14 اور15اکتوبر1947ء، ڈوگرہ اقتدار کیخلاف کشمیریوں کی مزاحمت تحریکِ آزادی کشمیرکا اہم باب

راجہ سخی دلیر خان نے سرساوہ اور کوٹلی میں ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا


ویب ڈیسک October 15, 2026

تحریکِ آزادی کشمیر قیامِ پاکستان کے وقت سے ہی کشمیری مسلمانوں کی سیاسی امنگوں اور پاکستان سے الحاق کی جدوجہد سے جڑی ہوئی تھی.

19جولائی 1947ء کو آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس نے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کرکے کشمیری مسلمانوں کی سیاسی خواہش کا اظہار کیا.

مہاراجہ کے بھارت سے الحاق کے عزائم اورڈوگرہ فورسز کے مظالم کیخلاف کشمیری عوام کی جدوجہد نے ان کی مزاحمت کو مزید منظم کیا.

اکتوبر1947ء میں سرساوہ اور کوٹلی کے گردونواح میں مقامی کشمیریوں اور سابق فوجیوں نے ڈوگرہ افواج کیخلاف مزاحمت میں حصہ لیا.

راجہ سخی دلیر خان نے سرساوہ اور کوٹلی میں ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور فاتح کوٹلی کے نام سے پہچانے گئے.

سرساوہ کی جغرافیائی اہمیت نے اسے ڈوگرہ افواج کے خلاف مزاحمت کا اہم محاذ بنایا جبکہ یہاں کی کامیابی نے تحریک آزادی کشمیرکی   جدوجہد کو مزید تقویت دی.