انسان فطرتاً علم حاصل کرنے اور اپنے اردگرد کی دنیا کے بارے میں جاننے کا خواہش مند ہے۔ وہ ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے معاشرے، ملک اور دنیا میں کیا ہو رہا ہے، لوگ کن مسائل سے دوچار ہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کون سی نئی ترقی ہو رہی ہے اور مستقبل میں زندگی کے مختلف شعبوں میں کیا تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔
علم و آگہی کی اسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے انسان نے مختلف ذرائع اختیار کیے ہیں، جن میں کتابیں، رسائل، اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ نمایاں ہیں۔ ان تمام ذرائع میں اخبار کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔
اخبار بینی ایک ایسی مفید عادت ہے جو انسان کے علم میں اضافہ کرتی ہے، اس کی سوچ کو وسعت دیتی ہے اور اسے حالاتِ حاضرہ سے باخبر رکھتی ہے۔ اخبار محض خبروں کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ یہ معاشرے کی زندگی، عوام کے مسائل، حکومت کی پالیسیوں، قومی ترقی اور عالمی حالات کا آئینہ بھی ہوتا ہے۔
ایک اچھا قاری اخبار کے مطالعے سے نہ صرف معلومات حاصل کرتا ہے بلکہ مختلف معاملات کو سمجھنے، ان کا تجزیہ کرنے اور ان کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اخبار بینی کو ایک باشعور اور مہذب معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اخبار کی تاریخ انسانی تہذیب کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہے۔ قدیم زمانے میں خبریں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے قاصدوں، منادی کرنے والوں اور خطوط کا سہارا لیا جاتا تھا۔ بادشاہوں کے احکامات، جنگوں کی اطلاعات اور اہم واقعات لوگوں تک مختلف طریقوں سے پہنچائے جاتے تھے۔ اس زمانے میں معلومات کی ترسیل سست اور محدود تھی، اس لیے عام لوگوں کے لیے دور دراز علاقوں کے حالات سے واقف ہونا مشکل تھا۔
چھاپہ خانے کی ایجاد نے معلومات کی اشاعت میں ایک عظیم انقلاب برپا کیا۔ طباعت کے ذریعے تحریری مواد بڑی تعداد میں تیار کرنا ممکن ہوا اور رفتہ رفتہ اخبارات کا رواج بڑھنے لگا۔ جدید دورمیں اخبارات نے سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی میں اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ اخبارات کے ذریعے عوام کو حکومتی اقدامات، جنگوں، آزادی کی تحریکوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے بارے میں معلومات ملنے لگیں۔
برصغیر پاک و ہند میں بھی صحافت نے سماجی اصلاح، تعلیمی بیداری اور سیاسی شعور کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اردو صحافت نے مسلمانوں اور دیگر طبقات میں علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ تحریکِ پاکستان کے دوران اخبارات نے مسلمانوں کے سیاسی خیالات، مطالبات اور قومی جدوجہد کو عوام تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد اخبارات قومی زندگی کا اہم حصہ بن گئے۔ آج مطبوعہ اخبارات کے ساتھ ساتھ ان کے برقی ایڈیشن، خبری ویب سائٹس اور موبائل ایپلی کیشنز بھی معلومات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں
ایک زمانہ تھا کہ صبح ہوتے ہی چائے کے ساتھ اخبار پڑھا جاتا تھا، گھروں میں باقاعدہ ہاکر آ کر اخبار دے جایا کرتا تھا اس وقت ٹی وی کم دیکھاجاتا اور اخبار کا مطالعہ زیادہ ہوتا تھا ۔ گھر کے افراد اخبار کی خبروں پر تبادلہ خیال کیا کرتے ، مضامین پڑھے جاتے اور کئی لوگ تو معلومات کے لیے کچھ خاص چیزیں اپنی نوٹ بک میں نوٹ بھی کر لیتے یا تراشے کاٹ لیتے کیونکہ اخبار پرانا ہونے کی صورت میں اسے ردی میں فروخت کر دیا جاتا تھا ۔ پھر وقت نے کروٹ لی اور جدید دور آگیا۔ جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو اتنا مصروف کر دیا کہ اس کے پاس مطالعے کا وقت ہی نہ رہا، سوال یہ ہے کہ اخبار بینی کے رحجان میں کمی کیوں ہو رہی ہے تو اسکا سب سے پہلا اور آسان جواب ہے جدید ٹیکنالوجی۔
جیسے جیسے انسان سوشل میڈیا کے ساتھ بندھتا چلا گیا اس کے پاس وقت کی کمی ہوگئی اور مطالعے کے لیے فرصت نہ رہی۔ آج انسان اتنا مصروف ہے کہ اس کے پاس کاغذی اخبار پڑھنے اور خریدنے کے لیے وقت نہیں۔ اخبار خریدنے کا اضافی خرچہ کرنے کا کوئی سوچتا نہیں بلکہ منٹوں میں ریلز اسکرول کرکے خبریں، رپورٹس اور تجزیے دیکھ لیتا ہے۔ جو چیز منٹوں یا سکینڈز میں مل جائے اس کے لیے تردد کرنے کی کیا ضرورت؟ یہ الگ بات ہے کہ سوشل میڈیا کی خبروں کی سچائی کہیں مرتبہ مشکوک ہو سکتی ہے۔
لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کل کئی اخبارات آن لائن بھی ہیں اسی طرح فیس بک، انسٹا گرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر خبروں اور تفریحی مواد کا ایک سیلاب ہے، پوڈ کاسٹ اور آن لائن انٹرویو بھی ہوتے ہیں۔ اب صحافت قدیم دور سے نکل کر ڈیجیٹل دور میں آگئی ہے۔ اب خبریں پل میں ایک جگہ سے دوسری جگہ گردش کرتی ہیں۔ لیکن اخبارات کی اہمیت اب بھی وہیں ہے۔
اخبار بینی سے نہ صرف ہمارے علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ زبان و بیان کی خوبی بھی حاصل ہوتی ہے۔ اخبار میں اداریے، کالم، مضامین ہماری سیاسی تربیت کرتے ہیں اور ہم میں سیاسی شعور کو اجاگر کرتے ہیں۔ دلچسپ اور عجیب و غریب خبریں دیکھ کر انسان ان چیزوں کے بارے میں جان سکتا ہے۔ اخبار کی ایک خاص زبان ہوتی ہے جو کہ ہمیں سوشل میڈیا میں نہیں ملتی۔ اگرچہ کہ اخبار ہمیں چوبیس گھنٹے دستیاب نہیں ہوتا اور ہمیں اگلے دن کا انتظارکرنا پڑتا ہے تاہم پھر بھی مطبوعہ مواد کی اپنی ایک اہمیت ہے۔
المختصر کہ اخبار بینی کے رحجان میں کمی کی وجوہات میں مطالعے کی عادت میں کمی، جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا کا بے تحاشا استعمال وغیرہ شامل ہے۔ دیکھا جائے تو ہمیں سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ روایتی مطالعے کو فروغ دینا ہوگا۔ اخبار کی اہمیت اجاگر کرنا ہوگی، قارئین کے لیے اخبارات کے موضوعات کو دلچسپ بنا کر پیش کرنا ہوگا تاکہ ریڈرشپ بڑھے۔ اسکولوں اور کالجوں میں اخبار بینی کو فروغ دینا ہو گا تاکہ غلط اور گمراہ کن خبروں کے بہائو کو روکا جا سکے اور معتبر معلومات حاصل کی جا سکیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔