احتجاج کیوں نہیں ہوا؟

تحریک انصاف کے حامی سوشل میڈیا نے لوگوں کو سڑکوں پر لانے اور ان کو احتجاج پر اکسانے کی بہت کوشش کی ہے


مزمل سہروردی October 15, 2026
[email protected]

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو لگے چند دن ہو گئے ہیں۔ ایک سوال اس ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد سب کے سامنے ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت چلی گئی۔ لیکن کے پی میں کوئی بڑا احتجاج نہیں ہوا۔ لوگ سڑکوں پر نہیں آئے، کہیں کوئی بڑا احتجاج نہیں ہوا۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ کیا تحریک انصاف کی کے پی میں بھی احتجاج کی طاقت ختم ہو گئی ہے۔ کیا کے پی کے عوام بھی اب تحریک انصاف کے لیے سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تحریک انصاف کے حامی سوشل میڈیا نے لوگوں کو سڑکوں پر لانے اور ان کو احتجاج پر اکسانے کی بہت کوشش کی ہے۔ پہلے لوگوں کو لانگ مارچ میں شرکت کے لیے سوشل میڈیا نے بہت مہم چلائی۔ لیکن سب نے دیکھا کہ سہیل آفریدی کے لانگ مارچ میں بھی لوگوں کی کوئی بڑی تعداد موجود نہیں تھی۔ سب کا یہی اندازہ تھا کہ کسی بھی لمحے لوگوں کی تعداد ایک ہزار پندرہ سو سے زیادہ نہیں تھی۔

اسی لیے ایمرجنسی لگنے کے بعد یہ لانگ مارچ آسانی سے ختم ہوگیا اور اس میں شریک لوگ گھروں کو چلے گئے۔ یہاں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لانگ مارچ میں شامل لوگ پہلے ہی کئی دن سے سڑکوں پر تھے۔ تھک چکے تھے، ان میں مزاحمت کی کوئی طاقت باقی ہی نہیں تھی۔ وہ پہلے ہی گھروں کو جانا چاہتے تھے۔ حکومتی دبائو اور مجبوری میں لانگ مارچ میں شریک تھے۔حکومت ختم ہوئی اور انھوں نے شکر ادا کیا اور گھروں کو چلے گئے۔ اس لیے لانگ مارچ ایمرجنسی کو روکنے کے لیے کوئی ڈھال ثابت نہیں ہوا۔

اب ایمرجنسی لگنے کے بعد تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے پشاور پہنچنے کی کال دی۔ ان کے لیڈرز کی جانب سے بھی پشاور پہنچنے کی کال دی گئی۔ لیکن کوئی بھی پشاور نہیں پہنچا۔ پشاور میں سو لوگ بھی اکٹھے نہیں ہوا۔ پشاور کے رہنے والے لوگ بھی باہر نہیں نکلے۔

یہ حقیقت ہے کہ تحریک انصاف پشاور میں کوئی بڑا اور چھوٹا احتجاج کرنے میں ناکام رہی۔ اہل پشاور نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف سڑکوں پر نکلنے سے انکار کیا ہے۔ انھوں نے خود کو اس سے لاتعلق ہی رکھا ہے۔ یہ اہم نقطہ ہے کیونکہ تاثر یہی دیا گیا تھا کہ اگر کے پی میں گورنر راج لگایا گیا تو پشاور میں گورنر ہائوس کا گھیرائو کیا جائے گا۔ گورنر کو گورنر ہائوس سے نکال کر باہر پھینک دیا جائے گا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔

ایمرجنسی اور گورنر راج کے دو دن بعد خیبر پختون خوا میں باڑہ میں احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ سہیل آفریدی کا اپنا علاقہ ہے۔ وہاں سے چند سو لوگ باہر نکلے ہیں۔ ان کا پولیس سے تصادم بھی ہوا ہے، وہاں کچھ سرکاری دفاتر کو آگ بھی لگائی گئی ہے۔ لیکن اس احتجاج پر بھی چند گھنٹوں میں قابو پا لیا گیا۔ پچاس کے قریب مظاہرین کی گرفتاری کی خبر ہے۔ بعد میں حکومت کی جانب سے گرفتار مظاہرین کی ایسی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہیں جن میں وہ معافی مانگ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان کو ورغلا کر احتجاج میں لے گئے، وہ آیندہ احتجاج نہیں کریں گے۔ تاہم خیبر پختون خوا میں اس کے بعد حالات کنٹرول میں آگئے اور پولیس نے حالات کو قابو میں کر لیا۔

یہ سوال موجود ہے کہ جہاں تحریک انصاف کی دو تہائی اکثریت تھی، ہر جگہ تحریک انصاف ہی جیتی ہوئی تھی۔ وہاں کوئی احتجاج کیوں نہیں ہوا۔ لوگ سڑکوں پر نہیں آئے، کسی بھی بڑے شہر میں کوئی احتجاج نہیں ہوا۔ حالات پر امن رہے۔ کے پی سے تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی کسی جگہ کسی چھوٹے بڑے احتجاج کی کوئی قیادت نہیں کی۔ کسی ایم این اے اور کسی ایم پی اے نے اپنے حلقہ میں لوگوں کو باہر نکالنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ سب خاموش رہے ہیں۔ کے پی سے تحریک انصاف کے پاس بہت بڑے نام ہیں لیکن کسی بھی بڑے نام نے کسی بھی احتجاج کی کوئی کوشش نہیں کی۔

ایک سوال اور سامنے آیا ہے کہ تحریک انصاف جس سوشل میڈیا کو اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھتی تھی۔ اس پر بھی بہت سے سوالیہ نشان پیدا ہو گئے ہیں۔ ان کے بڑے بڑے یو ٹیوبرز اور سوشل میٖڈیا ماہرین نے عوامی احتجاج کے لیے سوشل میڈیا پر بہت ماحول بنایا بلکہ لوگوں کو احتجاج کے لیے راغب کرنے کے لیے بہت سی جعلی ویڈیوز بھی لگائی گئیں تا کہ لوگوں کو تاثر دیا جا سکے کہ بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر آگئے ہیں، وہ بھی آجائیں۔ گورنر ہائوس کو آگ لگانے کی جعلی ویڈیوز لگائی گئیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کے بڑے اجتماعات کی جعلی ویڈیوز لگا کر لوگوں کو باہر نکلنے کی اپیل کی گئی۔ لیکن کے پی کے عوام نے باہر نکلنے سے انکار کر دیا۔ اس سے ایک سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا عوام پر سوشل میڈیا کا اثر بھی ختم ہوگیا ہے۔

اب تک تو تحریک انصاف چل ہی سوشل میڈیا پر رہی تھی۔ فیصلے سوشل میڈیا کے دبائو میں کیے جا رہے تھے۔ سوشل میڈیا کو ایک ناقابل تسخیر طاقت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا عوام کو سڑکوں پر لانے میں ناکام رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے لوگ اب یہ ملبہ تحریک انصاف کی قیادت پر ڈال رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا موقف رہا ہے کہ ان کا عوام سے براہ راست تعلق ہے، وہ عوام کی نبض کی بات کرتے ہیں، وہ عوامی موقف سامنے رکھتے ہیں۔پھر سوشل میڈیا عوام کو سڑکوں پر آنے پر قائل کرنے میں کیوں ناکام رہا؟ کیا اب یہ بات ثابت نہیں ہوگئی کہ تحریک انصاف کی قیادت کو سوشل میڈیا کے دبائو سے باہر آجانا چاہیے۔ اس کی کوئی افادیت نہیں ہے۔ اس سے ڈر کر جو بھی فیصلے کیے گئے ہیں۔ ان کے منفی نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان کا بہت سیاسی نقصان ہوا ہے۔

 کے پی کے ،کی تحریک انصاف کے اندر پنجاب کی تحریک انصاف کے لیے جو نفرت موجود تھی، وہ بھی اب کم ہوگئی ہوگی۔ تحریک انصاف کے پی پنجاب کی قیادت کو طعنے دیتے تھے کہ ان میں احتجاج کرنے کی جرات نہیں۔ جواب یہی دیا جاتا تھا کہ کے پی میں حکومت ہے آپ اس لیے لوگ نکال لیتے ہیں۔ جس دن حکومت ختم ہو جائے گی پھر دیکھیں گے کتنا احتجاج کرتے ہیں۔ جواب دیا جاتا تھا کہ کے پی میں ایسا نہیں حکومت ہو نہ ہو، لوگ نکلتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں پنجاب تحریک انصاف کا موقف درست ثابت ہو گیا ہے۔ احتجاج کی ساری قیادت حکومت کی وجہ سے تھی۔ حکومت ختم ہو گئی، احتجاج ختم۔ اب پنجاب اور کے پی ایک جیسے ہو گئے ہیں۔ اگر لوگ پنجاب میں نہیں نکلتے تو کے پی میں بھی نہیں نکلتے۔ پاکستان ایک ہے، لوگ بھی ایک جیسے ہیں۔ اس لیے کے پی اور پنجاب کی بحث بھی ختم ہو گئی ہے۔

کیا آگے چل کر کوئی احتجاجی تحریک چل سکتی ہے۔مجھے نہیں لگتا۔ مجھے لگتا ہے کہ کے پی میں احتجاج کا کوئی موڈ نہیں۔ لوگ شائد تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست سے تنگ آچکے تھے، وہ لانگ مارچ کی سیاست سے تنگ آچکے تھے۔ تحریک انصاف کی احتجاجی طاقت ختم ہو گئی تھی، حکومت کی طاقت سے احتجاج کر رہے تھے۔ حکومت ختم۔ احتجاج ختم۔