اسرائیلی کمپنی کا آن لائن اشتہارات کے ذریعے ہزاروں ایپس اور ویب سائٹس کی جاسوسی کا انکشاف

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی کینڈیرو کو امریکی حکومت نے 2021 میں بلیک لسٹ کیا تھا


ویب ڈیسک October 16, 2026

اسرائیلی ڈیجیٹل اشتہاری کمپنی ’ڈسکور ٹیک‘ پر آن لائن اشتہارات کے وسیع نیٹ ورک کو انٹرنیٹ صارفین کی نگرانی اور ان کے آلات میں اسپائی ویئر نصب کرنے میں مدد کے لیے استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ بات سائبر سکیورٹی سے متعلق دو تحقیقی اداروں کی الگ الگ رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کینیڈا کے تحقیقی ادارے سٹیزن لیب اور نیویارک کی اشتہاری سکیورٹی فرم کنفائنٹ نے بتایا کہ ڈسکور ٹیک کے اشتہاری نظام کے ذریعے اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی ’کینڈیرو‘ سمیت نگرانی کرنے والی دیگر کمپنیوں کو مختلف اشتہاری پلیٹ فارمز تک رسائی ملی۔ ان پلیٹ فارمز میں گوگل، کامکاسٹ اور روسی کمپنی یانڈیکس کے نظام بھی شامل تھے۔

سٹیزن لیب کے مطابق ڈسکور ٹیک کے اشتہارات، جن میں موبائل فون اور ایئربڈز جیسی عام مصنوعات کے اشتہارات بھی شامل تھے، شراکت داروں کے ذریعے ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ ویب سائٹس اور 75 ہزار ایپس تک پہنچے۔

محققین کا کہنا ہے کہ بعض اشتہارات کے ذریعے ایسی ویب سائٹس پر آنے والے یا مخصوص ایپس استعمال کرنے والے افراد کی شناخت اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی ممکن تھی۔ بعض صورتوں میں اسمارٹ فون صارفین کے فون نمبرز حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق بعض حالات میں صرف متعلقہ ویب سائٹ پر اشتہار کا لوڈ ہونا نگرانی کے عمل کے لیے کافی ہو سکتا تھا۔

دونوں تحقیقی اداروں نے یہ بھی بتایا کہ بعض اشتہارات صارفین کے آلات میں کینڈیرو کا اسپائی ویئر نصب کرنے میں مدد کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ تاہم کنفائنٹ کے مطابق کینڈیرو سے منسلک اشتہارات ڈسکور ٹیک کے مجموعی اشتہارات کا بہت معمولی حصہ تھے۔

سٹیزن لیب کے سینئر محقق وولفی کرسٹل نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن اشتہارات کا موجودہ نظام سکیورٹی کے لیے بنیادی نوعیت کا خطرہ بن سکتا ہے، جس سے ریاستیں، نجی ادارے اور سول سوسائٹی سمیت مختلف فریق متاثر ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی کینڈیرو کو امریکی حکومت نے 2021 میں بلیک لسٹ کیا تھا۔ تاہم تحقیقات میں سامنے آنے والے دعووں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر اشتہار یا ڈسکور ٹیک کی ہر سروس جاسوسی کے لیے استعمال ہوئی۔