سانحہ بلدیہ کوئی محکمہ آتشزدگی کی حتمی وجہ نہیں بتا سکا تحقیقاتی ٹریبونل

پولیس کا شعبہ فارنسک بھی جدید آلات اور تربیت یافتہ افسران سے محروم ہے


Staff Reporter September 26, 2012
فائربریگیڈ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ فیکٹری میں حفاظتی تدابیر کا خیال نہیں رکھاگیا۔ فوٹو: اے ایف پی

سانحہ بلدیہ کی تحقیقات کرنے والے ٹریبونل نے تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آبزروکیا ہے۔

کوئی بھی محکمہ آتشزدگی کی حتمی وجہ نہیں بتاسکا،پولیس کا شعبہ فارنسک بھی جدید آلات اور تربیت یافتہ افسران سے محروم ہے۔

جبکہ چیف فائر آفیسر احتشام الدین نے تجویز دی ہے کہ فیکٹری میں آگ لگنے کی حتمی وجوہ جاننے کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی ، پاکستان اسٹیل ، پورٹ قاسم اتھارٹی ،کے پی ٹی کے آگ بجھانے کے ماہرین ، آزاد ٹیکنیکل اور کیمیکل انجینئرز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔

جو فیکٹری کا معائنہ کرکے ٹریبونل کو رپورٹ پیش کرے، منگل کو چیف فائر آفیسر احتشام الدین دوسری بار جسٹس(ر) زاہدقربان علوی کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹریبونل کے روبرو پیش ہوئے اور بیان قلمبند کراتے ہوئے رپورٹ جمع کرائی جس میں فیکٹری میں آگ کی صورتحال اور آئندہ ایسے حادثات سے بچائو کے لیے سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔

فائربریگیڈ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ فیکٹری میں حفاظتی تدابیر کا خیال نہیں رکھاگیا،قوانین پر عمل نہیں ہوا جبکہ محکمہ شہری دفاع اورسائٹ لمیٹڈ ایسوسی ایشن جیسے ادارے بھی بلڈنگ اور دیگر قوانین کی سنگین خلاف ورزی پرخاموش رہے، آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ ہوسکتی ہے۔

تاہم مزید تکنیکی جائزہ لینے کی ضرورت ہے،جسٹس( ر )زاہدقربان علوی کے سوال پر انھوں نے بتایا کہ تجزیے کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی تاہم اس حوالے سے حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔

فارنسک اور دیگر جانچ کے لیے جدیدلیبارٹیریز اور ماہرین کی کمی ہے۔ٹریبونل کے اس استفسار پر کہ فیکٹری مالک کے بیٹے ملزم شاہد بھائیلہ کے مطابق فائر بریگیڈ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچی اور فائربریگیڈ کی جانب سے فوری رسپانس نہیں ملا۔

چیف فائر افسر نے موقف اختیارکیاکہ کال موصول ہوتے ہی چند منٹ کے بعدفائر بریگیڈ کی دو گاڑیاں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی تھیں جیسے ہی آگ کو تیسرے درجے کی قراردیاگیا تو مزید گاڑیاں روانہ کردی گئیں،یہ الزام بے بنیاد ہے کہ فائربریگیڈ تاخیرسے پہنچی۔

انھوں نے بتایا کہ زیادہ ہلاکتیں دوسری منزل پر ہوئیںجہاں جلد ہی دھواں بھر گیا تھا جس کے باعث ملازمین کو نکلنے میں مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔ٹریبونل نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے فیکٹری کے متاثرہ ملازمین کو پیش ہونے کی ہدایت کی جبکہ آبزرو کیا کہ حقائق تک پہنچنے کے لیے زخمی ہونیوالوں کے بیانات بھی قلمبند کیے جائیں گے۔

دریں اثنا سندھ ہائیکورٹ نے 259افراد کی ہلاکت کاسبب بننے والی فیکٹری کے مالکان کو10یوم میں اثاثوں کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے چیف سیکریٹری ، محکمہ داخلہ ،وزارت محنت، فائربریگیڈ،میونسپل کمشنرکراچی، کے ایم سی اور دیگر اداروں کوعلی انٹرپرائززمیں لگنے والی آگ سے متعلق دو ہفتوںمیں رپورٹ پیش کرنے کیلیے دوبارہ نوٹس جاری کردیے۔