی بھی ہو گئی لیکن پردیس گیا ہوا بھیا ابھی تک واپس نہ آیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں معاشیات اور نفسیات ملتے ہیں۔ یہی وہ کہانی ہے جسے پاکستان میں ترسیلات زر کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار کے ساتھ پڑھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان ترسیلات زر کے ذریعے پاکستان کو ڈالر مل رہے ہیں۔ ان ڈالرز کے پیچھے کتنے گھروں کی اداسیاں، کتنی ماؤں کا انتظار، کتنے ہی والد کی تنہائیاں کیونکہ بیٹا ہی باپ کا دوست ہوتا ہے اور پردیس گئے ہوئے لاکھوں نوجوانوں کی ادھوری زندگیاں بھی چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔
روزنامہ ایکسپریس کی فراہم کردہ خبر کے مطابق جولائی تا ستمبر 2026 ان تین ماہ کے دوران بیرون ملک پاکستانیوں نے 10.88 ارب ڈالرز پاکستان بھیجے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی سہ ماہی کے دوران ترسیلات زر تقریباً 9.54 ارب ڈالر تھیں۔ اس طرح پہلے کے مقابلے میں تقریباً 14 فی صد کا اضافہ ہوا۔ ایک ایسے وقت میں یہ اضافہ جب مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری ہے اور ایران، امریکا آپس میں برسر پیکار بھی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ان حالات میں پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان سے ملک کو غیر ملکی کرنسی حاصل ہوتی ہے۔
خاندانوں کے اخراجات پورے ہوتے ہیں اور بیرونی ادائی کے دباؤ میں بھی کمی واقع ہوتی ہے اور یہ ڈالر ایسے انسانوں کی محنت سے آتے ہیں جنھوں نے بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنا گھر خاندان اور مانوس ماحول چھوڑا۔ کسی نے قطر کی تعمیراتی کمپنی میں ملازمت کی، کسی نے سعودی عرب میں ڈرائیونگ کی، کسی نے برطانیہ کے کسی شاپ پر کام کیا، کسی نے امریکا میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ملازمت کی اور کسی نے یورپ کے کسی ملک میں برسوں کام کرتے ہوئے پاکستان میں اپنے خاندان کو سنبھالا، ان کے لیے پیسے بھیجے، ان کی بہنوں کی شادیاں ہوئیں، کیونکہ والدین کے لیے بیٹیوں کے رشتے کرنا آسان ہو جاتا ہے، وہ باور کراتے ہیں کہ اس کا بڑا بھائی باہر ملک گیا ہوا ہے۔ دراصل وہ داماد کو یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ فکر نہ کرنا کوئی مشکل آجانے پر بھائی مدد کر دے گا اور لاکھوں کہانیاں ہیں کہ کس طرح ضرورت پڑنے پر پردیسی بھائی نے اپنی بہن اور بہنوئی کی مالی مدد کی۔
یہ تمام افراد ایک جیسے حالات میں تو نہیں رہتے۔ بعض خوشحال ہیں اور بعض تو یورپ اور امریکا یا آسٹریلیا وغیرہ میں اپنے خاندان کے ساتھ آباد ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈاکٹروں اور انجینئرز یا آئی ٹی ماہرین کو بہت ہی بہترین مواقع ملے ہوئے ہیں۔ ان کی اکثریت صرف اس لیے بیرون ملک آ کر آباد ہو گئے کیونکہ پاکستان میں ان کی صلاحیت، مہارت اور تعلیم کے مطابق نہ نوکریاں مل رہی تھیں نہ ہی تنخواہیں اتنی زیادہ میسر آ رہی تھیں۔ اس لیے ان کا یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ بیرون ملک جا کر ملازمت کی جائے۔
البتہ بیرون ملک گئے ہوئے پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو کہ صرف محنت مزدوری کرنے گئے ہیں اور بیرون ملک جانے کے تمام فیصلوں کے پیچھے معاشی دباؤ، مستقبل کا خوف اور اپنے خاندان کو بہتر زندگی دینے کی خواہش ہوتی ہے۔ایک تعلیم یافتہ نوجوان جب اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بار بار انٹرویو دینے جاتا ہے تو اسے اچھی ملازمت نہیں ملتی یا پھر اسے ملازمت ملتی تو ہے لیکن تنخواہ بہت ہی کم ہوتی ہے اس کے والدین نے برسوں اسے پڑھایا، اس پر تعلیمی اخراجات دل کھول کر کیے اور ان کی خواہش تھی کہ بیٹا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو کر اچھی تنخواہ وصول کرے گا تو ان کے ارمان بھی پورے ہو جائیں گے مگر جب یہ حالات نہیں رہتے اور اسے معمولی تنخواہ پر ملازمت ملتی ہے تو ایسے نوجوانوں کی اکثریت اب وطن چھوڑنے کا فیصلہ کر لیتی ہے یہ فیصلہ انتہائی کٹھن ہوتا ہے لیکن مجبوری ہوتی ہے کہ بوڑھے والدین کے علاج معالجے کا خرچ بڑھ گیا ہے، خاندان کے بڑھتے اخراجات مہنگائی اور خاص طور پر بجلی بلوں کی ادائیگی کے لیے زیادہ رقم چاہیے لہٰذا ماں باپ، بھائی بہن اپنے دلوں پر پتھر رکھ کر اپنے بیٹے یا بھائی کو بیرون ملک ملازمت کے لیے روانہ کرتے ہیں اور وہ نوجوان بھی اپنے ملک کے معاشی و صنعتی حالات سے دل برداشتہ ہو کر دیار غیر جا کر بس جاتا ہے اور یہاں سے اس کی زندگی کی دوسری کہانی شروع ہوتی ہے۔