وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبرپختون خوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مجبوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت خاموش تماشائی بن کر تباہی نہیں دیکھ سکتی تھی، کیونکہ ایسا کرنا مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوتا۔ ان کے مطابق سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی دعوت دی گئی، لیکن جواب میں لانگ مارچ کی دھمکیاں سامنے آئیں۔
دوسری جانب تائدہ سیکٹر، اپر کرم اور غوز گڑھی میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاک فوج نے مؤثر کارروائی کی۔ اپر کرم میں توپ خانے کے ذریعے ٹاپسر پوسٹ اور شپولا بیس کیمپ کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ سرحد پار سے مسلح حملوں کا بنیادی مسئلہ واضح ہے، کسی بھی ملک کی خودمختاری کو مسلسل خطرے میں ڈال کر پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔
کسی ریاست کی سلامتی کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب اس کی سرحدوں پر دشمن کی سرگرمیاں اور اس کے اندر سیاسی اختلافات ایک دوسرے سے الجھنے لگیں۔ ایسے حالات میں فیصلوں کی اہمیت محض حکومتی اختیار تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ان کے اثرات شہریوں کی جان، قومی وحدت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل تک پھیل جاتے ہیں۔
خیبرپختون خوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبائی حکومت کے خاتمے سے پیدا ہونے والی صورت حال اسی نوعیت کا ایک سنجیدہ معاملہ ہے، جسے صرف اقتدار کی کشمکش یا جماعتی رقابت کے آئینے میں دیکھنا قومی مسئلے کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے طویل عرصے سے بھاری جانی و مالی قیمت ادا کی ہے۔ فوجی جوانوں کی قربانیاں، شہریوں کی شہادتیں، تباہ ہونے والے گھر اور اجڑتے خاندان اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ بدامنی کوئی سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ ایک ایسا عفریت ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیتا ہے۔
لہٰذا خیبرپختون خوا میں حکومتی تبدیلی اور ہنگامی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ ریاست شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے، دہشت گردی کے اسباب کا سدباب کرنے اور آئینی نظام کو مضبوط رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی قربت، مذہبی و ثقافتی رشتوں اور تجارتی مفادات کے باوجود سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات پاکستان کے اعتماد کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔
پاکستان کا مطالبہ رہا ہے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو، لیکن اگر مسلح گروہوں کو سرحدی علاقوں میں نقل و حرکت اور پناہ کے مواقع میسر رہیں تو محض بیانات سے صورت حال تبدیل نہیں ہوسکتی۔ اس کا حل ایک مربوط حکمت عملی میں ہے، جس میں سرحدی نگرانی، خفیہ معلومات کا تبادلہ، سفارتی رابطے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات شامل ہوں۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ اپنے دفاع کے حق پر سمجھوتا کیے بغیر ایسے راستے بھی کھلے رہیں جن سے کشیدگی میں کمی اور قابلِ تصدیق تعاون کی گنجائش پیدا ہو۔ دہشت گردی کا مقابلہ واضح اہداف، درست معلومات اور قانون کی بالادستی سے کیا جاتا ہے ۔
خیبرپختون خوا میں تحریک انصاف کی سابقہ حکومتوں کے کردار پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ گزشتہ تیرہ برس کے دوران صوبے کو نقصان پہنچا اور دہشت گردی سے نمٹنے میں مطلوبہ موثریت دکھائی نہیں گئی۔
فراہم کردہ اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ ماضی میں افغان طالبان کو صوبے میں آنے اور آباد ہونے کی اجازت دی گئی، جس سے سلامتی کے خدشات پیدا ہوئے۔ ایسی باتوں کی نوعیت سنگین ہے۔
کسی انتظامی فیصلے، پالیسی یا سرکاری سرپرستی کے نتیجے میں دہشت گرد عناصر کو فائدہ پہنچا تو اس کے ذمے داروں کا تعین شواہد، دستاویزات اور غیرجانب دار تحقیقات ہونی چاہیے۔ کسی جماعت سے وابستگی نہیں کسی کو قانون سے بالاتر کرتی ہے۔ قومی سلامتی کے معاملے میں انصاف کا اصول عوام کا اعتماد قائم رکھ سکتا ہے۔
اس بحث میں ایک بنیادی نکتہ یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کو جماعتی وفاداریوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی فوج اور عوام نے اس جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کی ملکیت نہیں۔
دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ، بازاروں میں ہونے والے دھماکوں کا خوف اور سرحدی اضلاع کے باسیوں کی بے یقینی پورے معاشرے کا مشترکہ مسئلہ ہیں، اگر بعض سیاست دانوں کے بیانات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کسی مخصوص جماعت کے خلاف سیاسی اقدام ہے یا صوبے کے وسائل پر قبضہ کیا گیا ہے تو ایسے سیاسی قیادت کو ہوش مندی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
حکومتی حلقوں کوچاہیے کہ وہ سلامتی کے ہر مسئلے کو واضح شواہد اور قابلِ پیمائش نتائج کے ذریعے اپنی حکمت عملی کی افادیت سامنے لائیں۔ قومی اتحاد کا مطلب سیاسی اختلافات کا خاتمہ نہیں، بلکہ اس امر پر اتفاق ہے کہ اختلاف کی حدود آئین متعین کرے گا اور کسی بھی مسلح گروہ کو ریاستی اختیار چیلنج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ انھوں نے کبھی دہشت گردی کی حمایت نہیں کی اور اگر پارلیمنٹ سپریم ہے تو فیصلے بھی اسی فورم پر ہونے چاہییں۔ ان کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ کسی دوسرے صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو وہ اس کی مخالفت کریں گے۔
انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر دہشت گردی ایمرجنسی کی وجہ ہے تو بلوچستان میں موجود بدامنی کو کس تناظر میں دیکھا جائے گا، اور اگر تحریک انصاف کو دہشت گرد جماعت قرار دیا جاتا ہے تو اس سے مذاکرات کیوں کیے جاتے ہیں۔ ان سوالات کا جواب سیاسی نعرے بازی کے بجائے آئینی اصولوں اور حقائق کی روشنی میں دیا جانا چاہیے۔
کسی جماعت سے مذاکرات کرنا بذاتِ خود اس کے تمام اقدامات کی توثیق نہیں، کیونکہ سیاسی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔ اسی طرح کسی صوبے میں ہنگامی اقدام کی ضرورت دوسرے صوبے میں خودکار طور پر اسی اقدام کو لازم نہیں بناتی، ہر معاملے کا فیصلہ متعلقہ حالات، شواہد اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
تاہم حکومت پر یہ ذمے داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کے معیار کو واضح کرے، تاکہ مختلف صوبوں اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں امتیازی سلوک کا تاثر پیدا نہ ہو۔ ریاستی اختیار اور سیاسی آزادی کے درمیان توازن برقرار رہنا لازم ہے۔
گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات غیرمعمولی نوعیت رکھتے ہیں، ان کے نفاذ، مدت، دائرہ کار اور جائزے کے طریقہ کار کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کی استعداد میں اضافہ ہو، مقدمات کی تفتیش موثر بنائی جائے، دہشت گردوں کے مالی وسائل روکے جائیں اور مقامی انتظامیہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے قابل ہو۔
پاکستان کی مین اسٹریم پولیٹیکل پارٹیز کی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جرات مندانہ موقف لیا ہے، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی بھی ان پارٹیوں کی قیادت نے حمایت کی ہے۔
میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کا موقف درحقیقت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا موقف سمجھا جاتا ہے تاہم اس سارے معاملے میں جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمن نے جو موقف اختیار کیا ،اس پر مسلم لیگ ‘پیپلز پارٹی اور دیگر پارٹیوں کی قیادت نے تنقید کی ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کچھ عرصے سے قومی ایشوز پر جو موقف لیا ہے ،اسے قومی امنگوں کے مطابق قرار دینا خاصا مشکل کام ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی سیکیورٹی فورسز کو متنازعہ بنانا اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر اس انداز میں تنقید اور اس کی مخالفت کرنا جس کا سارا فائدہ افغانستان اور بھارت کو ہوتا ہو تو اس پر یقیناً سب کو حیرانی بھی ہو گی اور تشویش کا اظہار بھی کیا جائے گا۔
مولانا کا بیانیہ اور پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین کا بیانیہ ایک جیسا ہو گیا ہے ،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی بین السطور میں اپنی تقریر کے دوران جو کچھ کہا ‘وہ حقیقت بن کر سامنے آ رہا ہے۔
یہ بات کہنا کہ خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی کا مقصد معدنیات پر امریکی قبضہ ہے حالانکہ اس حوالے سے ان کے پاس کسی قسم کا کوئی دستاویزی ثبوت بھی موجود نہیں ہو گا۔اس قسم کی بیان بازی کو کسی طرح بھی جمہوری اقدار کے مطابق قرار نہیں دیا جاسکتا۔معدنیات ایک صوبائی معاملہ ہے، اس کے ٹھیکے وغیرہ صوبائی حکومتیں ہی دیتی ہیں۔اس میں وفاق یا اسٹیبلشمنٹ کو گھسیٹنا کسی طور بھی درست نہیں ہے۔
خیبرپختون خوا کے عوام کو سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی سہولت کاری سے درپیش ہے۔ صوبے میں مسلسل دہشت گردی کی وجہ سے تعلیم، صحت، تجارت اور روزگار کے مواقع سکڑچکے ہیں۔
جب بازار جلد بند ہوں، خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوں اور نوجوانوں کے لیے مستقبل کے راستے محدود ہوجائیںاور ایسے حالات میں بھی پی ٹی آئی‘جے یو آئی اور تحریک تحفظ آئین کے قائدین یہ کہیں کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانا جائز نہیں ہے تو اسے ایک المیہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔