معاشی استحکام کیلیے نظر انداز کیا جانے والا ہم ترین پہلو

معاشی استحکام کیلیے برآمدات، ترسیلات زور اور بیرونی معانوت کے علاوہ یرملکی کرنسی ذخائر اہمیت بہت زیادہ ہے


احتشام مفتی October 17, 2026

پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششیں اکثر برآمدات، ترسیلاتِ زر اور بیرونی مالی معاونت کے گرد گھومتی رہتی ہیں۔ تاہم ایک اہم پہلو جسے اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے وہ ملکی بینکاری نظام میں موجود غیر ملکی کرنسی ذخائر ہیں۔

ادائیگیوں کا دباؤ اور شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں یہ ذخائر صرف صارفین کی بینکاری پراڈکٹ نہیں بلکہ قومی معیشت کے لیے ایک اسٹریٹجک بفر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ فارن کرنسی ڈپازٹس بیرونی جھٹکوں کے خلاف حفاظتی ڈھال فراہم کرتے ہیں۔ جب انہیں ریگولیٹڈ بینکوں میں رکھا جاتا ہے تو یہ زرمبادلہ کی لیکویڈیٹی کو بہتر بناتے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتے ہیں اور مہنگے قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے برعکس، جو اتار چڑھاؤ کا شکار ہوسکتی ہے، FCDs خصوصاً سمندر پار پاکستانیوں، برآمد کنندگان اور غیرملکی روابط رکھنے والے اداروں کی وجہ سے مستحکم ہوتے ہیں کیونکہ یہ ملک کے ساتھ طویل المدتی معاشی اور جذباتی تعلقات میں جڑے ہوتے ہیں۔

میکرو اکنامک استحکام کے علاوہ غیر ملکی کرنسی ذخائرمالیاتی نظام کی اس صلاحیت کو بھی نمایاں کرتے ہیں جو تجارت، سرمایہ کاری اور سرحد پار مالی سرگرمیوں کو سہارا دیتی ہے۔ درآمدات، برآمدات اور خدمات سے وابستہ کاروباروں کو غیرملکی کرنسی تک فوری اور براہ راست رسائی حاصل ہوتی ہے، جس سے نہ صرف کرنسی کی تبدیلی کے اخراجات میں کمی آتی ہے بلکہ شرح مبادلہ کے اتار چڑھاؤ سے جڑے خطرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے FCDs قابل اعتماد مالی رابطے کا ذریعہ ہیں جو زر کی قدر کو محفوظ رکھتے ہوئے پاکستان کے مالیاتی نظام کے ساتھ مسلسل اور مضبوط تعلق برقرار رکھتے ہیں۔

ایف سی ڈیز کی حقیقی افادیت کا انحصار صرف معاشی جواز پر نہیں بلکہ اعتماد، پالیسی کا تسلسل اور عملی سہولت پر بھی ہے۔ ماضی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور غیریقینی صورتحال نے ڈپازٹرز کی رسائی، شفافیت اور خدمات کے معیار کے حوالے سے حساسیت کو بڑھادیا ہے۔

اس تناظر میں ریگولیٹرز اور بینکوں دونوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پالیسی کے استحکام، پیش گوئی اور صارفین کے اعتماد کو ہر سطح پر یقینی بنائیں۔

FCDs کو غیرفعال بچت کے ذریعے کے بجائے فعال اور مربوط مالیاتی ٹول میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے ڈیجیٹل رسائی، شفاف اور معقول فیس اسٹرکچر، عالمی سطح پر قابل قبول استعمال اور بین الاقوامی لین دین کی سہولت ان فنڈز کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

جب صارفین غیرملکی کرنسی کو فعال طور پر استعمال کرنے کے قابل ہوتے ہیں تو وہ غیر رسمی یا آف شور متبادل راستوں کی طرف جانے کے بجائے انہیں ملک کے اندر رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس تبدیلی کی ایک اہم وجہ ڈیبٹ کارڈز کو غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔ ایسے ذرائع اکاؤنٹ ہولڈرز کو بین الاقوامی ادائیگیوں، بیرون ملک نقد رقم نکالنے اور سرحد پار اخراجات کو بغیر کسی رکاوٹ کے منظم کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جس سے غیرملکی کرنسی بینکاری صارفین کی توقعات کے عین مطابق ہوجاتی ہے۔

اس تناظر میں نجی بینک نے بروقت اور فیصلہ کن قدم اٹھایا۔ غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کے ساتھ منسلک ڈیبٹ کارڈز کا اجراء نہ صرف صارفین کے لیے سہولت اورعملی افادیت میں اضافہ کرتا ہے بلکہ پاکستان کے ریگولیٹڈ بینکاری نظام میں غیرملکی زرمبادلہ کو برقرار رکھنے کے وسیع تر قومی مقصد کو تقویت بھی دیتا ہے۔ 

ایف بی ایل کا صارف مرکوز حل اور میکرو اکنامک بصیرت کو یکجا کرنے کا مقصد اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ جدت اور مالی استحکام ایک دوسرے کو مستحکم کرسکتے ہیں۔ پاکستان سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی، برآمدات میں اضافہ اور ترسیلات زر کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، ایسے میں غیر ملکی کرنسی ذخائرمالیاتی استحکام کا بنیادی ستون ہوں گے۔ پائیدار ترقی کے لیے نہ صرف مستحکم ریگولیٹری ماحول ضروری ہے بلکہ بینکوں کے لیے جدت بھی ناگزیر ہے۔ ڈیجیٹل رسائی، شفافیت اور استعمال میں آسانی کو یکجا کرنے والے حل ان اسٹریٹجک ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو عارضی بفرز کے طور پر نہیں بلکہ اسٹریٹجک قومی اثاثے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ محتاط پالیسی سازی کوعملی بینکاری جدت، جیسے فیصل بینک کے ڈیبٹ کارڈ سلوشن کے ساتھ جوڑ کر بینکنگ سیکٹر ان رقوم کو دیرپا اعتماد، معاشی استحکام اور طویل المدتی اقتصادی ترقی میں بدل سکتا ہے۔

تحریر کردہ
احتشام مفتی
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔