زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ طویل وقت تک بیٹھے رہنا صحت کیلئے نقصان دہ ہے، لیکن سوئن برن یونیورسٹی کی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہمیں پہلے کے اندازوں سے بھی جلد اپنی جگہ سے اٹھ کر حرکت کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

تحقیق میں کیا انکشاف ہوا؟
یہ تحقیق سائنسی جریدے ’این پی جے ایکسرسائز میڈیسن اینڈ ہیلتھ‘ میں شائع ہوئی ہے۔ سوئن برن یونیورسٹی کے ڈاکٹر کرسچن بریکنرج نے اس تحقیق کی سربراہی کی، جو روزمرہ کی عادات، جیسے بیٹھنے، کھڑے ہونے اور سونے کے اثرات کا مطالعہ کرتے ہیں۔
ان کی ٹیم نے خصوصی سینسرز سے لیس شارٹس کی مدد سے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں پٹھوں کی سرگرمی کا جائزہ لیا اور بیٹھنے کے 7 ہزار سے زائد ادوار کا ڈیٹا جمع کیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ ایک وقت میں 25 منٹ سے زیادہ بیٹھنے سے پٹھوں کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے، جو صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر بریکنرج کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا کہ مختصر وقت کے مقابلے میں زیادہ دیر تک بیٹھنے سے ہمارے پٹھے کم استعمال ہوتے ہیں جس کے باعث خون کی روانی اور خون سے شوگر جذب کرنے کا عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے، جس سے دل کی بیماریوں اور ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

بیٹھنے کا انداز بھی صحت پر اثرانداز ہوتا ہے
اچھی بات یہ ہے کہ آپ کس طرح بیٹھتے ہیں، یہ بھی آپ کی صحت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ مثال کے طور پر گاڑی چلانے، دوستوں سے گفتگو کرنے یا دفتر میں کام کرنے کے دوران پٹھوں میں معمولی حرکت جاری رہتی ہے۔ اس طرح بیٹھنا کئی گھنٹے تک فلم دیکھتے ہوئے بالکل بے حرکت بیٹھنے کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہوتا ہے۔

ہر 25 منٹ بعد جسمانی حرکت کیوں ضروری ہے؟
ہر 25 منٹ بعد اٹھ کر تھوڑی چہل قدمی یا ہلکی پھلکی ورزش کرنے سے پٹھے زیادہ متحرک رہتے ہیں، جس سے طویل وقت تک بیٹھنے کے منفی اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
محققین کے مطابق بیٹھنے کے دوران معمولی جسمانی حرکات کا تعلق کم باڈی ماس انڈیکس، کمر کے گھیرے میں کمی اور دل کی بیماریوں کے کم خطرے سے بھی پایا گیا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ دفتر میں کام کرنے یا اسکرین استعمال کرنے کے دوران باقاعدگی سے مختصر وقفے لیں اور جسم کو حرکت دیتے رہیں۔