مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ کا خطرہ

امریکی صدر کی ایران کے خلاف مزید کارروائی کی دھمکی کو سمجھنے کے لیے اس کے سیاسی پس منظر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا


ایڈیٹوریل October 16, 2026
آبنائے ہرمز کے ممنوعہ علاقے سے خفیہ طور پر گزرنے والے آئل ٹینکر میں خوفناک آتشزدگی (فائل فوٹو)

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال میں جنگ کا سب سے خطرناک پہلو یہ نہیں کہ کس ملک کے پاس کتنے میزائل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ فیصلہ سازی کے ایوانوں میں طاقت کے مظاہرے کو کامیابی اور پسپائی سے گریز کو حکمت سمجھنے کا رجحان مضبوط ہو رہا ہے۔ واشنگٹن سے تہران تک بلند ہوتے جنگی دعوے، آبنائے ہرمز میں بحری تصادم کی دھمکیاں، اسرائیل کی ممکنہ پیشگی کارروائی کے اشارے اور یمن کے حوثیوں کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیت ایک ایسے علاقائی بحران کی نشان دہی کرتے ہیں جس میں کسی ایک فریق کی محدود فوجی کارروائی بھی غیر متوقع طور پر وسیع جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ دنیا دیکھے گی کہ امریکا ایران کے ساتھ کیا کرتا ہے، محض ایک انتخابی جلسے میں دیا گیا سخت بیان نہیں، بلکہ اس امریکی حکمتِ عملی کا اظہار بھی ہے جس میں جوہری عدم پھیلاؤ کے بنیادی مقصد کے ساتھ عسکری برتری، داخلی سیاسی مقبولیت اور علاقائی اثرورسوخ کے تقاضے باہم الجھتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی اور کسی نئی جارحیت کا زیادہ شدت سے جواب دینے کے اعلانات بتاتے ہیں کہ تہران بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کی صلاحیت کو اپنی سفارتی قوت کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب دونوں جانب فیصلہ کن برتری کے دعوے کیے جا رہے ہوں تو اس کشمکش کا اختتام مذاکرات کی میز پر ہوگا یا کسی ایسے تصادم پر جو پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو اپنی لپیٹ میں لے لے؟

امریکی صدر کی ایران کے خلاف مزید کارروائی کی دھمکی کو سمجھنے کے لیے اس کے سیاسی پس منظر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تین نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں مہم کے دوران ایران کے بارے میں سخت لب و لہجہ اختیار کرنا امریکی داخلی سیاست میں طاقتور قیادت کا تاثر قائم کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے، تاہم خارجہ پالیسی کو انتخابی مہم کے تابع کرنے کا خطرہ یہ ہے کہ پیچیدہ عالمی مسائل کے حل کے لیے درکار تحمل اور سفارتی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا یقیناً عالمی سلامتی کا ایک اہم مسئلہ ہے، مگر اس مقصد کے حصول کے لیے اختیار کیے جانے والے ذرائع کی افادیت، قانونی حیثیت اور ممکنہ نتائج کا جائزہ لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے، اگر پابندیاں، مذاکرات اور نگرانی کے نظام مطلوبہ نتائج نہ دیں تو اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ جنگ ہی واحد راستہ رہ جاتی ہے۔

عسکری کارروائی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا سکتی ہے، لیکن اس سے جوہری علم، تکنیکی مہارت اور سیاسی محرکات کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ اس کے برعکس حملے کسی ملک کے اندر یہ تصور مضبوط کر سکتے ہیں کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے زیادہ موثر دفاعی صلاحیت ناگزیر ہے، یوں جس خطرے کو محدود کرنے کے لیے جنگ شروع کی جائے، وہی خطرہ طویل مدت میں مزید پیچیدہ شکل اختیار کر سکتا ہے۔

 امریکی فوج کی جانب سے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے منصوبے تیار کیے جانے اور دنیا کے سب سے بڑے غیر جوہری بموں میں شمار ہونے والے ’’مدر آف آل بمز‘‘ کے استعمال پر غور کی اطلاعات اس بحران کی سنگینی میں اضافہ کرتی ہیں۔ تاہم ان اطلاعات اور کسی حتمی فیصلے کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے، دستیاب رپورٹ کے مطابق اس بم کے استعمال کی منظوری سامنے نہیں آئی۔ اس نوعیت کے ہتھیار کی تباہ کن صلاحیت اپنی جگہ، مگر اصل سوال اس کے حجم یا دھماکے کی شدت کا نہیں بلکہ اس تزویراتی نتیجے کا ہے جو اس کے استعمال سے حاصل ہو سکے گا۔ کیا کسی بڑے بم کی مدد سے ایران کی جوہری صلاحیت ہمیشہ کے لیے ختم کی جا سکتی ہے؟ کیا توانائی کی تنصیبات کو تباہ کرنے سے ایرانی قیادت اپنا مؤقف تبدیل کر لے گی؟ اور کیا ایسی کارروائی کے بعد خطے میں امریکی مفادات، اتحادیوں اور عالمی بحری تجارت کو لاحق خطرات کم ہو جائیں گے؟ ان سوالات کا جواب محض فوجی طاقت کے پیمانوں سے نہیں دیا جا سکتا۔جنگی منصوبہ بندی میں اہداف کی تباہی اور سیاسی مقاصد کے حصول کو ایک ہی چیز سمجھ لینا بنیادی غلطی ہوتی ہے۔

کسی تنصیب کو نقصان پہنچانا فوجی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس کامیابی کو پائیدار امن میں تبدیل کرنا کہیں زیادہ دشوار عمل ہے۔ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کی صورت میں تہران کی جوابی کارروائی، علاقائی اتحادیوں کی سرگرمیاں، بحری راستوں میں رکاوٹ اور توانائی کی عالمی رسد میں خلل ایک دوسرے سے جڑ سکتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں محدود جنگ کے دائرے سے نکل کر ایک وسیع علاقائی تصادم کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ امریکا کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی فوجی برتری کو غیر محدود کارروائی کا جواز نہ سمجھے، کیونکہ جدید جنگوں میں برتری صرف ہتھیاروں کی تعداد سے نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے حصول، اتحادیوں کے تحفظ اور تنازع کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت سے ناپی جاتی ہے۔

 اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا ستائیس اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل ایران پر دوبارہ پیشگی حملے کے حق میں نہ ہونا بظاہر کشیدگی میں کمی کا اشارہ ہے، مگر ان کی جانب سے تہران اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ فوجی آپشن مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔ انتخابی مصلحتیں یہاں بھی اہم دکھائی دیتی ہیں۔ کسی بھی رہنما کے لیے جنگی کارروائی کا فیصلہ صرف دفاعی ضرورت کا معاملہ نہیں رہتا؛ اس پر داخلی سیاست، عوامی رائے، اتحادیوں کے دباؤ اور ممکنہ جوابی کارروائی کے اثرات بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ لیکن جب خطے میں متعدد فریق اپنی سلامتی کو دوسرے فریق کی پسپائی سے وابستہ کر لیں تو مفاہمت کی گنجائش سکڑنے لگتی ہے۔ اسرائیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے خدشات کا حل ایسی کارروائیوں میں نہ تلاش کرے جو ایرانی ردعمل اور اتحادی گروہوں کی جوابی سرگرمیوں کو مزید شدید بنا دیں۔ اسی طرح ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ علاقائی قوت کا مظاہرہ اس وقت تک پائیدار تحفظ فراہم نہیں کر سکتا جب تک ہمسایہ ممالک کو مسلسل عدم تحفظ کا سامنا رہے۔

 پاکستان کے لیے یہ بحران محض دور افتادہ خطے کی جنگ نہیں، بلکہ قومی سلامتی، توانائی کی ضروریات، بیرونِ ملک پاکستانیوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس کی سفارتی ذمے داری میں اضافہ کرتے ہیں۔ اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ کشیدگی میں کمی، بحری راستوں کی سلامتی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی سفارتی صلاحیت بروئے کار لائے۔ اس کوشش میں کسی ایک فریق کے جنگی بیانیے کی غیر مشروط تائید کے بجائے اصولی مؤقف اختیار کرنا زیادہ سودمند ہوگا۔ خودمختاری کا احترام، شہری آبادی کا تحفظ، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور تنازعات کا پرامن حل۔ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ مشاورت، اسلامی تعاون تنظیم کے فورم اور دیگر سفارتی ذرائع سے جنگ بندی اور رابطوں کی بحالی کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم اس کردار کی کامیابی کے لیے مسلسل رابطہ، قابلِ اعتماد تجاویز اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ متوازن سفارت کاری ضروری ہوگی۔

  دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کے مظاہرے سے سرخیاں تو حاصل کی جا سکتی ہیں، مگر امن کی ضمانت نہیں۔ اگر واشنگٹن ایران کو دباؤ کے ذریعے اپنے مطلوبہ نتائج تک لانا چاہتا ہے، تہران مزاحمت کو اپنی بقا کی واحد ضمانت سمجھتا ہے، اسرائیل پیشگی حملے کے امکان کو برقرار رکھتا ہے اور حوثی گروپ اپنی میزائل صلاحیت میں اضافے کی کوشش کرتا ہے تو اس کشمکش کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جائے گا۔ جنگ کا حقیقی فاتح وہ نہیں ہوگا جو زیادہ تباہ کن ہتھیار استعمال کرے، بلکہ وہ ہوگا جو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرتے ہوئے تباہی کے پھیلاؤ کو روک سکے۔ وقت آ گیا ہے کہ دھمکیوں کی جگہ سنجیدہ مذاکرات، عسکری نمائش کی جگہ قابلِ تصدیق ضمانتیں اور انتخابی مفادات کی جگہ انسانی زندگیوں اور عالمی استحکام کو ترجیح دی جائے۔ بصورتِ دیگر آبنائے ہرمز میں اٹھنے والی ایک چنگاری صرف تیل کی منڈیوں کو نہیں جھلسائے گی، بلکہ پورے خطے کے امن، عالمی تجارت اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔