مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب نے درخواست کی تو مصر حوثی ملیشیا کے حملوں کے خلاف مملکت کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق السیسی نے ہفتے کو مصری ملٹری اکیڈمی کی تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو نقصان پہنچنے یا اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں مصر خاموش نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت کی ہدایت اور درخواست پر دفاعی تعاون کیا جاسکتا ہے، تاہم اس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہوگی۔
مصری سرکاری میڈیا کے مطابق صدر السیسی کی درخواست پر پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس اتوار کو طلب کیا گیا، جس میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے ممکنہ تعاون پر غور کیا جانا تھا۔
مصر 2015 میں یمن میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد میں شامل ہوا تھا، تاہم اس کا کردار زیادہ تر بحیرہ احمر میں بحری راستوں کے تحفظ تک محدود رہا ہے۔ حوثی حملوں سے مصر کے معاشی مفادات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کے مطابق 2023 میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملے شروع ہونے کے بعد سے نہر سوئز کو تقریباً 11 ارب ڈالر کی آمدنی کا نقصان ہوا ہے۔
دوسری جانب ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش دہرائی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر کہا کہ اس مسئلے کا پائیدار حل ایک جامع سیاسی عمل میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کو مشترکہ طور پر سلامتی کے لیے کام کرنا چاہیے۔
سعودی عرب ایران پر حوثیوں کی حالیہ کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کا الزام عائد کرتا ہے، تاہم تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔