جاگتی نیند

توقیر احمد شریفی‘ ایک زندہ شاعر ہے‘ ان کی کتاب ’’جاگتی نیند‘‘ طویل عرصے سے گھر کی اسٹڈی میں پڑی رہی


راؤ منظر حیات October 17, 2026
[email protected]

توقیر احمد شریفی‘ ایک زندہ شاعر ہے‘ ان کی کتاب ’’جاگتی نیند‘‘ طویل عرصے سے گھر کی اسٹڈی میں پڑی رہی۔ تقریباً ایک ماہ پہلے‘ پڑھنا شروع کی تو حیرت زدہ رہ گیا۔ اس قدر عمدہ اور توانا شعر موجودہ دور میں بہت کم پڑھنے کو ملتے ہیں۔ مختلف نسخوں کے حوالے سے عجیب سی طبیعت پائی ہے۔ اگر کوئی کتاب موصول ہوتی ہے۔ تو بقول کرشن چند‘ پال میں لگا دیتا ہوں۔ یعنی ایک طرف رکھ کر تقریباً بھول جاتا ہوں۔ مگریہ ضرور یاد رہتا ہے ہے کہ کونسی کتاب‘ کب خریدی تھی یا موصول ہوئی تھی اور کس کونے میں پڑی ہوئی ہے۔ پھر بڑے اطمینان سے بلکہ حد درجہ توجہ سے ورق گردانی کرتا ہوں۔ ویسے عرض کروں کہ ہر لکھاری اور ہر کتاب کی اپنی ذاتی خوشبو ہوتی ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اپنی کشش ہوتی ہے۔ پڑھنے والے کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ عرض کرنے میں کوئی جھول نہیں‘ کہ توقیر احمد شریفی کی شاعری میں ایک ان دیکھی کوشش ہے۔ جسے محسوس بھی کیا جا سکتا ہے۔ اور بیان بھی ۔

 اس نسخہ کے متعلق برادرم خالد شریف رقم دراز ہیں کہ:بڑی مختصر مدت میں اردو ادب کے افق پر بھرپور توانائی کے ساتھ اپنی شخصیت اور شاعری کے ساتھ چھا جانے والے شاعر کا نام ہے توقیر احمد شریفی۔’’جاگتی نیند‘‘ ان کے فکری سفر کا نقش ثانی ہے جو نقش اول ’’یاد کے کنارے‘‘ کا تسلسل بھی لیکن آنے والی ان دیکھی دنیاؤں کو نوید دینے والے اشعار کے باوصف واضح فرق کی بشارت بھی دے رہا ہے۔ غزل میں نئے موضوعات‘ نئی لفظیات اور انھیں انتہائی خوبصورتی سے برتنے کا ہنر توقیر احمد شریفی کو خوب آتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی ہر نئی غزل ا یک مختلف نوع کی تروتازگی کی حامل ہوتی ہے اور قاری پر غنائیت سے لبریز تاثر چھوڑنے کے علاوہ فکر کے دریچوں کو بھی وا کرتی ہے۔ کسی شاعر کے لے سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ اس کا لہجہ شناخت ہونے لگے اور توقیر شریفی نے اپنی ریاضت سے یہ منزل سر کر لی ہے۔

میرے حد درجہ محترم اور قریبی رفیق فرحت عباس شاہ‘ اس شاعری کے متعلق کیا لکھتے ہیں۔ ذرا ملاحظہ فرمایئے:توقیر شریفی اپنی طبع کے نایاب لوگوں میں سے ہیں اور ان کے شخصی اوصاف ان کی شاعری میں بھی نظر آتے ہیں۔ صاف شفاف مصرعے‘ دھیمی آنچ پر پورے پکے ہوئے شعر اور کانوں میں رس گھولتی مترنم غزلیں قاری کوگیتوں کی طرح گلے سے لگا کے ہلکورے دیتی ہیں۔ شریفی صاحب کا تقریباً ہر شعر کسی بھی قسم کے ابہام سے پاک اور پہلی قرأت میں سمجھ آنے والا کام ہے۔شریفی صاحب نے اعلیٰ معیار کی غزلیں لکھی ہیںجن کی سب تعریف کرتے ہیں۔

غلام حسین ساجد نے کیا خوب رقم کیا ہے: ’’جاگتی نیند‘‘ ایک قابل فکر استعارہ ہے جو کئی فکری اور نفسیاتی مفاہیم کا نقیب ہے۔ یہ اس عہد کے انتشار ‘ خوف اور عدم تحفظ کی علامت بھی ہے اور ظاہر کے بطن میں چھپتے ہوئے وجودی تجربے کی بھی۔ یہ شعور اور لا شعور کے بیک وقت کارفرما ہونے اور ان کے مقام اتصال کا مظہر ہی نہیں۔ آج کے خدشات کا کنایہ بھی ہے۔ اسی طرح شاعری ہمارے عہد کے فکری اثمار کا گنجینہ ہے۔

ہاں ایک حددرجہ دقیق نکتہ بھی عرض ہے ۔ شریفی صاحب‘ اپنے سب سے بڑے نقاد خود ہیں۔’’اپنے جیسی باتیں‘‘ کے آخر میں فرماتے ہیں۔ میں خود کو اپنا سب سے بڑا ناقد سمجھتا ہوں اور اس معاملے میں خاصے بے رحم واقع ہوا ہوں کہ ایک آدھ خیال کیا دل نہ مانے تو پوری غزل کو بھی سپرد آتش کرنے میں دیرنہیں لگاتا۔ احباب کی منفی یا مثبت تنقید اور تجویز کو خوش دلی سے قبول کرتا ہوں۔ مگر خود بنا مانگے مشورہ دینا رائے کی فضول خرچی گردانتا ہوں۔ اپنی دوسری شاعری تصنیف احباب کے بہت زیادہ مجبور کرنے پر لانے کا فیصلہ کیا وگرنہ میری خود احتساب طبیعت شاید کبھی کسی تصنیف کی اشاعت کی اجازت دیتی ہی نہ۔’’جاگتی نیند‘‘ میرے اپنے ہاتھوں بہت بے رحمانہ احتسابی عمل سے گزری ہے ۔ امید واثق ہے احباب اس تصنیف کو شرف قبولیت بخشیں گے۔اب ذرا ‘ اس کتاب کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:

مستطیل سوچوں سے دائرہ نکالوں گا

چھان کر لکیروں کو حاشیہ نکالوں گا

رات مجھ کو بخشے گی نیند سے فراغت جب

خواب خوب آنکھوں سے مشغلہ نکالوں گا

کچھ اثر تو ہو گا ہی‘ گھونٹ گھونٹ پینے سے

دھیرے دھیرے اندر کا پارسا نکالوں گا

…………

ایسی تعبیر لکھی خواب کو برباد کیا

دل کو ارکان مسرت سے بھی آزاد کیا

اپنے پہلو میں بچھا کر تری ہر یاد کا خواب

ہم نے تعبیر محبت کو بھی افتاد کیا

بس وہی اسمِ محبت ہی مجھے یاد رہا

گرچہ اس دل نے تو ہر نام کو فریاد کیا

…………

وہ آئے گا تو مجھے کیسے ڈھونڈ پائے گا

بچا کہاں ہوں میں خود کو نثار کرتے ہوئے

عجب طرح سے ہوا میری ذات کا سودا

کہ جاں کا مول لگا ہے ادھار کرتے ہوئے

اسی لیے تو نہ شہرہ مرے سخن کا ہوا

فکر میں شام ہوئی روزگار کرتے ہوئے

…………

کہیں بھی نیند کے زیر اثر نہیں ہوتا

وہ ایک خواب جو سو کر بسر نہیں ہوتا

ترِی گلی میں فقط حاضری کو آیا ہوں

وگرنہ میرا ادھر سے گزر نہیں ہوتا

نگار ذات بتاتی ہے عمر بھر جس کو

وہ ایک پل کبھی بار دگر نہیں ہوتا

صلیب وقت پہ کھینچا گیا ملال ہوں میں

کہ روز مرتا ہوں لیکن امر نہیں ہوتا

…………

قرطاس پہ الفاظ سجانے نہیں آتے

ہم کو غم ہجراں کے فسانے نہیں آتے

جذبات کے دریا میں سمندر سا تلاطم

پتوار یہاں دل کو چلانے نہیں آتے

یہ دشت ہوس خوئے ندامت سے تہی ہے

بادل بھی یہاں اشک بہانے نہیں آتے

…………

اونچے مکاں سے نیچے اتارا گیا مجھے

کتنے ہی نام دے کے پکارا گیا مجھے

پہلے تو کہہ دیا کہ زمانہ ترِا ہوا

جینے لگا تو ہر گھڑی مارا گیا مجھے

اول تو دھول پھانک کے یہ زندگی ملی

پھر روز پل صراط پہ وارا گیا مجھے

…………

کہنے کو مکیں ہے نہ کوئی اس کا مکاں ہے

ساکن جو میرے دل میں غریبی کا دھواں ہے

کس حال میں رکھا ہے مجھے کاتب تقدیر

جیون کا یہ دوزخ ہے کہ یوسف کا کنواں ہے

میں کتنے زمانوں سے اسے ڈھونڈ رہا ہوں

وہ شخص جو سانسوں میں کہیں میری نہاں ہے

…………

اپنی سوچوں سے عداوت نہیں کرنی مجھ کو

ایسی بے فیض مشقت نہیں کرنی مجھ کو

میں کسی اور کا ہونے دوں اسے ‘ ناممکن !

عشق میں ایسی سخاوت نہیں کرنی مجھ کو

جس کے دھوکے میں دہکتا ہوا انگار چھوا

اس رخ گل سے شکایت نہیں کرنی مجھ کو

…………

عہد ترک عشق یوں رسوا ہوا

وہ ہوا میرا نہ میں اس کا ہوا

کر چکے اس در پہ فریادیں بہت

پر وہ دروازہ نہ ہم پر وا ہوا

حلقہ یاراں نے چہرہ پڑھ لیا

پھر بھی وہ پوچھا کیے یہ کیا ہوا

آخر میں ‘ برادرم فرحت عباس شاہ کے الفاظ نظر ِقلم کرتا ہوں۔میں اس کتاب کی تخلیق پر محترم دوست اور جان من توقیر شریفی صاحب کو مبارک باد دیتا ہوں کہ ایسی کتابیں جن سے ادب اور لکھاری دونوں کی توقیر افزائی ہو نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیں۔