ڈاکٹروں کا غزہ میں علاج کیلیے 2 کروڑ اور 2 ایمبولینس دینے کا اعلان

اسرائیل جارحیت کے دوران خصوصاً مساجد، اسکولز، اسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کو نشانہ بنایا گیا ہے


Staff Reporter August 30, 2014
سینئر سرجنز پر مشتمل ٹیم ستمبر میں غزہ میں طبی خدمات انجام دے گی، صدر فیما ڈاکٹر تنویر زبیری کی صحافیوں سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) نے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے اسپتالوں کی تعمیرنواورطبی سہولت کی بحالی کے لیے 2 کروڑکی امداد اور 2 ایمبولینس عطیہ کرنے کااعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پیما کے سینئر سرجنز پر مشتمل ٹیم ستمبر میں غزہ میں طبی خدمات انجام دیگی۔

یہ بات پیماکے مرکزی عہدیداراور ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم فیما کے صدر ڈاکٹر تنویر الحسن زبیری، ڈاکٹر طارق اسماعیل، ڈاکٹر انتظار حسین بٹ، ڈاکٹر فخر الزمان اور ڈاکٹر عمران ظفر نے پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ڈاکٹرزبیری نے کہا کہ پیما اور فیما اسرائیلی جارحیت کے فوراً بعد سے غزہ میں میڈیکل ریلیف مہیا کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک کی اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشنز کے تعاون سے ایک ملین ڈالرز مالیت کے امدادی سامان پر مشتمل 23 ٹرک غزہ پہنچائے جاچکے ہیں جن میں 4 ایمبولینس، دوائیں، سرجیکل آلات اور دیگر اشیائے ضرورت شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد اب غزہ میں تباہ شدہ میڈیکل اسٹرکچر کی بحالی کا کام شروع کیا جارہا ہے جس کے دوران پاکستانی ڈاکٹروں سمیت دنیا کے سینئر ڈاکٹرز کی ٹیمیں غزہ میں وزارت صحت کے تحت مختلف تخصیصی شعبوں میں ڈاکٹرز کو تربیت دیںگی، جدید آلات سے مزین 20 عدد ایمبولینس غزہ منسٹری آف ہیلتھ کو عطیہ کی جائیں گی جس میں پاکستان سے 2 ایمبولینس کی فراہمی بھی شامل ہے۔

غزہ ہیلتھ آف منسٹری کی ضروریات کے مطابق دوائیں، سرجیکل آلات اوردیگر سامان بھجوایا جائے گا، 5 عدد ایمرجنسی ہیلتھ کٹس بھجوائی جائیں گی جو کہ تین ماہ تک 50 ہزار مریضوں کے لیے استعمال میں لائی جا سکیں گی، غزہ میں تباہ شدہ ہیلتھ اسٹرکچر کی بحالی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور کوششوں کی ضرورت ہے جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے پیما نے لائحہ عمل تیار کیا، ڈاکٹر زبیری نے مزید کہا کہ حالیہ اسرائیل جارحیت کے دوران خصوصاً مساجد، اسکولز، اسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔