نیتن یاہو حکومت کو امریکی تنقید سے بچانے کے لیے سفارتی رپورٹس میں تبدیلیاں، نیویارک ٹائمز کا انکشاف

رپورٹ کے مطابق ان اقدامات سے نیتن یاہو حکومت کو فائدہ پہنچنے کا امکان تھا


ویب ڈیسک October 18, 2026

واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کے ایک اعلیٰ مشیر نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو واشنگٹن کی تنقید سے بچانے کے لیے سفارتی رپورٹس میں مبینہ طور پر تبدیلیاں کیں، بعض رپورٹس روکیں اور ان کی اشاعت میں تاخیر کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کے مشیرِاعلیٰ ڈیوڈ ملسٹین نے اپریل 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے متعدد اہم معاملات پر سفارتی رپورٹس کے عمل میں مداخلت کی۔ رپورٹ کے مطابق ان اقدامات سے نیتن یاہو حکومت کو فائدہ پہنچنے کا امکان تھا۔

نیویارک ٹائمز کی تحقیق میں اسرائیلی بستیوں کے منصوبوں، فلسطینی علاقوں میں آبادکاروں کے مبینہ تشدد اور غزہ کی تعمیرِنو سے متعلق امریکی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان معاملات پر سفارتی معلومات اور رپورٹس کو روکنے یا ان میں تبدیلیوں سے متعلق سوالات اٹھے ہیں۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ امریکی کانگریس کے ارکان نو فلسطینی نژاد امریکی شہریوں کی ہلاکتوں کے معاملے میں جوابدہی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اخبار کے مطابق ملسٹین نے اس معاملے سے متعلق امریکی سفارت خانے کی رپورٹ بھی روک دی، جس سے قانون سازوں کی جانب سے مزید تحقیقات کی کوششیں متاثر ہوسکتی تھیں۔