مرحوم پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے چھوٹے بھائی کی کینیڈا میں ایک کنسرٹ کے دوران اسٹیج پر پستول سے فائرنگ کی نقل کرنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے بھارتی پنجاب کی انتظامیہ سے رجوع کرلیا ہے۔ تنظیم نے معاملے کی تحقیقات، بچے کے والدین کی کونسلنگ اور اس کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
’لائرز فار ہیومن رائٹس انٹرنیشنل‘ نے 17 اکتوبر کو مانسا کے ضلعی مجسٹریٹ اور ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کو تحریری شکایت جمع کرائی۔ تنظیم کے جنرل سیکریٹری نوکرن سنگھ کے دستخط سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈھائی سالہ سکھدیپ سنگھ سدھو، جسے پیار سے چھوٹا سدھو بھی کہا جاتا ہے، کو عوامی تقریبات میں ہتھیار چلانے جیسے اشاروں کی نقل کرنے کی ترغیب نہیں دی جانی چاہیے۔
شکایت کے مطابق، بچے کو 9 اکتوبر کو ٹورنٹو کے اسکاٹیا بینک ایرینا میں منعقدہ ’سائنڈ ٹو گاڈ ورلڈ ٹور‘ کے افتتاحی ہولوگرام کنسرٹ کے دوران اسٹیج پر لایا گیا تھا۔ اس موقع پر اس کے والد بلکور سنگھ اور والدہ چرن کور بھی موجود تھے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ کنسرٹ کے دوران بچے نے ہاتھ سے پستول بنانے اور فائرنگ کی نقل کرتے ہوئے ’ٹھا، ٹھا، ٹھا‘ کی آوازیں نکالیں۔ اس نے اپنے مرحوم بڑے بھائی سدھو موسے والا سے منسوب ’تھاپی‘ کا انداز بھی اپنایا، جس میں ران پر ہاتھ مارا جاتا ہے۔ تقریب کی ویڈیو اگلے روز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی۔
شکایت میں سدھو موسے والا کے قتل کے افسوس ناک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بچے کی سلامتی اور مستقبل کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ تنظیم نے حکام سے درخواست کی ہے کہ والدین کے لیے کونسلنگ کا انتظام کیا جائے اور ایسی عارضی ہدایات جاری کی جائیں جن کے تحت بچے کو عوامی اجتماعات یا دیگر مواقع پر فائرنگ کے اشاروں کی نقل کرنے سے روکا جاسکے۔
تنظیم نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد خاندان کو نشانہ بنانا یا سدھو موسے والا کی یاد کی بے حرمتی کرنا نہیں، بلکہ بچے کے تحفظ اور بہتر تربیت کو یقینی بنانا ہے۔
شکایت میں اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ ’سائنڈ ٹو گاڈ ورلڈ ٹور‘ کے تحت یکم نومبر تک کینیڈا اور امریکا کے مختلف شہروں میں مزید شوز طے ہیں۔ ان شہروں میں وینکوور، کیلگری، نیویارک، ہیوسٹن اور اوکلینڈ شامل ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ جاری دورے کے دوران بچے کی ممکنہ عوامی موجودگی کے پیش نظر حکام جلد مناسب اقدامات کریں۔