اسرائیل; عرب دنیا کے صحافیوں کی جاسوسی کا سب سے خطرناک اسکینڈل سامنے آ گیا

یہ جاسوسی اشتہارات 1 لاکھ 20 ہزار ویب سائٹس اور 75 ہزار موبائل ایپس پر چلائے گئے


ویب ڈیسک October 18, 2026
ہائی ٹیک کمپنیوں نے جادوگرنی کی خدمات حاصل کرلیں! ۔ فوٹو : فائل

اسرائیلی کمپنیوں نے اشتہارات کے ذریعے عرب میڈیا خصوصاً الجزیرہ کے صحافیوں کے فونز اور کمپیوٹرز ہیک کر لیے۔

یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے مشہور سائبر ریسرچ ادارے سٹیزن لیب نے انکشاف کیا ہے کہ 2024 اور 2025 کے دوران اسرائیلی ایڈورٹائزنگ فرم نے عام اشتہارات کے ذریعے "زیرو کلک"* جاسوسی کا جال بچھایا۔

الجزیرہ کی ٹیکنیکل ٹیم نے 2024 میں اپنے سسٹم میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی تھی، جس کے بعد انہوں نے سٹیزن لیب کو تحقیقات کے لیے بلایا۔ الجزیرہ نے اسے *"پریس فریڈم پر حملہ"* قرار دیتے ہوئے مکمل آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ اس حملے کے لیے صحافیوں کو کسی لنک پر کلک کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑی۔

جیسے ہی موبائل یا کمپیوٹر پر ایک عام سا اشتہار جیسے موبائل فون یا ایئربڈز کا اسکرین پر آیا، اسی لمحے اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ مہلک اسپائی ویئر ڈیوائس میں گھس گیا۔

اس ٹیکنالوجی کو ماہرین نے ایڈ فکشن کا نام دیا ہے۔ یہ دنیا میں پہلی بار ہے کہ آن لائن اشتہارات کو ہتھیار بنا کر صحافیوں کو ہیک کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق الجزیرہ کے کم از کم 45 صحافیوں اور اسٹاف کے کمپیوٹرز میں یہ وائرس داخل ہوا۔ ایک بار داخل ہونے کے بعد ہیکرز تمام فائلز، دستاویزات، ای میلز اور پاس ورڈز چوری کر سکتے تھے-

اس کے ذریعے ہیکر کو کی بورڈ پر ٹائپ ہونے والا ہر لفظ،  اسکرین شاٹس، مائیک،  کیمرے،  واٹس ایپ اور دیگر میسیجز تک بھی رسائی مل جاتی ہے۔

تحقیق میں انکشاف ہوا کہ یہ جاسوسی اشتہارات 1 لاکھ 20 ہزار ویب سائٹس اور 75 ہزار موبائل ایپس پر چلائے گئے۔

نشانہ صرف عرب صحافی نہیں تھے بلکہ نیٹو، اقوام متحدہ، پینٹاگون، یورپی کمیشن، عالمی عدالت انصاف (جس نے نیتن یاہو کے وارنٹ جاری کیے) بھی اس جال میں آئیں۔ فلسطینی علاقوں میں تو تقریباً ہر ویب سائٹ پر یہ جاسوسی اشتہار موجود تھا۔

گوگل نے Discover-Tech کو اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر بلیک لسٹ کر دیا ہے جبکہ یورپی اشتہاری ادارے نے بھی اسے معطل کر دیا ہے۔

یاد رہے 2020 میں بھی 36 الجزیرہ صحافیوں کے فون اسرائیلی NSO گروپ کے Pegasus سافٹ ویئر سے ہیک ہوئے تھے۔